Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایکس رے مشین کا رجسٹریشن ختم، پھر بھی استعمال جاری

Updated: March 09, 2026, 11:22 AM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan

کلیان کے سرکاری اسپتال پر مریضوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کرنے کا الزام۔

Kalyan`s government-run Rukminibai Hospital. Photo: INN
کلیان کا سرکاری رکمنی بائی اسپتال ۔ تصویر: آئی این این

کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کا محکمہ صحت ایک بار پھر اپنی نااہلی اور ناقص انتظام کے باعث سرخیوں میں ہے۔ شہر کے سرکاری رکمنی بائی اسپتال میں انسانی زندگیوں کے ساتھ سنگین کھلواڑ کا انکشاف ہوا ہے جہاں ایٹمی توانائی ریگولیٹری بورڈ کے لازمی رجسٹریشن کے بغیرگزشتہ کئی برسوں سے ایکسرے مشین کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس مشین کی قانونی مدت ۲۰۲۱ ءمیں ہی ختم ہو چکی ہے مگر انتظامیہ گہری نیند سو رہا ہے۔ 
تفصیلات کے مطابق ہندوستان میں کسی بھی ایکسرے مشین کو چلانے کیلئے ایٹمی توانائی کے محکمے سے منسلک ریگولیٹری ادارے سے لائسنس لینا لازمی ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ لائسنس ۵؍ سال کے لئے کارآمد ہوتا ہے جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ مشین سے نکلنے والی شعاعیں مریضوں، ڈاکٹروں اور عملے کی صحت کیلئے مضر نہ ہوں۔ تاہم رکمنی بائی سرکاری اسپتال میں لگی مشین کا رجسٹریشن ۲۰۲۱ء میں ہی ختم ہو چکا تھا اور۵؍سال گزر جانے کے باوجود انتظامیہ نے اس کی تجدید کرانے کی زحمت نہیں کی جو کہ سراسر غیر قانونی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: تراویح سنانے والوں میں نابینا حفاظ بھی پیش پیش

اس سنگین کوتاہی کو منظر عام پر لانے والے ڈاکٹر پرشانت انگلے نے اسے انتظامیہ کی مجرمانہ لاپروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ غریب اور بے سہارا مریضوں کو تابکاری کے خطرے میں ڈالنا اخلاقی اور قانونی جرم ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ میونسپل کمشنر اس غفلت کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری طور پر مستعفی ہوں بصورت دیگر اس معاملے کو وزیر اعلیٰ تک لے جایا جائے گا۔ 
دوسری جانب کے ڈی ایم سی کی چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر دیپا شکلا نے اس کوتاہی کا اعتراف کیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے تسلیم کیا کہ ریڈی ایشن رجسٹریشن کی مدت ختم ہو چکی ہے اور اب اس کی تجدید کا عمل شروع کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ تاہم عوام یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا انتظامیہ کسی بڑے حادثے کا انتظار کر رہا تھا؟اور کیا اب تک ہونے والے نقصان کی تلافی ممکن ہے؟واضح رہے کہ قوانین کے مطابق ایسی صورت میں ایٹمی توانائی ریگولیٹری بورڈ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ متعلقہ لیب یا مشین کو فوری طور پر سیٖل کر دے اور ذمہ داروں کیخلاف سخت قانونی کارروائی کرے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK