Inquilab Logo Happiest Places to Work

حافظ شیخ محمد حسان بی ایس سی کا سالانہ امتحان دینے کے ساتھ تراویح پڑھا رہے ہیں

Updated: March 11, 2026, 10:00 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai

کماٹی پورہ کی رحمت مسجد میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ دوسری تراویح میں قرآن سناتے ہیں۔ ایک نشست میں پوراقرآن سنانے کے ہدف کو پورا کرنے کیلئے اب بھی مدرسہ جاکر دور کرتے ہیں ۔

Hafiz Sheikh Muhammad Hassan Abdul Rahman Is Busy Reciting.Photo:INN
حافظ شیخ محمد حسان عبدالرحمٰن تلاوت میں مصروف۔ تصویر:آئی این این
 ۱۹؍ سالہ حافظ شیخ محمد حسان عبدالرحمٰن دوسرے سال کا ’بی ایس سی آئی ٹی‘ (بیچلر آف سائنس اِن انفارمیشن ٹکنالوجی) کا سالانہ امتحان دے رہے ہیں لیکن اسے تراویح نہ سنانے کا جواز نہیں بنایا۔محمد حسان جب ساتویں جماعت میں وی ٹی انجمن میںزیر تعلیم تھے تب انہوں نے ۲۰۱۸ء میں قرآن شریف حفظ کرنا شروع کیا تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ حفظ شروع کرنے کے بعد ان کے ۹؍ پارے حفظ ہوئے تھے کہ کورونا وباء پھیل گئی اور لاک ڈائون لگ گیا تھا جس کی وجہ سے مدرسہ و مساجد بند ہوگئے تھے۔ ۶؍ مہینوں تک وہ صرف پرانے سبق کا دور کرتے رہے۔ اس وقفہ کے بعد انہوں نے اپنے والد کی دکان میں ہی حفظ کا نظم کیا جہاں مدرسہ دوبارہ شروع ہونے تک ان کے استاد فجر بعد آکر سبق سن کر نیا سبق دے جایا کرتے تھے۔
انہوں نے اپنے گھر کے قریب واقع مدرسہ فلاح دین سے مولانا عبدالرحیم ابیض سلطانپوری کے پاس سے ۲۰۲۲ء میں اپنے سے ایک سال بڑے بھائی عفان شیخ کے ساتھ حفظ مکمل کیا۔ یہ دونوں بھائی اپنے خاندان کے پہلے حافظ ہیں۔ ان کے والد دعوتِ دین سے وابستہ ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے بچوں کو قرآن شریف حفظ کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ گھر میں ابتداء سے دین کا ماحول ملنے کی وجہ سے جب ان دونوں بھائیوں سے قرآن کریم حفظ کرنے کو کہا گیا تو وہ دونوں خوشی خوشی رضا مند ہوگئے۔
اگرچہ ان کا حفظ مکمل ہوچکا ہے لیکن اب بھی وہ محمد حاجی صابو صدیق ٹیکنیکل اسکول کے سامنے پولیس کمپائونڈ واقع موتی مسجد میں مولانا عبدالرحمٰن اعظمی کے پاس قرآن شریف کا دور کررہے ہیں تاکہ انہیں قرآن پاک اتنا پکا یاد ہوجائے کہ وہ ایک نشست میں مکمل قرآن شریف سنا سکیں۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کیلئے جاری دور میں وہ ایک نشست میں ۵؍ پارے سنانے لگے ہیں۔ اس دوران ان کے بڑے بھائی عفان فائن ٹچ مدرسے سے عالمیت کر رہے ہیں۔
حافظ حسان اپنے بڑے بھائی کے ساتھ دو ٹانکی کے قریب کماٹی پورہ تیسری گلی میں واقع رحمت مسجد میں گزشتہ دو برسوں سے تراویح پڑھا رہے ہیں۔ وہ اب بھی زیر تعلیم ہیں۔ وہ مہاراشٹر کالج میں بی ایس سی آئی ٹی کے دوسرے سال کا سالانہ امتحان بھی دے رہے ہیں اور تراویح بھی پڑھا رہے ہیں۔
امتحان اور تراویح کی ذمہ داری ایک ساتھ آنے کی وجہ سے انہیںاپنے دن رات کے اوقات کو بہت سنبھال کر استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔ وہ فجر سے قبل ہی قرآن کریم کی تلاوت شروع کردیتے ہیں۔
صبح میں ۸؍ بجے سے ۹؍ بجے کے درمیان امتحان دینے کے بعد ظہر تک آرام کرتے ہیں۔ اس کے بعد ۲؍ بجے سے ۴؍ بجے تک موتی مسجد میں دور کرتے ہیں۔ اس کے بعد کچھ دیر آرام کرنے کے بعد نماز عصر تک یا مزید کچھ وقت آئندہ دن کے امتحان کی تیاری کرتے ہیں۔ 
 
 
یہ دونوں حفاظ بھائی رحمت مسجد میں دوسری تراویح پڑھاتے ہیں جو شب ۱۰؍ بج کر ۴۵؍ منٹ پر شروع ہوتی ہے اس لئے عصر کے بعد سے جتنی مرتبہ موقع ملتا ہے تراویح سنانے کیلئے دور کرتے رہتے ہیں۔حافظ شیخ محمد حسان کے مطابق ’’جب تراویح پڑھانے کا موقع ملا تو ابتدائی ۱۰؍ سے ۱۵؍ دنوں تک کافی گھبراہٹ ہوتی تھی لیکن پھر گھبراہٹ ختم ہوگئی اور سکون سے تراویح پڑھانے لگا۔‘‘
 
 
ان کا کہنا تھاکہ’’ اب محسوس ہوتا ہے کہ جس کیلئے بھی ممکن ہو اسے قرآن کریم ضرور حفظ کرنا چاہئے اور اللہ ان کی نسلوں میں اس سلسلے کو برقرار رکھے۔ اس کے علاوہ حافظ ہونے کی وجہ سے کبھی کالج میں، کبھی کلاسیز میں کہیں نہ کہیں سال بھر بھی امامت کا موقع ملتا رہتا ہے جس کی وجہ سے بڑا اطمینانِ قلب میسّر آتا ہے۔‘‘

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK