Inquilab Logo Happiest Places to Work

تنجاوور:جنوبی ہندوستان کا تاریخی اور ثقافتی یادگاروں کا خزانہ

Updated: March 11, 2026, 11:00 AM IST | Mohammed Habeeb | Mumbai

تمل ناڈو کے اس شہر میں کئی شاندار اور تاریخی اہمیت کے محل اور قلعے موجود ہیں جو قدیم دور کی یاد دلاتے ہیں،یہاں ملک کی قابل ذکر لائبریری بھی ہے۔

Vijayanagar Fort.Photo:INN
وجے نگر کا قلعہ۔ تصویر:آئی این این
تنجاوور، جسے تنجور بھی کہا جاتا ہے، تمل ناڈو کا ایک اہم شہر ہے جو جنوبی ہند کے مذہب، فن اور تعمیرات کا مرکز مانا جاتا ہے۔ کاویری ندی کے ڈیلٹا میں واقع یہ شہر تمل ناڈو کے سب سے بڑے چاول پیدا کرنے والے علاقوں میں سے ایک ہے، اسی لیے اسے ’تمل ناڈو کا چاول کا پیالہ‘ کہا جاتا ہے۔
تنجاوور محض مندروں اور یادگاروں کا شہر نہیں،یہاں آنے پر آپ سرسبز دھان کے کھیتوں کا دلکش نظارہ بھی کریں گے، عالمی شہرت یافتہ تنجاوورکی پینٹنگز دیکھیں گے، اور مجسمہ سازی، فن، لذیذ کھانے اور مہمان نوازی کا ایسا تجربہ حاصل کریں گے جو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہو۔
وجے نگر قلعہ 
تنجاوور شہر سے تقریباً۲؍کلومیٹر کے فاصلے پر واقع وجے نگر قلعہ یہاں کے معروف تاریخی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ اس قلعے کی دلکش طرزِ تعمیر ۱۵۵۰ءکے آس پاس نائک اور مراٹھا حکمرانوں کے دور میں تعمیر کی گئی تھی۔ قلعے کے اندر تنجور محل، سنگیتا محل، ایک آرٹ گیلری اور ایک لائبریری بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ شیو گنگا باغ بھی اسی قلعے کےاحاطے میں واقع ہے جو اس جگہ کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ یہ مقام خاص طور پر جوڑوں کے لیے بھی ایک بہترین سیاحتی جگہ سمجھا جاتا ہے اور تھنجاور کی سیر کے دوران اسے ضرور دیکھنا چاہیے۔
سرسوتی محل لائبریری
برٹانیکا انسائیکلوپیڈیا نے سرسوتی محل لائبریری کو’ہندوستان کی سب سے قابلِ ذکر لائبریری‘ قرار دیا ہے۔ یہ دنیا کی چند قرونِ وسطیٰ کی باقی بچ جانے والی لائبریریوں میں سے ایک ہے جہاں کتابوں کے علاوہ فن پارے، نقشے اور قدیم مخطوطات بھی موجود ہیں۔
گنگائی کونڈا چولا پورم
یہ مقام اپنی شاندار طرزِ تعمیر کے باعث بے حد مشہور ہے۔ اسے چولا سلطنت کے دورِ حکومت میں تعمیر کیا گیا تھا، جسے ہندوستان کی عظیم ترین سلطنتوں میں شمار کیا جاتاہے۔ گنگائیکونڈا چولاپورم تقریباً۲؍ صدیوں تک چولا سلطنت کا دارالحکومت رہا۔ یہ قدیم دور کی ایک شاندار تعمیرات ہے اورتنجاوور کی تاریخ میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اسے چولا بادشاہ راجندر چولا نے پالا خاندان پر اپنی فتح کی یادگار کے طور پر تعمیر کروایا تھا۔ آج کے دور میں یہ شہر ایک چھوٹے سے گاؤں میں تبدیل ہو چکا ہے۔
تنجاور رائل پیلس 
مقامی طور پر اسے’ارانمنائی‘بھی کہا جاتا ہے۔ اس محل کو تنجاور کے نائک حکمرانوںنے تعمیر کروایا تھا۔ اس عظیم الشان محل کے احاطے میں آج بھی شاہی خاندان رہائش پذیر ہے، تاہم اس کمپلیکس میں کئی اور دلچسپ عمارتیں بھی موجود ہیں۔ ان میں ملکہ کا صحن،صدر محل پیلس  اور دربارہال خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ یہ محل ایک تاریخی یادگار کی حیثیت بھی رکھتا ہے، جہاں ایک گیلری موجود ہے جس میں چولا دور کےنادر کانسے کے مجسموںکا شاندار ذخیرہ محفوظ ہے۔ تنجاور کے شاہی مقامات میں اس محل کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
 
 
تنجاوور مراٹھا محل
تنجاوور مراٹھا محل، جسے مقامی زبان میں ’ارنمنئی‘کہا جاتا ہے، نہ صرف ایک فنِ تعمیر کا شاہکار ہے بلکہ یہ ۱۶۷۴ءسے ۱۸۵۵ءتک تنجاوورپر حکمرانی کرنے والے بھوسلے خاندان کی سرکاری رہائش گاہ بھی رہا ہے۔ یہ محل مراٹھا، نائیک اور یورپی طرزِ تعمیر کا دلکش امتزاج پیش کرتا ہے۔محل کے اندر راجا چولا آرٹ گیلری موجود ہے جہاں کانسےکے شاندار مجسمے رکھے گئے ہیں۔ اسی احاطے میں رائل پیلیس میوزیم بھی ہےجہاں ایک ۲۸؍میٹر لمبے وہیل کا ڈھانچہ بھی نمائش میں رکھا گیا ہے۔
 
 
شیو گنگا گارڈن 
یہ خوبصورت باغ وجے نگر قلعے کے اندر واقع ہے اور تنجاوور میں دیکھنے کے اہم مقامات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ تاریخی کھنڈرات کے درمیان قائم یہ باغ نہایت خوبصورتی سے ترتیب دیا گیا ہے اور اس کی دیکھ بھال بھی اچھی طرح کی جاتی ہے، جس کی وجہ سے یہ تنجاور کے مشہور مقامات میں شامل ہے۔ اس باغ کے اندر ایک مربع شکل کا تالاب بھی موجود ہے جسے سولہویں صدی میں حکمرانوں نے تعمیر کروایا تھا۔ اس تالاب کا پانی تنجور محل کو فراہم کیا جاتا تھا اور آج بھی اس کا پانی میٹھا محسوس ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK