Inquilab Logo Happiest Places to Work

حج کی تیاریاں سعودی عرب کے’ ویژن۲۰۳۰ء‘ کی عکاس ہیں

Updated: May 25, 2026, 12:23 PM IST | Doctor Samira Aziz | Mecca

مملکت کا مذکورہ ویژن بہت اہمیت رکھتا ہے،حاجیوںکی خدمات کامعیار بہتر بنانے کیلئےجو بھی جدید وسائل اختیارکئے جارہے ہیںوہ سبھی اسی ویژن سے تعلق رکھتے ہیں

Saudi Metro.Photo:INN
سعودی میٹرو۔ تصویر:آئی این این
سعودی عرب نے ایک بار پھر حج۱۴۴۸ھ/۲۰۲۶ء کیلئے جامع اور منظم تیاریوں کے ذریعے دنیا کے سب سے بڑے سالانہ مذہبی اجتماعات میں سے ایک کے انتظام اور میزبانی کی اپنی غیرمعمولی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ مملکت کے ویژن۲۰۳۰ء کی رہنمائی میں اور خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی نگرانی میں، سعودی عرب کے مختلف حکومتی اداروں نے لاکھوں عازمین حج کو محفوظ، پُرسکون، منظم اور روحانی طور پر بامقصد حج تجربہ فراہم کرنے کے لیے وسیع تکنیکی، طبی، انتظامی، لاجسٹک اور سیکوریٹی وسائل بروئے کار لائے ہیں۔ رواں برس حج کی تیاریاں سعودی عرب کی ڈیجیٹل تبدیلی، اسمارٹ انفراسٹرکچر، ہجوم کے مؤثر انتظام، صحت کی سہولیات میں توسیع اور مربوط خدمات پر مسلسل توجہ کی عکاسی کرتی ہیں۔ سعودی حکومت کے سرکاری اعلانات اور سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹس کے مطابق، مشاعرِ مقدسہ میں حجاجِ کرام کی خدمت سے وابستہ تمام شعبوں میں تیاریوں نے اعلیٰ ترین عملی سطح حاصل کر لی ہے۔مملکت کے اہم منصوبوں میں سے ایک ’’مکہ روٹ انیشی ایٹو‘‘ بھی ہے، جس کے تحت اس سال بنگلہ دیش، ترکی، انڈونیشیا، ملائیشیا ،پاکستان، مراکش، آئیوری کوسٹ، سینگال، مالدیپ اور برونائی دارالسلام سمیت۱۰؍ ممالک کے حجاج کو سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے عازمین  اپنے اپنے ممالک میں ہی امیگریشن، کسٹمز اور صحت سے متعلق مراحل مکمل کر لیتے ہیں جس سے سعودی عرب پہنچنے پر انتظار کے دورانیے میں نمایاں کمی اور داخلی مقامات پر ہجوم کے دباؤ میں خاطر خواہ کمی واقع ہوتی ہے۔ 
یہ اقدام۱۷؍ بین الاقوامی ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کے ذریعے فعال ہے۔حج۲۰۲۶ء کے دوران سعودی عرب نے جدید اسمارٹ ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی مزید وسعت دی ہے۔ سعودی حکام نے عازمین حج کیلئے اسمارٹ کڑے متعارف کروائے ہیں جن میں موجود کیو آر کوڈز کے ذریعے عازمین کی ذاتی اور رہائشی معلومات، پاسپورٹ تفصیلات، قومیت اور منیٰ سمیت مشاعر ِ مقدسہ میں قیام کے مقامات کی معلومات محفوظ کی گئی ہیں۔ یہ جدید نظام حجاج کے اپنے گروپ سے بچھڑ جانے یا رہائش گاہ کا راستہ بھول جانے کی صورت میں فوری رہنمائی اور معاونت فراہم کرتا ہے۔مملکت کے مواصلاتی نظام میں بھی نمایاں بہتری لائی گئی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق مشاعرِ مقدسہ میں۵؍ جی نیٹ ورک کا کوریج۱۰۰؍ فیصد تک پہنچا دیا گیا ہے جبکہ بلا تعطل ڈیجیٹل رابطہ یقینی بنانے کیلئے۴۲۰۰؍ سے زائد تکنیکی ماہرین خدمات انجام دے رہے ہیں۔
 
 
رواں برس طبی سہولیات کو بھی غیرمعمولی طور پر وسعت دی گئی ہے۔۵۲؍ ہزار سے زائد طبی ماہرین، ڈاکٹرز، نرسیز اور معاون عملہ حجاجِ کرام کی خدمت پر مامور ہے جبکہ فوری طبی امداد کے مراکز کی گنجائش میں۳؍ گنا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں سیکڑوں موبائل کلینکس، ایمبولینسز، لیبارٹریز اور ایمرجنسی یونٹس تعینات کیے گئے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ نقل و حمل اور انفراسٹرکچر کے شعبے بھی سعودی عرب کی نمایاں کامیابیوں میں شامل ہیں ۔ حرمین ہائی اسپیڈ ریلوے۵۳۰۰؍ سے زائد ٹرپس اورتقریباً۲۲؍ لاکھ نشستوں کے ذریعے حجاج کی آمد و رفت کو سہل بنا رہی ہے۔(ایک ٹرین میں۴۰۰؍ سےزائد سیٹیں ہیں ) ۔ علاوہ ازیں سعودی روڈز جنرل اتھاریٹی نے ۳۵۰۰؍ کلومیٹر سے زائد سڑکوں کی بحالی،۲؍ لاکھ۱۵؍ ہزار کلومیٹر شاہرا ہوں کا مصنوعی ذہانت کے ذریعے معائنہ اور حج روٹس پر جدید حفاظتی سسٹم کی تنصیب جیسے وسیع منصوبے شروع کیے ہیں۔منیٰ میں قائم جمرات کمپلیکس دنیا کے جدید ترین ہجوم کنٹرول انجینئرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس مقام پر۳۴۰؍ برقی زینے،۶۸۲؍ نگرانی کیمرے،۲۲۸؍ گولف کارٹس اور جدید فائر پروٹیکشن سسٹمز نصب کیے گئے ہیں تاکہ رمی جمرات کے دوران لاکھوں حجاج کی نقل و حرکت کو محفوظ اور منظم بنایا جا سکے۔
 
 
سعودی عرب نے خوراک کے معیار، بلدیاتی خدمات اور تجارتی نگرانی کے نظام کو بھی مزید مؤثر بنایا ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ہزاروں فیلڈ انسپکشن دورے کیے جا رہے ہیں تاکہ خوراک کے معیار، صفائی، رہائشی سہولیات اور تجارتی سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی یقینی بنائی جا سکے۔ اسی طرح آگاہی مہموں کے تحت۲۷؍ زبانوں میں۱۴؍ لاکھ سے زائد معلوماتی مواد تیار کیا گیا ہے تاکہ حجاج کو صحت، حفاظت اور مناسک ِ حج سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے۔عملی تیاریوں کے ساتھ ساتھ سعودی عرب حج کے روحانی اور انسانی پہلوؤں پر بھی خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق خادمِ حرمین شریفین کی جانب سے حجاجِ کرام میں تقریباً۲۰؍ لاکھ نسخے قرآنِ مجید بطور تحفہ تقسیم کیے جائیں گے۔ اسی طرح دنیا بھر سے آنے والے علما، اسلامی شخصیات اور شہداء کے اہل خانہ کیلئے  مہمان نوازی کےخصوصی پروگرام بھی جاری ہیں۔
اگرچہ قومی مرکز برائے موسمیات نے حج سیزن کے دوران شدید گرمی اور گرد آلود ہواؤں کی پیشگوئی کی ہے، تاہم سعودی حکام نے مشاعر ِ مقدسہ میں کولنگ سسٹمز، واٹر مسٹنگ، اضافی پانی کی فراہمی اور ہنگامی امدادی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا ہے تاکہ حجاج کو گرمی سے متعلق خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ حج۲۰۲۶ء کیلئے سعودی عرب کی تیاریاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ مملکت جدید منصوبہ بندی، مربوط ادارہ جاتی نظام، جدید ٹیکنالوجی اور حجاجِ کرام کی خدمت کے عزم کے ذریعے دنیا کے سب سے بڑے مذہبی اجتماع کے انتظام میں عالمی قیادت کا کردار ادا کر رہی ہے۔
(ڈاکٹر سمیرہ عزیز جدہ میں مقیم سینئر سعودی صحافی، کاروباری شخصیت، مصنفہ، شاعرہ اور بین الثقافتی اُمور کی تجزیہ کار ہیں۔  ویژن۲۰۳۰ء اور بین ثقافتی روابط و تبادلے ان کی خصوصی دلچسپی  کے موضوعات ہیں ۔ )

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK