Updated: June 01, 2026, 9:06 PM IST
| Medina
حج سیزن کے دوران مدینہ منورہ کی کھجور منڈی میں غیر معمولی تجارتی سرگرمی دیکھنے میں آئی ہے۔ سعودی وزارتِ ماحولیات، آب و زراعت کی رپورٹ کے مطابق صرف گزشتہ ۲۰؍ دنوں میں ۷؍ لاکھ ۲۴؍ ہزار کلوگرام سے زائد کھجوریں فروخت ہوئیں جن کی مالیت تقریباً ایک کروڑ ۲۰؍ لاکھ سعودی ریال (۳۰؍ کروڑ روپے سے زائد) رہی۔
حج سیزن کے آغاز کے ساتھ ہی مدینہ منورہ کی مشہور کھجور منڈی میں تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سعودی عرب کی وزارتِ ماحولیات، آب و زراعت کے مدینہ منورہ ریجنل دفتر کی جانب سے جاری کردہ تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ۲۰؍ دنوں کے دوران مدینہ کے مرکزی کھجور بازار میں فروخت ہونے والی کھجوروں کی مالیت تقریباً ایک کروڑ ۲۰؍ لاکھ سعودی ریال تک پہنچ گئی، جو ہندوستانی کرنسی میں ۳۰؍ کروڑ روپےسے زائد بنتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں مجموعی طور پر ۷۲۴؍ ہزار کلوگرام سے زیادہ کھجوریں فروخت کی گئیں۔ یہ فروخت بازار میں قائم ۲۰؍ مختلف نیلامی راستوں، ایئر کنڈیشنڈ مرکزی ہال اور ریٹیل سیلز پوائنٹس کے ذریعے انجام پائی، جہاں مقامی اور بین الاقوامی خریداروں کی بڑی تعداد نے خریداری کی۔
یہ بھی پرھئے : نیدر لینڈز میں مسجد پر حملہ، شکایت درج، فوری تحقیقات کا مطالبہ
اعداد و شمار کے مطابق مدینہ منورہ کی مشہور اقسام، خصوصاً عجوہ، صفوی اور صقعی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کھجوروں میں شامل رہیں۔ ان اقسام کو نہ صرف سعودی عرب بلکہ دنیا بھر کے مسلمان خصوصی اہمیت دیتے ہیں، خصوصاً عجوہ کھجور کو مذہبی اور غذائی اعتبار سے منفرد مقام حاصل ہے۔ حکام کے مطابق حج کے دنوں میں دنیا بھر سے لاکھوں حجاج اور زائرین کی آمد کے باعث کھجوروں کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ بہت سے زائرین مدینہ منورہ سے واپسی پر کھجوروں کو بطور تحفہ اور تبرک اپنے ساتھ لے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں مقامی منڈیوں میں خرید و فروخت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے : روانگی سے قبل حجاج کیلئے۸۰؍ زبانوں میں تراجم کے ساتھ قرآن کریم کے نسخوں کا تحفہ
وزارت کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کھجور منڈی میں معیار اور صحت کے اصولوں کو یقینی بنانے کے لیے فیلڈ ٹیمیں مسلسل سرگرم رہیں۔ گزشتہ ۲۰؍ دنوں کے دوران ۳۸۴؍ سے زائد معائنہ جاتی دورے کیے گئے جن کا مقصد مصنوعات کے معیار، ذخیرہ اندوزی کے طریقہ کار اور صحت کے ضوابط پر عمل درآمد کی نگرانی تھا۔ حکام کے مطابق نگرانی کا یہ عمل چوبیس گھنٹے جاری رکھا گیا تاکہ زائرین اور خریداروں کو معیاری اور محفوظ غذائی مصنوعات فراہم کی جا سکیں۔ اس دوران منڈی تک سامان پہنچانے والی ۹۳۰؍ سے زائد گاڑیوں کی آمدورفت کو بھی منظم انداز میں کنٹرول کیا گیا تاکہ سپلائی چین میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
یہ بھی پڑھئے : غزہ: اسرائیل نے عید الاضحیٰ کے دنوں میں ۲۶؍ فلسطینی شہید کئے: اقوام متحدہ
مدینہ منورہ سعودی عرب کے ان اہم زرعی علاقوں میں شمار ہوتا ہے جو کھجور کی پیداوار میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ خطہ ملک کی مجموعی کھجور پیداوار کا تقریباً ۱۵؍ فیصد فراہم کرتا ہے، جس کی بنیادی وجہ یہاں موجود تقریباً ۸۰؍ لاکھ کھجور کے درخت اور کھجوروں کی پروسیسنگ سے وابستہ ۲۰؍ صنعتی کارخانے ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ گزشتہ سال مدینہ منورہ میں کھجوروں کی پیداوار میں ۳۱؍ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ اس شعبے کی مجموعی اقتصادی مالیت ایک ارب سعودی ریال سے تجاوز کر گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ترقی سعودی عرب کی زرعی حکمت عملی اور خوراک کے شعبے میں خود کفالت کے اہداف کے عین مطابق ہے۔
سعودی حکومت گزشتہ چند برسوں سے کھجوروں کی صنعت کو قومی معیشت کے ایک اہم ستون کے طور پر فروغ دے رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے جدید زرعی ٹیکنالوجی، پروسیسنگ یونٹس، برآمدی سہولیات اور بین الاقوامی مارکیٹنگ پروگرام متعارف کرائے گئے ہیں تاکہ سعودی کھجوروں کی عالمی منڈیوں تک رسائی مزید وسیع ہو سکے۔ حج سیزن کے دوران ریکارڈ فروخت نہ صرف مدینہ منورہ کی مقامی معیشت کے لیے خوش آئند خبر ہے بلکہ یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ سعودی کھجوریں آج بھی دنیا بھر کے مسلمانوں اور بین الاقوامی صارفین میں غیر معمولی مقبولیت رکھتی ہیں۔