قیدیوں کے تبادلے کیلئے حماس، اسرائیل سے براہ راست گفتگو کیلئے بھی تیار

Updated: June 02, 2021, 7:16 AM IST | Jerusalem

غزہ کو کنٹرول کرنے والی تنظیم ، اسرائیل سے شہر کا محاصرہ ختم کروانےاور ، دونوں طرف قید شہریوں اور فوجیوں کو جلد از جلد رہا کروانے کے عمل کو شروع کرنے کی خواہاں

Hamas leader Yahya Sanwar among his supporters (file photo)
حماس لیڈر یحییٰ سنوار اپنے حامیوں کے درمیان ( فائل فوٹو)

) فلسطینی شہر غزہ  پر کنٹرول رکھنے والی   فلسطینی تنظیم  حماس نے اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کیلئے’’براہِ راست اورتیزرفتار‘‘ مذاکرات پرآمادگی ظاہر کردی ہے۔غزہ میں حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ یحییٰ سنوار نے ایک عالمی نیوز ایجنسی سے پیر کے روز گفتگو کرتے ہوئے کہا  کہ ’’اس وقت اس فائل کو آگے بڑھانے کا ایک حقیقی موقع موجود ہے۔ہم اس معاملے کی تکمیل کیلئےبراہ راست ، فوری اور تیزرفتار مذاکرات کئے تیار ہیں۔‘‘
 انھوں نے مصر کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ عباس کامل کے غزہ کے دورے کے بعد یہ بیان جاری کیا ہے۔عباس کامل نے حماس کی قیادت سے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کو دیرپا بنانے کیلئے گفتگوکی ہے۔مصرکی ثالثی میں اسرائیل اور حماس سمیت فلسطینی تنظیموں کے درمیان ۲۱؍مئی کوغزہ میں جنگ بندی ہوئی تھی۔اسرائیل کی جانب سے غزہ پر ۱۱؍ روزہ تک کئے گئے تباہ کن حملوں میں ۲۵۳؍فلسطینی شہید ہوگئے تھے۔ان  میں ۶۷؍؍کم سن بچے بھی شامل تھے جبکہ اسرائیلی علاقوں پر حماس اور دوسری فلسطینی تنظیموں کے راکٹ حملوں میں ایک کم سن بچے سمیت ۱۲؍ اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔
 حماس کے ایک عہدے دارنے اپنی شناخت ظاہرنہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ’’غزہ مذاکرات میں تین نکات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے ایک طویل المیعاد جنگ بندی ،  دوسراقیدیوں کا تبادلہ اور تیسرا غزہ کی تعمیرِنو۔‘‘یحییٰ سنوار نے واضح کیا ہے کہ ’’حماس کو تعمیرنو اور اسرائیل کے گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے جاری محاصرے کے خاتمے پرکوئی اعتراض نہیں ہے۔ان امور کو قیدیوں کے تبادلے سے متعلق بات چیت کے ساتھ ساتھ آگے بڑھایا جانا چاہئے۔‘‘
 تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم ان دونوں پہلوؤں کے درمیان تعلق کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہیں۔‘‘البتہ انھوں نے یہ وضاحت نہیں کی ہے کہ حماس کتنے قیدیوں کو رہاکرے گی اور ان کے بدلے میں اسرائیلی جیلوں سے کتنے فلسطینی قیدیوں کو رہا کروایا جائے گا۔اسرائیلی وزیرخارجہ غابی شکنازی نے بھی  گزشتہ اتوار کو قاہرہ میں مصری وزیرخارجہ سامح شکری سے غزہ میں مستقل جنگ بندی کے علاوہ حماس سے قیدیوں کے تبادلے کے معاملے پر بات چیت کی تھی۔حماس کے پاس اس وقت ۲۰۱۴ء کی جنگ میں ہلاک ہونے والے دواسرائیلی فوجیوں عورون شاؤل اورحدار گولڈن کی لاشیں ہیں لیکن حماس نے آج تک ان کی موت کی تصدیق نہیں کی ہے۔
 اس کے علاوہ اس نے دواسرائیلی شہریوں کو بھی حراست میں رکھا ہوا ہے۔ان دونوں کو غزہ میں داخلے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ان کے خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ ذہنی عارضے میں مبتلا تھے۔ادھراسرائیل کی جیلوں میں اس وقت پانچ ہزار سے زیادہ فلسطینی قید ہیں۔ فی الحال دیکھنا یہ کہ کیا حماس اور اسرائیل کے  درمیان کوئی براہ راست گفتگو  بھی ممکن ہے ؟ کیونکہ اب تک  یہ کام کسی ثالث کے ذریعے ہی ہوتا آیا  ہے۔ طرفین کے درمیان جنگ بندی کے معاملے میں اس بار مصر نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ اور آئندہ اس جنگ بندی کو مستحکم کرنے کیلئے مصری حکام دونوں  طرف کے اعلیٰ لیڈران اور عہدیداروں سے  مسلسل ملاقاتیں بھی کر رہے ہیں ۔ 

palestine Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK