Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ قیدی بدسلوکی کیس: اسرائیلی فوج نے اپنے فوجیوں کے خلاف الزامات ختم کر دیئے

Updated: March 13, 2026, 10:08 PM IST | Tal Aviv

اسرائیلی فوج کے اعلیٰ قانونی افسر نے غزہ کے ایک فلسطینی قیدی پر مبینہ تشدد اور زیادتی کے الزام میں گرفتار پانچ اسرائیلی فوجیوں کے خلاف مقدمہ ختم کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے فلسطینی قیدیوں کے خلاف زیادتیوں پر احتساب سے بچانے کی مثال قرار دیا ہے۔

Israeli soldiers gather at the gate of the Sde Teiman detention center. Photo: INN
اسرائیلی فوجی سدہ تیمان حراستی مرکز کے گیٹ پر جمع ہیں۔ تصویر: آئی این این

اسرائیل کے اعلیٰ فوجی وکیل نے غزہ کے ایک فلسطینی قیدی پر تشدد اور زیادتی کے الزام میں گرفتار پانچ فوجیوں کے خلاف تمام الزامات ختم کر دیئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ملٹری ایڈووکیٹ جنرل ایٹے اوفر( Itay Offir) نے کہا کہ استغاثہ کے پاس اہم شواہد موجود نہیں رہے کیونکہ متاثرہ قیدی کو واپس غزہ بھیج دیا گیا تھا، اور اعلیٰ حکام کے رویّے نے بھی منصفانہ مقدمہ چلانے کے امکانات کو متاثر کیا۔ طبی ریکارڈ کے مطابق۲۰۲۴ءکے موسمِ گرما میں اس قیدی کو اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں اس کے جسم پر شدید زخم پائے گئے، جن میں پسلیوں کا ٹوٹ جانا، پھیپھڑے میں سوراخ اور مقعد کو پہنچنے والا نقصان شامل تھا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ معلومات فردِ جرم میں درج تھیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: سابق اسرائیلی وزیراعظم کی ترکی کو دھمکی، ایران کے بعد ہم بیکار نہیں بیٹھیں گے

یہ قیدی اسرائیل کے فوجی حراستی مرکز Sde Teiman military detention centre میں رکھا گیا تھا، جو تشدد کے واقعات کی وجہ سے بدنام ہو چکا ہے۔ جب اس حملے کے سلسلے میں اسرائیلی فوجیوں کی پہلی گرفتاریاں ہوئیں تو ایک انتہائی دائیں بازو کا ہجوم، جس میں ایک وزیر اور بعض ارکانِ پارلیمنٹ بھی شامل تھے، فوجی اڈے میں گھس آیا اور فوجیوں کی رہائی کا مطالبہ کرنے لگا۔ اسرائیلی میڈیا نے اس حملے کی ایک ویڈیو بھی نشر کی تھی۔ بعد میں ایٹے اوفر کے پیش رو کو اس شبہے میں گرفتار کیا گیا کہ انہوں نے ویڈیو لیک کرنے کی اجازت دی تھی، بظاہر اس مقصد سے کہ گرفتاریوں پر عوامی غصہ کم کیا جائے اور یہ دعویٰ رد کیا جائے کہ فوجیوں پر ناجائز مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔ تاہم، اسرائیل کے اندر اس کا زیادہ اثر نہیں ہوا، جہاں ان فوجیوں کے حامیوں کا کہنا تھا کہ انہیں صرف ایک فوجی حراستی مرکز میں معمول کی سیکوریٹی ڈیوٹی انجام دینے پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان پانچوں فوجیوں کے نام ظاہر نہیں کئے گئے۔ 

یہ بھی پڑھئے: تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو کم کرنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی پابندیوں میں نرمی

ایٹے اوفر نے ایک بیان میں کہا کہ ویڈیو میں حملے کی واضح تصویر نظر نہیں آتی کیونکہ ’ملزمان کی زیادہ تر حرکات ڈھالوں کے پیچھے چھپی ہوئی ہیں۔ ‘انہوں نے یہ بھی کہا کہ اکتوبر ۲۰۲۵ءمیں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت، جو ڈونالڈ ٹرمپ کی ثالثی سے طے پایا تھا، قیدی کو غزہ واپس بھیج دیا گیا تھا، اس لئے وہ اب عدالت میں گواہی نہیں دے سکتا۔ اس قیدی پر اسرائیلی حراست کے دوران کبھی کوئی فردِ جرم عائد نہیں کی گئی اور نہ ہی اس کا مقدمہ چلایا گیا۔ اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے الزامات ختم کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ یہ ناقابلِ قبول ہے کہ اس معاملے میں اتنا وقت لگ گیا۔ انہوں نے ان فوجیوں کو ’بہادر جنگجو‘ قرار دیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے کہا کہ اس فیصلے سے اسرائیل میں قانون کی حکمرانی اور فلسطینیوں کے خلاف تشدد اور ہلاکتوں کے حوالے سے احتساب پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک کمیشن نے اس جنگ کو نسل کشی قرار دیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: فرانس: مرکزی بینک کے گورنر نے ایندھن پر سبسڈی دینے کے خلاف انتباہ جاری کیا

انسانی حقوق کی تنظیم پبلک کمیٹی اگینسٹ ٹارچر اِن اسرائیل کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ساری باشی نے کہا:’’اسرائیل کے فوجی اٹارنی جنرل نے اپنے فوجیوں کو گویا یہ اجازت دے دی ہے کہ اگر متاثرہ شخص فلسطینی ہو تو اس کے ساتھ زیادتی کی جا سکتی ہے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ ان اقدامات کی طویل سلسلے کی تازہ کڑی ہے جو ایسے قیدیوں کے خلاف ہونے والی زیادتیوں کو چھپانے کیلئے کئے جا رہے ہیں، اور جن کی تعداد اور شدت۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ءکے بعد بڑھ گئی ہے۔ ‘‘انسانی حقوق کی تنظیم عد لہ کی قانونی ڈائریکٹر سہد بشارانے کہا کہ یہ ایک مضبوط مقدمہ تھا جس میں دنیا نے س سیکوریٹی کیمروں کی فوٹیج اور شدید جنسی و جسمانی تشدد کے طبی شواہد دونوں دیکھے تھے۔ ‘‘انہوں نے کہا’’الزامات واپس لے کر اسرائیلی فوج نے واضح کر دیا ہے کہ جو لوگ فلسطینیوں پر تشدد کرتے ہیں انہیں کسی قسم کے احتساب کا خطرہ نہیں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: تیل کے بحران سے نپٹنے کیلئے عالمی توانائی ایجنسی متحرک

دو سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے دوران حراست میں فلسطینیوں پر حملے کے الزام میں اب تک صرف ایک اسرائیلی فوجی کو سزا سنائی گئی ہے، حالانکہ اسرائیلی جیلوں میں تشدد اور بدسلوکی، بشمول جنسی تشدد، کے متعدد واقعات دستاویزی شکل میں سامنے آ چکے ہیں۔ درجنوں فلسطینی قید کے دوران ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK