Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل کی اقصیٰ اور ابراہیمی مسجد میں نماز پر پابندیاں، فلسطینی حکام کا احتجاج

Updated: March 14, 2026, 7:42 PM IST | Jerusalem

اسرائیلی حکام کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ اور الخلیل کی ابراہیمی مسجد میں نماز پر سخت پابندیوں پر فلسطینی حکام نے شدید احتجاج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات آزادیٔ عبادت کی خلاف ورزی اور مقدس مقامات پر کنٹرول قائم کرنے کی کوشش ہیں۔

Israeli soldiers can be seen inside the Al-Aqsa Mosque compound. Photo: INN
مسجد اقصیٰ کے احاطے میں اسرائیلی فوجی دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ یروشلم میں مسجد اقصیٰ اور الخلیل میں ابراہیمی مسجد میں عبادت پر اسرائیلی پابندیاں’آزادیٔ عبادت کی خلاف ورزی‘ ہیں اور ان کا مقصد ان دونوں مقدس مقامات پر کنٹرول قائم کرنا ہے۔اسرائیل نے۲۸؍ فروری کو ایران پر امریکی۔اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد سے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مسجد اقصیٰ کو بند رکھا ہوا ہے، جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع ابراہیمی مسجد میں صرف تقریباً۵۰؍ نمازیوں کو نماز ادا کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔گورنریٹ آف یروشلم کے میڈیا مشیر معروف الرفاعی نے کہا کہ اسرائیلی حکام نے مسجد اقصیٰ کو مسلسل۱۳؍ دن سے بند رکھا ہوا ہے اور رمضان کے آخری۱۰؍ دنوں میں نمازیوں کو وہاں نماز ادا کرنے سے روک دیا ہے۔ الرفاعی نے کہا،’’اسرائیلی قابض حکام مسجد اقصیٰ کو بند رکھے ہوئے ہیں اور رمضان کے آخری دنوں میں نمازیوں کو وہاں عبادت کرنے سے روک رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ اسرائیل نے مسلسل دو جمعہ کی نمازوں کو روک دیا، جن میں ماہِ رمضان کا آخری جمعہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا،’’یہ اقدامات آزادیٔ عبادت کی خلاف ورزی اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کے خلاف ایک اشتعال انگیزی ہیں۔‘‘الرفاعی نے خبردار کیا کہ غیر قانونی آبادکار گروہوں کی جانب سے یہودی تہوار پاس اوور (ایک  سے۸؍ اپریل) کے دوران مسجد اقصیٰ کے احاطے میں دراندازی بڑھانے اور وہاں مذہبی رسومات ادا کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسجد کی مسلسل بندش کی وجہ سے ہزاروں نمازی وہاں پہنچنے اور رمضان کے آخری ایام میں شبِ قدر کی عبادت کرنے سے محروم ہو رہے ہیں، جسے اسلام میں سب سے مقدس رات سمجھا جاتا ہے۔انہوں نے کہا،’’اسے سکیوریٹی اقدام نہیں کہا جا سکتا جیسا کہ قابض حکام دعویٰ کرتے ہیں۔‘‘ان کے مطابق، ’’یہ ایک منظم سیاسی فیصلہ ہے جس کا مقصد مسجد اقصیٰ پر کنٹرول مسلط کرنا اور یروشلم میں اسلامی وقف کے تاریخی و قانونی کردار کو کمزور کرنا ہے، جو اردن کی وزارتِ اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ ہے۔‘‘
الرفاعی نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی اپنے اس حق کیلئے پرعزم ہیں کہ وہ مسجد اقصیٰ تک رسائی حاصل کریں اور وہاں نماز ادا کریں۔الخلیل میں ابراہیمی مسجد کے ڈائریکٹر معتز ابو سنینہ نے کہا کہ اسرائیلی حکام نے وہاں نماز کی ادائیگی پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔انہوں نے انادولو کو بتایا کہ گزشتہ جمعہ سے اسرائیل ہر نماز کیلئےصرف ۵۰؍نمازیوں کو داخلے کی اجازت دے رہا ہے۔ ابو سنینہ نے اس اقدام کو’من مانی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی قانون اور آزادیٔ عبادت کی خلاف ورزی ہے، اور مطالبہ کیا کہ مسجد کو بغیر کسی پابندی کے تمام نمازیوں کیلئے کھولا جائے۔انہوں نے کہا،’ہم کم تعداد میں ہی سہی، لیکن مسجد میں موجود رہتے ہیں تاکہ اس کی حفاظت کر سکیں اور کسی نقصان سے بچا سکیں۔‘
انہوں نے مزید کہا،’’ابراہیمی مسجد ایک اسلامی وقف ہے جو صرف مسلمانوں کی ملکیت ہے اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اسے تمام نمازیوں کیلئے کھولا جائے۔‘‘ان کے مطابق اسرائیل نے ایران پر امریکی۔اسرائیلی حملوں کے آغاز پر مسجد کو مکمل طور پر بند کر دیا تھا، جسے گزشتہ جمعہ کو جزوی طور پر دوبارہ کھولا گیا۔ ۱۹۹۴ء میں اسرائیل نے ابراہیمی مسجد کو تقسیم کر دیا تھا اور تقریباً۶۳؍ فیصد حصہ یہودی عبادت گزاروں جبکہ۳۷؍ فیصد مسلمانوں کیلئے مختص کر دیا تھا۔ یہ اقدام۲۵؍ فروری۱۹۹۴ء کو ایک آبادکار کے حملے کے بعد کیا گیا تھا جس میں ۲۹؍  نمازی شہید ہوئے تھے۔ عام طور پر مسجد کو سال میں صرف۱۰؍ دن مسلمانوں کیلئے مکمل طور پر کھولا جاتا ہے، جن میں رمضان کے جمعے، شبِ قدر، عیدالفطر، عیدالاضحیٰ، شبِ معراج، میلاد النبی اور اسلامی نیا سال شامل ہیں۔
رمضان کے آخری دنوں میں عام طور پر مسجد نمازیوں سے بھر جاتی ہے اور۲۷؍ویں شبِ رمضان اور عید کے موقع پر اسے مکمل طور پر مسلمانوں کیلئے کھولا جاتا ہے، تاہم، اس سال اسرائیل ایسا کرنے کی اجازت دے گا یا نہیں، یہ ابھی واضح نہیں۔ابراہیمی مسجد الخلیل کے قدیم شہر میں واقع ہے، جو مکمل طور پر اسرائیلی کنٹرول میں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK