• Wed, 04 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

رفح کراسنگ پر فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیلی رویہ، منظم دہشت گردی ہے: حماس

Updated: February 04, 2026, 5:04 PM IST | Gaza

رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ واپس آنے والے فلسطینیوں کو شدید پابندیوں اور مبینہ بدسلوکی کا سامنا ہے، جسے حماس نے منظم انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ طبی علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے والے مریضوں اور اپنے گھروں کو لوٹنے والے خاندانوں کی محدود آمدورفت نے غزہ کے انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

Rafah Crossing. Photo: INN
رفح کراسنگ۔ تصویر: آئی این این

حماس نے منگل کو کہا کہ رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ واپس آنے والے فلسطینیوں کو جن ’بدسلوکی، تشدد اور دانستہ بلیک میلنگ ‘کا سامنا ہے، وہ ’فاشسٹ رویے اور منظم دہشت گردی‘ کے مترادف ہے اور یہ ’اجتماعی سزا‘ کے زمرے میں آتا ہے۔ فلسطینی گروہ نے کہا، ’’تکلیف دہ عینی شہادتوں سے معلوم ہوا ہے کہ توہین آمیز اقدامات کئے گئے جن میں مسافروں میں شامل خواتین کو اغوا کرنا، ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھنا، طویل اور غیر متعلقہ سوالات کے ساتھ تفتیش کرنا، بعض کو ان کے بچوں کے ذریعے دھمکانا، اور ایک خاتون کو مخبری پر مجبور کرنے کی کوشش شامل ہے۔ ‘‘ بیان میں کہا گیا، ’’اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض ’سرحدی کارروائیاں ‘ نہیں بلکہ منظم خلاف ورزیاں ہیں جن کا مقصد خوف پھیلانا اور لوگوں کو اپنے گھروں کو واپس جانے سے روکنا ہے۔ ‘‘ فلسطینی گروہ نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان مبینہ خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: لیبیا: معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کا قتل، معاشی و سیاسی صورتحال متاثر

’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق تقریباً ۱۳۵؍فلسطینی رفح کراسنگ کے ذریعے بیرونِ ملک فوری طبی علاج کیلئے جانے کی کوشش کر چکے ہیں، تاہم، یہ واضح نہیں کہ ان میں سے کتنے اگر کوئی اسرائیل کی اجازت سے مصر میں داخل ہو سکیں گے۔ رفح سرحد کی تقریباً دو سال کی جبری بندش کے بعد پیر کے روز دوبارہ کھلنے کے پہلے دن اسرائیل نے صرف پانچ شدید بیمار فلسطینی مریضوں کو غزہ سے نکلنے کی اجازت دی۔ بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس (ICRC) کے ترجمان پیٹ گریفتھس نے الجزیرہ کو بتایا کہ رفح کراسنگ کے دوبارہ کھلنے کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال غزہ کے فلسطینیوں کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے، جو ’ناقابلِ تصور صدمے‘سے گزر چکے ہیں۔ آئی سی آر سی کے ترجمان نے مزید کہا کہ غزہ میں اپنے حالیہ کام کے دوران جن فلسطینیوں سے انہوں نے بات کی، سب نے خواہش ظاہر کی کہ زندگی دوبارہ معمول پر آ جائے، اگرچہ وہ جانتے ہیں کہ ’بحالی کا راستہ طویل ہوگا۔‘

یہ بھی پڑھئے: میلبورن میں مہاتما گاندھی کے مجسمے کی بے حرمتی اور چوری، ہندوستان نے مذمت کی

الجزیرہ کی نامہ نگار ہند خضری نے خان یونس، جنوبی غزہ سے رپورٹ کرتے ہوئے کہا:’’یہ سمجھ میں نہیں آرہا کہ رفح پر آمدورفت میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے۔ اسرائیل نئے طریقۂ کار کو استعمال کر کے رفح کراسنگ سے متعلق ہر چیز کو محدود اور کنٹرول کر رہا ہے۔ یہ عمل انتہائی سست ہے۔ کل صرف پانچ مریضوں کو جانے کی اجازت ملی اور آج۱۶؍مزید جا سکے۔ کل صرف۱۲؍ فلسطینیوں کو غزہ واپس آنے کی اجازت دی گئی، اور آج کتنے واپس آ سکیں گے، یہ معلوم نہیں۔ خاندان برسوں کی جدائی کے بعد اپنے پیاروں کے منتظر ہیں۔ ۳۸؍ دیگر فلسطینیوں کو گزشتہ رات غزہ واپس آنا تھا، مگر اب تک کسی کو معلوم نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوا آیا وہ اب بھی تلاشی کے عمل میں ہیں یا نہیں۔ کراسنگ کے عمل پر کئی پابندیاں عائد ہیں، جن میں یہ شرط بھی شامل ہے کہ لوگ اپنے ساتھ کوئی سامان نہیں لے جا سکتے۔ غزہ میں تقریباً۲۰؍ ہزار افراد فوری طبی علاج کیلئے بیرونِ ملک جانے کے منتظر ہیں، جبکہ روزانہ غزہ سے نکلنے والوں کی تعداد اس کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK