آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں مہاتما گاندھی کے مجسمے کی بے حرمتی کرنے کے بعد چوری کرلی گئی، اس واقع کی ہندوستان نے مذمت کی ہے، ساتھ ہی خاطیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
EPAPER
Updated: February 04, 2026, 12:01 PM IST | Melbourne
آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں مہاتما گاندھی کے مجسمے کی بے حرمتی کرنے کے بعد چوری کرلی گئی، اس واقع کی ہندوستان نے مذمت کی ہے، ساتھ ہی خاطیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ہندوستان نے میلبورن کے مضافاتی علاقے رو وِل میں مہاتما گاندھی کے مجسمے کی بے حرمتی اور چوری کی شدید مذمت کرتے ہوئے آسٹریلوی حکام سے فوری اور فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل۳؍ فروری کو میڈیا کے سوالات کے جواب میں کہا کہ ہندوستان نے آسٹریلوی افسران کے سامنے اس معاملے کے خلاف سخت الفاظ میں اپنا احتجاج درج کرایا ہے اور ان سے مجسمے کی بروقت بازیابی اور ذمہ داروں کو سزادینے کی اپیل کی ہے۔
#BREAKING: Bronze statue of Mahatma Gandhi has been stolen from the Australian Indian Community Centre in Rowville, Melbourne.
— Aditya Raj Kaul (@AdityaRajKaul) February 3, 2026
Gifted by ICCR (New Delhi) and unveiled on 12 Nov 2021 by former PM Scott Morrison, the statue held deep cultural significance.
Victoria Police’s Knox… pic.twitter.com/6TcKBUOWMi
واضح رہے کہ آسٹریلیا ٹوڈے کے مطابق،۴۲۶؍ کلو وزنی یہ کانسے کا مجسمہ۱۲؍ جنوری کی صبح آسٹریلیائی انڈین کمیونٹی سینٹر کے باہر سے چوری ہونے کی اطلاعات ہیں۔ یہ مجسمہ انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز (آئی سی سی آر) کی جانب سے تحفے میں دیا گیا تھا جس کی ۲۰۲۱ء میں سابق آسٹریلوی وزیراعظم اسکاٹ مورسن نے نقاب کشائی کی تھی۔ بعد ازاں وکٹوریہ پولیس کی ناکس کرائم انویسٹیگیشن یونٹ اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ حکام کے مطابق تین نامعلوم افراد نے تقریباً۱۲؍ بج کر ۵۰؍ منٹ پرمجسمہ ہٹایا۔
پولیس نے اسکراپ میٹل ڈیلرز کو بھی ہوشیار رہنے اور بیان کے مطابق کانسی کے مجسمے کی فروخت کی کسی بھی کوشش کی فوری خبر کرنے کی ہدایت کی ہے۔اس چوری نے میلبورن کی ہندوستانی-آسٹریلوی برادری میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ آسٹریلیائی انڈین کمیونٹی چیریٹیبل ٹرسٹ کے رکن سنتوش کمار نے سی این بی سی ٹی وی۱۸؍ کو بتایا کہ’’ سی سی ٹی وی فوٹیج میں واقعے کے کچھ حصے قید ہوئے ہیں۔ کمار نے کہا، ’’ایک سفید وین کو آتے دیکھا گیا اور ملوث افراد کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے۔ تمام تفصیلات پولیس کے ساتھ شیئر کر دی گئی ہیں۔‘‘ انہوں نے امن کی عالمی نمائندگی کرنے والی اس علامت کے ضیاع پر مایوسی کا اظہار کیا۔وکٹوریہ کے سیاسی لیڈروں نے بھی اس فعل کی مذمت کی ہے۔
ریاستی پارلیمانی سیکرٹری برائے کثیرالثقافتی و کثیرالمذہبی امارات ایون مل ہولینڈ نے اس واقعہ کو پریشان کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کثیرالثقافتی برادریوں کے تحفظ کے احساس کو مجروح کرتا ہے۔