Updated: January 07, 2026, 11:19 AM IST
| Mumbai
کراکس پرلشکرکشی کرکے امریکہ نے ریاستی دہشت گردی کا بدترین مظاہرہ کیا۔ وینزویلا پر یہ حملہ اور صدر مادورو کا اغواء امریکی جارحیت کا غیر معمولی اور خطرناک مظاہرہ تھا۔ اپنے مذموم عزائم کے جواز میں ٹرمپ کی پیش کردہ وجہ اتنی مضحکہ خیز ہے کہ خودامریکیوں کو اس پر یقین نہیں۔
یوں تو امریکہ کے تمام صدور کے قول و فعل میں تضادکی ایک دیرینہ تاریخ ہے تاہم ڈونالڈ ٹرمپ نے جس طرح اپنے بیان کردہ موقف سے انحراف کیا ہے اس طرح کی نظریاتی قلابازی کی مثال مشکل سے ملے گی۔ ۲۰۱۶ء میں جب ٹرمپ Make America Great Againیعنی MAGAکے نعرے کے ساتھ انتخابی میدان میں اترے تھے تو انہوں نے یہ عہد کیا تھا کہ وہ دوسرے امریکی صدور کی طرح غیر ضروری جنگوں پرملک کے اربوں ڈالر نہیں پھونکیں گے۔ ٹرمپ نے خصوصی طور پر جارج ڈبلیو بش کے عراق جنگ کے فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ کسی امریکی صدر کے ذریعہ کیا گیا’’ تاریخ کا یہ بدترین فیصلہ‘‘ تھا۔ پچھلے سال انہوں نے دوسری بار صدارتی عہدہ سنبھالنے کے وقت یہ اعلان کیا تھا: ’’میں کوئی جنگ شروع کرنے نہیں جارہا ہوں۔ میں جنگیں رکواؤں گا۔‘‘ روس اور یوکرین کی جنگ رکوانے کی ان کی پیش رفت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا لیکن بعد از خرابی بسیار انہوں نے غزہ کی جنگ رکوادی۔ کئی ہفتوں تک نوبیل انعام برائے امن کے لئے وہ خود اپنانام بھی تجویز کرتے رہے۔ ایک جانب وہ آٹھ دس جنگیں بند کروانے کا کریڈٹ لیتے رہے اور دوسری جانب یمن، نائجیریا، صومالیہ، عراق، سیریا اور ایران پر بمباریاں کرواتے رہے۔ ایک جانب ٹرمپ جنگ مخا لف اور پیس میکر ہونے کا دعویٰ کرتے رہے اور دوسری جانب انہوں اپنی انتظامیہ کے ’’شعبۂ دفاع‘‘کا نام بدل کے ’’شعبۂ جنگ‘‘رکھ دیا۔توجیہ یہ پیش کی گئی کہ نئے نام سے ’’طاقت اور اولوالعزمی‘‘ کا مظاہرہ ہوتا ہے۔۳؍ جنوری کی آدھی رات میں وینزویلا کی راجدھانی کراکس پرشب خون مارنا اور صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو ڈرامائی انداز میں اغواء کرکے امریکہ لے جانا بھی کیااسی امریکی طاقت اور اولوالعزمی کا مظاہرہ تھا؟ایک آزاد خودمختار ملک پر بلا کسی جواز اور بلا اشتعال کی گئی اس غیر قانونی کارروائی سے خطے کا ہی نہیں بلکہ عالمی استحکام بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے اس اقدام سے تمام بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں بھی اڑائیں اور امریکہ کے آئین کو بھی انگوٹھا دکھایا۔ امریکی آئین کے مطابق کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر یکطرفہ طور پر جنگ چھیڑنے یا فوجی آپریشن کی صدر کو اجازت نہیں ہے۔
کراکس پرلشکرکشی کرکے امریکہ نے ریاستی دہشت گردی کا بدترین مظاہرہ کیا ہے۔وینزویلا پر یہ حملہ اور اس کے صدر کا اغواء امریکی جارحیت کا ایک بے حد غیر معمولی اور خطرناک مظاہرہ تھا۔ وینزویلا سے امریکہ کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔ٹرمپ نے اپنے مذموم عزائم کے جواز میں جو وجہ پیش کی ہے وہ اتنی مضحکہ خیز ہے کہ خودامریکیوں کو اس پر یقین نہیں ہے۔نکولس مادورو پر امریکہ کے خلاف دہشت گردی narco-terrorismکا الزام عائد کیا گیا ہے۔ نیو یارک ٹائمز نے اپنے اداریہ میں جس کا عنوان Trump`s Attack on Venezuela Is Illegal and Unwise ہے،اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حکومتیں حریف ممالک میں اپنی ناجائز فوجی کارروائی کو جائز ٹھہرانے کے لئے ان ممالک کے سربراہوں پر دہشت گردکا لیبل چپکادیتی ہیں۔ٹائمز نے وینزویلا پر بڑے پیمانے پر منشیات کی اسمگلنگ کے الزام کو’’مضحکہ خیز‘‘قرار دیا ہے۔متعددسیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ یہ پوری واردات دراصل اکیسویں صدی میں ایک نیاامریکی سامراج قائم کرنے کی جانب اٹھایا گیا ایک تشویشناک قدم ہے۔ اگرٹرمپ کے منہ کو خون لگ گیاتووہ جنوبی امریکہ کے دوسرے ممالک میں بھی یہی داداگیری دہرائیں گے۔ ایران کی جہاں لڑھکتی کرنسی اور بڑھتی مہنگائی کے خلاف حالیہ احتجاج میں متعدد لوگ مارے گئے، بھی شامت آسکتی ہے۔ ٹرمپ نے کیوبا، کولمبیا اور میکسکو پر ہی نہیں ایران پر بھی نشانہ سادھ رکھا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے ساتھ ہوئی ان کی حالیہ ملاقات سے بھی اس خدشے کو تقویت ملتی ہے۔
کیسی ستم ظریفی ہے۔ ۲۰۰۳ء میں اجتماعی تباہی والے ہتھیاروں کی موجودگی کا جھوٹا اور گمراہ کن الزام لگاکر عراق پر کی گئی چڑھائی کی مذمت کرنے والے ٹرمپ نے وینزویلا میں عراق والی بدترین غلطی کا ہی ارتکاب کیا۔ بش کا پورا زورصدام حسین کی حکومت کا تختہ پلٹنے پر تھا جسے امریکہ کی اصطلاح میں Regime Change (تبدیلی ٔ اقتدار) کہتے ہیں۔ ٹرمپ نے بھی نکولس مادوروکا تختہ پلٹ دیا۔ صدام کو عراق پر چڑھائی کے کئی ماہ بعد پکڑ کر پھانسی دے دی گئی تھی۔ مادوروپر نیویارک میں مقدمہ چلانے کا ناٹک شروع کردیا گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کا کیا حشر کیا جاتا ہے۔ ٹرمپ نے بڑی رعونت سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اب پورے مغربی نصف کرۂ ارض پر امریکی بالادستی مسلمہ حقیقت بن گئی ہے اور کوئی بھی اس بالا دستی کو چیلنج نہیں کرسکتا۔امریکہ کے سامنے وینزویلا کی حیثیت چہ پدی والی ہے۔ نکولس مادورو کی کیا شامت آئی تھی کہ وہ امریکہ کے سامنے سر اٹھانے کی جرأت کرتا؟
ٹرمپ نے وینزویلا پر چڑھائی اسی بیش قیمت سیال کولوٹنے کیلئے کی ہے جسے تیل کہتے ہیں۔ اور اسی تیل کو لوٹنے کیلئے بش نے ۲۳؍ سال پہلے عراق پر چڑھائی کی تھی۔اب وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر امریکہ کا کنٹرول ہے۔ ٹرمپ نے پوری ڈھٹائی سے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ اب وہ وینزویلا کو بھی چلائیں گے۔ مطلب یہ کہ وہ بیک وقت امریکہ اور وینزویلا دونوں ممالک کے سربراہ بن بیٹھے ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ کوئی انہیں روکنے یا ٹوکنے والا بھی نہیں ہے۔ یوکرین پر حملے کے وقت سے یوروپ اور پورا مغرب مسلسل روس کے خلاف محاذآرائی میں مصروف ہے اور پوتن کو جنگی مجرم قرار دے چکا ہے۔ لیکن وینزویلا میں ٹرمپ کی ننگی جارحیت پر برطانیہ، فرانس، اٹلی اور جرمنی سمیت سبھوں نے چپی سادھ لی ہے۔مغرب کی اسی منافقت اور دوہرے معیارکی وجہ سے اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے مکمل طور پر بے توقیری اور بے وقعتی کا شکار ہوگئے ہیں۔
جس طرح صدر جارج ڈبلیو بش نے ایک نیا ورلڈ آرڈر قائم کیا تھا اسی طرح ٹرمپ بھی اپناایک نیا ورلڈ آرڈر قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ٹرمپ کا خیال ہے کہ کسی بھی امریکی صدر کے لئے تاریخ میں اپنا نام درج کرانے کیلئے وینزویلا جیسا ایڈونچر کرنا لازمی ہے۔جس اقدام پر کسی وضعدار سربراہ مملکت کو شرمسار ہونا چاہئے تھا ٹرمپ اس پر فخر و انبساط کا اظہار کررہے ہیں۔ انہوں نے وینزویلا پرکی گئی کامیاب سرجیکل اسٹرائک کے بعد شادمانی سے یہ دعویٰ کیا کہ دنیا کے کسی اور ملک نے ایسا کارنامہ کبھی انجام نہیں دیا ہوگا۔n