روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دمتری میدویدیف نے امریکی پوسٹ کے جواب میں ’ایکس‘ پر میدویدیف نے ایک تصویر شیئر کی جس پر جلی سرخ حروف میں لکھا تھا: ”روس کے ساتھ کھیل نہ کھیلیں۔“
EPAPER
Updated: January 07, 2026, 10:01 PM IST | Moscow
روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دمتری میدویدیف نے امریکی پوسٹ کے جواب میں ’ایکس‘ پر میدویدیف نے ایک تصویر شیئر کی جس پر جلی سرخ حروف میں لکھا تھا: ”روس کے ساتھ کھیل نہ کھیلیں۔“
روس نے امریکہ کے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے جن میں ماسکو پر سیاسی جوڑ توڑ کا الزام لگایا گیا تھا۔ روس کا ردعمل امریکی محکمہ خارجہ کی ایک اشتعال انگیز سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ماسکو کو خبردار کیا گیا تھا کہ وہ ”صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ کھیل نہ کھیلے۔“ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اپنے انگریزی اور روسی زبان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ٹرمپ کی تصویر کے ساتھ ایک گرافک شیئر کیا تھا جس پر لکھا تھا: ”صدر ٹرمپ کے ساتھ کھیل نہ کھیلیں۔“ (DON`T PLAY GAMES WITH PRESIDENT TRUMP) اس پوسٹ کے ساتھ ٹرمپ کو ”مردِ میداں“ (Man of Action) قرار دیا گیا۔ امریکی پوسٹ کو دونوں ممالک درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران ایک کھلی وارننگ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس پوسٹ پر ردعمل دیتے ہوئے، روسی پارلیمنٹ (اسٹیٹ ڈوما) کی بین الاقوامی امور کی کمیٹی کے پہلی نائب چیئرمین الیکسی چیپا نے کہا کہ روس کا موقف مستقل ہے اور وہ اپنے سابقہ سفارتی وعدوں پر قائم ہے۔ روسی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیپا نے ان امریکی دعوؤں کو مسترد کردیا کہ ماسکو بدنیتی پر مبنی اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ روس بدستور اس موقف پر عمل پیرا ہے جو اس نے الاسکا سربراہی اجلاس کے دوران واضح کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی پوتن سے ایران پر حملے سے انکار کا پیغام پہنچانے کی درخواست: رپورٹ
چیپا نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کی صدارتی رہائش گاہ پر مبینہ حملے سے متعلق حالیہ تنازع کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے پر ماسکو کے بیان کو غلط رنگ دیا گیا ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ روس کی جانب سے خدشات اٹھائے جانے کے چند گھنٹے بعد امریکی ایجنسی سی آئی اے نے عوامی سطح پر ایسے کسی حملے کی معلومات ہونے سے انکار کردیا تھا۔ چیپا کے مطابق، اس نوعیت کا آپریشن خصوصی سروسیز کی شمولیت کے بغیر انجام دینا ناممکن ہے، اس معاملے پر روس کا موقف تبدیل نہیں ہوا ہے۔
Happy Orthodox Christmas, Russian world! pic.twitter.com/f02cMF1HFu
— Dmitry Medvedev (@MedvedevRussiaE) January 6, 2026
میدویدیف نے امریکی پوسٹ کا جواب دیا
روس کے سابق صدر اور قومی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دمتری میدویدیف نے امریکی پوسٹ کے جواب میں واشنگٹن کیلئے تقریباً ایسا ہی پیغام جاری کیا۔ منگل کی رات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر میدویدیف نے ماسکو کے ’کیتھڈرل آف کرائسٹ دی سیویئر‘ کی ایک سیاہ و سفید تصویر شیئر کی جس پر جلی سرخ حروف میں لکھا تھا: ”روس کے ساتھ کھیل نہ کھیلیں۔“ (DON`T PLAY GAMES WITH RUSSIA) اس پوسٹ میں امریکی محکمہ خارجہ کے گرافک کے فونٹ، رنگوں اور الفاظ کی ہو بہو نقل کی گئی، جسے تجزیہ کار دانستہ لفظی جارحیت قرار دے رہے ہیں۔ میدویدیف نے اس تصویر کے ساتھ آرتھوڈوکس کرسمس کی مبارکباد بھی دی، جس سے اس پیغام میں قوم پرستی کا عنصر بھی نمایاں ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان یہ لفظی جنگ ۳ جنوری کو کراکس میں امریکی فوجی آپریشن کے بعد شروع ہوئی جس میں امریکی افواج نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرلیا تھا۔ واشنگٹن نے اس کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے اسے قانون نافذ کرنے والے ادارے کا ایکشن قرار دیا، جبکہ امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی نے مادورو کے خلاف منشیات کی اسمگلنگ اور ”نارکو ٹیررازم“ کے الزامات کا اعلان کیا ہے۔