مودی حکومت نے اس بل کو اپنی کامیابی جبکہ اپوزیشن نے ناکامی چھپانے کی کوشش قرار دیا، بحث کے دوران وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی غیر موجودگی پر سوال
EPAPER
Updated: July 28, 2026, 11:42 PM IST | New Delhi
مودی حکومت نے اس بل کو اپنی کامیابی جبکہ اپوزیشن نے ناکامی چھپانے کی کوشش قرار دیا، بحث کے دوران وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی غیر موجودگی پر سوال
پیپر لیک کے خلاف طلبہ کاملک گیر احتجاج ،وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ اور دہلی سمیت مختلف ریاستوں میں احتجاج کرنے والے طلبہ پروحشیانہ تشدد کے پس منظر میں مودی حکومت کی طرف سے لوک سبھا میں پیش کردہ عوامی امتحانات (غیر منصفانہ طریقوں کی روک تھام) ترمیمی بل۲۰۲۶ء پربحث کے دوران اپوزیشن نے حکومت پر زور دار حملہ کیا۔اپوزیشن نے بل پر بحث کے دوران لوک سبھا میں وزیر اعظم مودی اور امیت شاہ کی غیر موجودگی پر اعتراض کرتے ہوئے حکومت کو غیر سنجیدہ قرار دیا۔کانگریس لیڈر کے سی وینو گوپال نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ایک انتہائی اہم بل پر بحث کے دوران بھی وزیر اعظم اور وزیرداخلہ ندارد ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے بحث کی شروعات گورو گوگوئی نے کی ۔ انہوں نے طلبہ پر لاٹھی چارج اور فائرنگ کی سخت مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ جس نے بھی یہ حکم دیا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔ بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ بانسری سواراج نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں ملک میں تعلیمی شعبے میں غیر معمولی توسیع ہوئی ہے اور طلبہ اب ’’ایگزام ورَیئرسے ایگزام واریئر‘‘بن چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ۱۲؍ برسوں کے دوران میڈیکل کالجوں کی تعداد دوگنی ہو گئی، ایمس کی تعداد سات سے بڑھ کر ۲۰؍ ہو گئی۔ ان کے مطابق وزیر اعظم ہر سال پریکشا پہ چرچا پروگرام کے ذریعے طلبہ کی رہنمائی کرتے ہیں۔دوسری جانب ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ابھشیک بنرجی نے کہا کہ طلبہ کو شفاف امتحان ملنا ان کا بنیادی حق ہے، لیکن پرچہ لیک روکنے کے لیے صرف نیا قانون بنا دینا کافی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو پہلے یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ وہ پرچہ لیک روکنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کا الزام تھا کہ حکومت ہر ناکامی کے بعد قانون تبدیل کر دیتی ہے۔ڈی ایم کے کے رکن پارلیمنٹ دیانِدھی مارن نے کہا کہ گزشتہ ۱۲؍ برسوں میں کئی وزرائے تعلیم تبدیل ہوئے لیکن تعلیمی نظام میں مطلوبہ اصلاحات نہیں ہو سکیں۔ ان کے مطابق پرچہ لیک ایک سنگین مسئلہ ہے، جس پر حکومت نے بروقت توجہ نہیں دی۔ حکومت طلبہ اور عوامی نمائندوں کی بات سننے کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی پارٹی کا یہ مطالبہ دہرایا کہ نیٹ امتحان کو ہی ختم کردینا چاہئے۔
دریں اثناء لوک سبھا میںاپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے نئے مرکزی وزیر تعلیم پرہلاد جوشی کی تقرری پر سخت اعتراض کرتے ہوئے انہیں’’ عصمت دری کے مجرموں کا محافظ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے وزیر اعظم مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے احتجاج کے بعد ایسے شخص کو وزارتِ تعلیم کی ذمہ داری دینا حیران کن اور افسوسناک فیصلہ ہے۔پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت نے نوجوانوں کے خدشات دور کرنے کے بجائے ایسے شخص کو وزیر تعلیم بنادیا جو کھل کر عصمت دری کے مجرموں کا دفاع کرتا ہے