سونیا گاندھی کے خلاف اے آئی میمز پربی جے پی آر ایس ایس کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ناقدین نے اسے بی جے پی کے ’’ناری شکتی‘‘، ’’بیٹی بچاؤ‘‘ اور خواتین کو بااختیار بنانے کے نعروں کے پیش نظر منافقت قرار دیا۔
EPAPER
Updated: September 12, 2026, 10:05 PM IST | New Delhi
سونیا گاندھی کے خلاف اے آئی میمز پربی جے پی آر ایس ایس کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ناقدین نے اسے بی جے پی کے ’’ناری شکتی‘‘، ’’بیٹی بچاؤ‘‘ اور خواتین کو بااختیار بنانے کے نعروں کے پیش نظر منافقت قرار دیا۔
بی جے پی کے سرکاری ریاستی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو سونیا گاندھی کی اے آئی سے بنائی گئی تصاویر شیئر کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جن میں انہیں۱۹۸۰ء کی دہائی کے فیشن رجحانات، بشمول ’’بار گرل‘‘ یا ’’بار ڈانسر‘‘ کی تصویر کشی، میں پیش کیا گیا۔ ناقدین نے اسے بی جے پی کے ’’ناری شکتی‘‘، ’’بیٹی بچاؤ‘‘ اور خواتین کو بااختیار بنانے کے نعروں کے پیش نظر منافقت قرار دیا۔تنازع اس وقت شروع ہوا جب کانگریس کی کیرالہ اکائی نے ایک اے آئی تصویر شیئر کی جس میں ایک شخص ماروتی سوزوکی اومنی کی اگلی مسافر سیٹ پر بیٹھا تھا، اور کیپشن تھا، ۸۰؍ کی دہائی کی ایک گجرات کی گلی۔‘‘ماروتی اومنی کا حوالہ ۱۹۸۰ءکی بالی ووڈ فلموں سے اس گاڑی کی وابستگی سے لیا گیا لگتا ہے، جن میں اسے اکثر مجرموں اور اغوا کاروں کی فرار گاڑی کے طور پر دکھایا جاتا تھا، جس نے بعد میں میمز میں اسے ’’اغوا کی وین‘‘ کے طور پر مقبول بنا دیا۔
یہ بھی پڑھئے: وزیرداخلہ کے طور پر فرنویس بری طرح ناکام، کرسی چھوڑ دیں: سپکال
تاہم اس کے جواب میں، بی جے پی کی گجرات اکائی نے سونیا گاندھی کی ایک توہین آمیز اے آئی تصویر پوسٹ کی، جس میں وہ کھلے کپڑوں میں شراب کا گلاس تھامے غیر ملکیوں کے ساتھ کسی بار میں کھڑی دکھائی دے رہی تھیں۔ پوسٹ بعد میں ہٹا دی گئی۔بی جے پی کی کیرالہ اور تلنگانہ اکائیوں نے بھی کانگریس لیڈر کے خلاف اے آئی تصاویر شیئر کیں۔تلنگانہ بی جے پی نے ایک بار میں رقص کرتی عورت کی تصویر اپ لوڈ کی، کیپشن کے ساتھ ،’’لوسیانا، اٹلی۔ تقریباً۱۹۷۰ء کی دہائی‘‘، جو اٹلی کے علاقے لوسیانا کی طرف اشارہ ہے جہاں سونیا گاندھی پیدا اور پلی بڑھیں۔ اس کے علاوہ بی جے پی کیرالہ نے بھی ایک میم شیئر کی جس میں لوگوں کا ایک گروپ تھا اور کیپشن تھا۱۹۶۰ء کی دہائی میں کسی پرانے سیاسی جماعت کا ہیڈ آفس، اور سب جانتے ہیں کون سی۔ علاوہ ازیں بی جے پی سے منسلک اتر پردیش آئی ٹی سیل اکاؤنٹ اٹ سیّل فور یو پی نے بھی چھ سیکنڈ کی ویڈیو شیئر کی جس پر’’ ۸۰ء کی ٹرینڈ‘‘لکھا تھا، جس میں سونیا گاندھی دیہی ماحول میں رقص کرتے ہوئے تین بیئر کے گلاسوں والی ٹرے تھامے ہوئے دکھائی دیتی ہیں جبکہ روایتی لباس میں گاؤں والے ان کے گرد تالیاں بجا رہے ہیں۔
یہ پوسٹس اے آئی سے چلنے والے۱۹۸۰ء کی دہائی کے وائرل فوٹو ٹرینڈ کے دوران سامنے آئیں، جس میں چیٹ جی پی ٹی اور دیگر تصویر بنانے والے اوزار استعمال کر کے موجودہ تصاویر کو۱۹۸۰ء کی دہائی کے فیشن، ہیئر اسٹائل اور فوٹوگرافی سے متاثر ریٹرو طرز کے پورٹریٹ میں بدلا جاتا ہے۔ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ سگاریکا گھوش نے بی جے پی اور آر ایس ایس پر الزام لگایا کہ وہ خواتین سے نفرت کرتے ہیں، اور سنگھ پریوار کے اندر زن بیزاری کو نظریاتی، ادارہ جاتی اور بالکل بے شرم قرار دیا۔مزید برآں انہوں نے حکمران جماعت پر ’’ناری شکتی‘‘، خواتین کی ریزرویشن اور ’’بیٹی بچاؤ‘‘ کے نعروں کے معاملے میں منافقت کا الزام بھی لگایا اور وزیر اعظم نریندر مودی سے عوامی معافی کا مطالبہ کیا۔کانگریس لیڈر پون کھیڑانے اس مواد کو فکری بوسیدگی پر ایک ملامت آمیز تبصرہ قرار دیا، اور بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ کردار کشی کا سہارا لے رہی ہے کیونکہ اس کے پاس ’’کوئی دلیل باقی نہیں بچی۔‘‘
اس کے علاوہ نڈین یوتھ کانگریس نے بھی ان پوسٹوں کی مذمت کی، انہیں ’’گندگی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے بی جے پی کے ’’ناری شکتی‘‘ پیغام کے پیچھے ’’اصل چہرہ‘‘ بے نقاب کر دیا۔ اس نے بی جے پی-آر ایس ایس پر ’’بوسیدہ، زن بیزار ذہنیت‘‘ رکھنے کا الزام لگایا اور کہا کہ پارٹی خواتین سے معافی کی مقروض ہے۔صحافی راعنا ایوب نے کہا کہ’’ یہ پوسٹ بی جے پی کے ماحول کے اپنے سیاسی مخالفین کو جنسی بنانے کے جنون کو ظاہر کرتی ہیں، جبکہ شاعرہ ساکشی نرولا نے خواتین کاروباریوں سے متعلق بی جے پی کے پیغام پر تنقید کی اور اسے منافقت قرار دیا کہ پارٹی خواتین کی قیادت کو فروغ دیتی ہے جبکہ اس کے سرکاری اکاؤنٹس سونیا گاندھی کو نشانہ بنانے والا زن بیزار مواد پھیلا رہے ہیں۔سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھی تنازعے پر ردعمل دیا اور کہا، ’’زن بیزاری ان مردوں کی آخری پناہ گاہ ہے جن میں ذہانت اور مزاح کی کمی ہو۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: بلڈوزر کارروائی سے این ایس اے تک جسٹس اتل شری دھرن نے کئی قابل قدر فیصلے سنائے
قابل ذکر ہے کہ اگست میں بی جے پی کی نئی مقرر کردہ سوشل میڈیا ٹیم پر اس کے ارکان سے منسوب پرانی پوسٹوں کے سبب تنقید ہوئی تھی، جن میں مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کی تعریف، اسلام مخالف اور فرقہ وارانہ تبصرےاور خواتین کو نشانہ بنانے والی زن بیزار زبان شامل تھی۔اس تنازعے نے ناقدین کو پارٹی کی آئی ٹی مشینری پر یہ الزام لگانے پر اکسایا کہ وہ گالی گلوچ اور نفرت انگیز بیان بازی کو معمول بنا رہی ہے، اور بعض نے ’’گالی بکنے‘‘ کو بی جے پی آئی ٹی سیل کی بنیادی قابلیت قرار دیا۔
ذہن نشین رہے کہ سونیا گاندھی کو برسوں کے دوران بی جے پی لیڈروںحامیوں اور ہم خیال آوازوں کی طرف سے بار بار ذاتی حملوں کا سامنا کرنا پڑا، اور کئی ریمارکس کو جنس پرست یا زن بیزار، یا صنفی دقیانوسی تصورات کو ان کے اطالوی پس منظر کے بارے میں غیر ملکیوں سے نفرت والے حوالوں کے ساتھ جوڑنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔سونیا گاندھی کی تذلیل کرنے والوں میں بی جے پی لیڈر پرمود مہاجن، جارج فرنانڈیز ، گری راج سنگھ ، بی جے پی ایم ایل اے سریندر سنگھ شامل ہیں۔قابل ذکر ہے کہ وائرل میم ٹرینڈ نے اے آئی سے بنائی گئی تصاویر خصوصاً ان اوزاروں کے پیچھے موجود ڈیٹا سینٹرز کو بجلی فراہم کرنے اور ٹھنڈا رکھنے کے لیے درکار بجلی اور پانی کے ماحولیاتی اثرات پر بھی تشویش پیدا کی ۔