کولکاتا کے سریندر ناتھ لاء کالج کی وائس پرنسپل ڈاکٹر محمدی ترنم کے استعفے کے بعد اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (ABVP) سے وابستہ طلبہ نے ان کے دفتر میں گنگا جل چھڑکا اور اگر بتیاں جلائیں۔
EPAPER
Updated: September 13, 2026, 9:54 AM IST | Kolkata
کولکاتا کے سریندر ناتھ لاء کالج کی وائس پرنسپل ڈاکٹر محمدی ترنم کے استعفے کے بعد اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (ABVP) سے وابستہ طلبہ نے ان کے دفتر میں گنگا جل چھڑکا اور اگر بتیاں جلائیں۔
کولکاتا کے سریندر ناتھ لاء کالج کی وائس پرنسپل ڈاکٹر محمدی ترنم کے استعفے کے بعد اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (ABVP) سے وابستہ طلبہ نے ان کے دفتر میں گنگا جل چھڑکا اور اگر بتیاں جلائیں۔ طلبہ نے ۲۳؍ گھنٹے طویل احتجاج کے بعد ان کے استعفے کو ایک فتح قرار دیا اور کہا کہ اس قدم کا مقصد کالج سے گزشتہ ٹی ایم سی حکومت کے اثر و رسوخ کو ختم کرنا ہے۔اس احتجاج کے دوران وائس پرنسپل ڈاکٹر محمدی ترنم کے کمرے کو گھیرلیا گیا تھااور انہوں نے الزام لگایا کہ اس دوران کمرے کی بتی اور پنکھے بند کر دیے گئے تھے اور انہیں کھانا اور پانی تک نہیں دیا گیا۔تاہم پولیس تحفظ میں کالج سے باہر نکلتے وقت میڈیاسے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان سے زبردستی اور دباؤ ڈال کر استعفیٰ لیا گیا ہے اور یہ سب ایک سازش کے تحت ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالب علموں میں نظم و ضبط پیدا کرنے کی کوششوں کی وجہ سے کچھ عناصر ان کو عہدے سے ہٹانے پر تلے ہوئے تھے۔ انہوں نے ترنمول کانگریس سے کسی بھی تعلق کی تردید کی اور حکومت سے اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کی۔
یہ بھی پڑھئے: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں غیر معیاری کھانے کے خلاف طالبات کا تیسرے دن بھی احتجاج
واضح رہے کہ اس تنازع کی شروعات کالج کے اس نوٹس کے بعد ہوئی تھی جس میں امتحانات میں بیٹھنے کیلئے کم از کم ۷۵؍ فیصد حاضری کو لازمی قرار دیا گیا تھا۔ احتجاجی طلبہ کا کہنا تھا کہ اس شرط سے تقریباً ۹۰۰؍ میں سے ۶۰۰؍ طلباء امتحان دینے سے محروم ہو جاتے۔ بعد میں بی جے پی لیڈراور گورننگ کونسل کے چیئرمین کا ؤستو باغچی کی مداخلت کے بعد خود نامزدگی کی بنیاد پر ۴۰؍ فیصد حاضری والے طلباء کو بھی امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا، لیکن اس کے باوجود طلبہ کا احتجاج جاری رہا اور بالآخر وائس پرنسپل کواستعفیٰ دینا پڑا۔