Updated: September 12, 2026, 10:05 PM IST
| Mumbai
ہندوستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں ریکارڈ۹ء۴۴؍ ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد مجموعی ذخائر ۷ء۷۸۵؍ارب ڈالر کی تاریخی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ اس غیر معمولی اضافے کے بعد ہندوستان چین، جاپان اور سوئزرلینڈ کے بعد دنیا کا چوتھا سب سے بڑا فوریکس ہولڈر بن گیا ہے، جبکہ اضافی ڈالرز کو متوازن کرنے کیلئے آر بی آئی نے ایک لاکھ کروڑ روپے کے سرکاری بانڈز فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بلومبرگ کے اعداد و شمار کے مطابق، ۴؍ ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں ہندوستان کے فوریکس کے ذخائر میں ۴۴ء۹ ؍ ارب ڈالر کا شاندار اضافہ ہوا۔ اس اضافے کے بعد کل ذخائر ۷۸۵ء۷؍ ار ب ڈالر کی تاریخی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ اس زبردست اضافے کی بنیادی وجہ ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے لائی گئی فارن کرنسی نان ریزیڈنٹ بینک ڈیپازٹ اسکیم ہے جس نے ملک میں ڈالرز کی ریکارڈ آمد کو یقینی بنایا۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان اب چین، جاپان اور سوئزرلینڈ کے بعد دنیا کا چوتھا سب سے بڑا فوریکس ہولڈر بن گیا ہے اور اس نے روس کو پانچویں نمبر پر دھکیل دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نرملا سیتارمن نے آر بی آئی سے ڈجیٹل روپیہ پلیٹ فارم کی صلاحیت مزید بڑھانے کی اپیل کی
دلچسپ بات یہ ہے کہ فوریکس کے ذخائر میں یہ ریکارڈ اضافہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب سونے کی قیمتیں گرنے کی وجہ سے ہندوستان کے سونے کے ذخائر کی مالیت ۲ء۵۹؍ ارب ڈالر کم ہو کر ۱۱۳ء۸۱؍ ارب ڈالر رہ گئی ہے۔ فوریکس کے ذخائر میں یہ نمایاں اضافہ ملکی معیشت کی مضبوط بنیادوں کی علامت ہے۔ اس کی بدولت ریزرو بینک کو روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے میں بھرپور مدد ملے گی۔ اگر کرنسی میں اتار چڑھاؤ آتا ہے یا روپے کی قدر تیزی سے گرنے لگتی ہے تو ریزرو بینک ان ذخائر سے ڈالر جاری کر کے روپے کو سہارا دے سکتا ہے۔ دوسری جانب، غیر ملکی کرنسی کی اس بھاری آمد کے باعث بینکنگ نظام میں جو اضافی نقد رقم آ گئی ہے، اسے متوازن کرنے کیلئے ریزرو بینک نےایک لاکھ کروڑ روپے مالیت کے سرکاری بانڈز فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے جسے وپن مارکیٹ آپریشن کہا جاتا ہے۔ یہ سرکاری بانڈز تین مختلف مرحلوں میں نیلام کئے جائیں گے جس کے تحت ۱۷؍ ستمبر کو ۵۰؍ ہزارکروڑ روپے، ۲۱؍ ستمبر کو ۲۵؍ ہزار کروڑ روپےاور ۲۸؍ ستمبر کو بقیہ ۲۵؍ ہزار کروڑ روپے کے بانڈز فروخت کئے جائیں گے۔