شہرومضافات میں موسلادھار بارش سے ایک مرتبہ پھر معمولات ِزندگیمتاثر

Updated: August 17, 2022, 12:09 AM IST | Iqbal Ansari and Shahab Ansari | Mumbai

کئی علاقے اور سڑکیں زیرآب ، ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ،اندھیری اور ملن سب وے بند ، گاڑی والوں کو پریشانی ،جھیلوں میں ۹۴؍ فیصد سے زیادہ پانی ذخیرہ

Heavy rain in the city.
شہرمیں موسلادھار بارش کا منظر۔

شہرو مضافات میں منگل کو ایک مرتبہ پھر موسلادھار بارش ہوئی جس کے سبب معمولات زندگی متاثر ہوئی جبکہ کئی مقامات اور سڑکوں پر پانی جمع ہوجانے سے کئی اہم سڑکوں پر ٹریفک نظام بُری طرح متاثر ہوا۔ البتہ پارسی نئے سال کی چھٹی کے سبب تعلیمی ادارے، بہت سے دفاتر اور بینک بند ہونے کی وجہ سے شہریوں کو بہت زیادہ پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔منگل کی صبح سے ہی ممبئی ، تھانے، بھیونڈی، نوی ممبئی، میراروڈ، وسئی اور ویرار میں موسلادھار بارش کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا جس کی شدت سےایسا لگ رہا تھا کہ پورے دن بارش نہیں تھمے گی البتہ سہ پہر تک بارش کا زور کم ہوگیا اور پھر کبھی کم کبھی زیادہ برسات ہوتی رہی۔
 منگل کو صبح ۸؍ بجے سے دوپہر ۲؍ بجے تک ممبئی شہر میں ۴۴ء۲۰؍ملی میٹر، مشرقی مضافات میں ۳۶ء۵۵؍  ملی میٹر اور مغربی مضافات میں ۴۹ء۱۲؍ ملی میٹربارش ریکارڈ کی گئی۔
 شہر و مضافات میں گزشتہ چند روز سے بارش کا زور کافی کم تھا لیکن منگل کو صبح  بھاری بارش کے سبب تاڑدیو میں مہالکشمی جنکشن پر تقریباً آدھا فٹ پانی جمع ہوگیا جس کے سبب گاڑیاں انتہائی دھیمی رفتار سے چل رہی تھیں۔یہی حال پریل پر واقع ہند ماتا جنکشن کا بھی رہا جہاں آدھا فٹ پانی جمع ہونے کے سبب جنوبی ممبئی کی طرف جانے والی گاڑیوں کی رفتار انتہائی کم تھی۔
 سڑکوں پر گڑھوں کو بھرنے کیلئے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی خصوصی ہدایات کے باوجود بارش کے سبب سڑکوں پرگڑھوں کی تعداد میں پھر سے اضافہ ہوگیا ہے۔ ان گڑھوں میں پانی بھرجانے سے گاڑی والوں  اور  راہگیروں کو بھی دقتوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
 دن کے شروع کے چند گھنٹوں کی بارش میں ہی پانی بھرنے کے سبب اندھیری کا ملن سب وے اور ملاڈ سب وے گاڑیوں کی آمدورفت کیلئے بند کردیئے گئے تھے۔ ان دونوں مقامات پر ٹریفک کو دیگر راستوں پر منتقل کردیا گیا ۔ رہائشی اور ان کے قرب و جوار کے علاقوں میں بارش کے جمع شدہ پانی میں بچوں کھیلنے کا موقع مل گیا اور وہ اس سے  خوب لطف اندوز ہوئے۔ البتہ اس دوران ٹرین اور بس جیسی پبلک ٹرانسپورٹ کی خدمات پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔ اسی طرح ٹیکسی، رکشا اور ایپ سے بک کی جانے والی  گاڑیوں کی  خدمات بھی معمول کے مطابق رہیں۔
 واضح رہے کہ عام طور پر ممبئی میں اگست میں ۵۶۰ء۸؍ ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی جاتی ہے جبکہ اس سال رواں ماہ کے ابتدائی ۱۲؍ دن میں ہی ۳۶۵ء۱؍ ملی میٹر برسات ریکارڈ کی جاچکی ہے جو کہ عام حالات میں اگست میں ہونے والی برسات کا تقریباً ۶۵؍ فیصد  ہے اور منگل کی بارش نے اس میں مزید اضافہ کردیاہے۔
 فی الوقت ممبئی کو پانی سپلائی کرنے والی ساتوں جھیلوں میںمنگل کو گزشتہ برس کے مقابلے ۱۲؍ فیصد سے بھی زیادہ پانی جمع ہوچکا ہے۔ پچھلے سال ممبئی کی تمام جھیلوں میں اس وقت تک ۸۲ء۱۳؍ فیصد پانی ذخیرہ ہوا تھا جبکہ اس سال اب تک ان جھیلوں میں ۹۴؍ فیصد سے بھی زائد پانی ذخیرہ ہوچکا ہے۔
 یاد رہے کہ جولائی  میں موڈک ساگر، تانسا اور تلسی جھیلیں چھلک گئی تھیں جبکہ ۱۱؍ اگست کو وہار جھیل بھی  چھلک چکی ہے۔ اس دوران اگرچہ مڈل ویترنا اور بھاتسا جھیلوں میں ان کی گنجائش کے مقابلے میں ۱۰۰؍ فیصد پانی جمع نہیں ہوا ہے لیکن ان کے قرب و جوار لہ گائوں اور ڈیم کو نقصان پہنچنے کے اندیشے کے پیش نظر حفاظتی نقطہ نظر سے مڈل ویترنا جھیل کے ۲؍ دروازے اور بھاتسا کے ۵؍ دروازے کھول دیئے گئے ہیں۔ مڈل ویترنا میں ۲۸۵؍ ملین لیٹر پانی جمع کرنے کی گنجائش ہے لیکن اس میں فی الوقت ۲۸۳ء۴۰؍ ملین لیٹر پانی جمع ہوا ہے جبکہ بھاتسا جھیل میں ۱۴۲ء۰۷؍ ملین لیٹر پانی جمع کرنے کی گنجائش ہے لیکن اس میں فی الحال ۱۴۰ء۶۶؍ فیصد پانی جمع ہوا ہے۔ ممبئی کی سب سے بڑی جھیل اپر ویترنا میں ۶۰۳ء۵۱؍ ملین لیٹر پانی جمع کرنے کی گنجائش ہے اور فی الوقت اس میں ۵۹۵ء۴۴؍ملین لیٹر پانی جمع ہوا ہے۔
 منگل کو ممبئی میں ۴، مغربی مضافات میں ۵؍ اور مشرقی مضافات میں ۲؍ مقامات پر شارٹ سرکٹ کی شکایتیں بی ایم سی کو موصول ہوئیں۔ ان تینوں علاقوں میں کُل ۱۱؍ درخت گرے۔ اس کے علاوہ ۲؍ مقامات پر عمارت کا کچھ حصہ گرنے کی شکایت بھی شہری انتظامیہ کو موصول ہوئی  جس پر راحت کاری کے لئے متعلقہ محکموں کو ہدایت جاری کردی گئی تھی البتہ ان تمام واقعات میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK