Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیجریوال کی پیروی کیلئے ہائی کورٹ کا ’مشیر عدالت‘کی تقرری کا فیصلہ

Updated: May 06, 2026, 9:37 AM IST | Agency | New Delhi

جسٹس سورن کانتا نے بائیکاٹ کا جواب ڈھونڈ نکالا،عدالت کا منتخب کردہ وکیل’ آپ‘ لیڈروں کا دفاع کرےگا۔

Arvind Kejriwal.Photo:INN
اروند کیجریوال-تصویر:آئی این این
 شراب پالیسی کیس میں ذیلی عدالت سے بری کئے جانے کے خلاف سی بی آئی کی اپیل پر سماعت  سے خود کو علاحدہ کرنے سے انکار کرنےوالی جسٹس سورن کانتا نے اب عام آدمی پارٹی کے لیڈروں  اروند کیجریوال، منیش سیسودیا اور درگیش پاٹھک  کے عدالت کے بائیکاٹ کا توڑ ڈھونڈ نکالا ہے۔
 
 
انہوں نے منگل کو کہا کہ وہ ملزمین کی  پیروی اور دفاع کیلئے  امیکس کیوری(مشیر عدالت) کی تقرری کریں گی۔  یاد رہے کہ دہلی  کے سابق  وزیراعلیٰ اور اراکین اسمبلی نے جسٹس  سورن کانتا شرما کی عدالت کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ کیجریوال نےا سے ستیہ گرہ کا نام دیا ہے۔ان کے مطابق جسٹس سورن کانتا کئی بار آر ایس ایس سے وابستہ وکیلوں کی تنظیم کے پروگرام میں شرکت کرچکی ہیں  نیز ان کا بیٹا اور بیٹی سرکاری وکیل ہیں  جنہیں سالیسٹر جنرل تشار مہتا مقدمات سونپتے ہیں، اس لئے  انہیں  شبہ ہے کہ جج شرما  کی عدالت میں مقدمہ کی شنوائی منصفانہ اور غیر جانبدارانہ نہیں  ہو پائے گی۔  اس کیلئے کیجریوال  نے عدالت میں باقاعدہ جرح بھی کی کہ جسٹس سورن کانتا خود کو مقدمہ سے علاحدہ کرلیں مگر انہوں نے اس سے انکار کردیا۔ اس کے بعد سے عدالت میں سی بی آئی کی پیروی کیلئے تو سالیسٹر جنرل موجود ہوتے ہیں مگر کیجریوال، سیسودیا اور درگیش کی پیروی کیلئے کوئی نہیں  ہوتا۔ منگل کو جسٹس سورن کانتا شرما نے سماعت۸؍مئی تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ مناسب ہوگا کہ جب کسی کو ان(کیجریوال اور دیگر) کی نمائندگی کیلئے  مقرر کر دیا جائے تب ہی معاملے کی کارروائی آگے بڑھے۔
 
 
جسٹس شرما نے کہاکہ’’میں ایک امیکس کیوری مقرر کروں گی۔ میں کسی کی تقرری کروں گی۔ میں اس کیس میں تین سینئر وکلا مقرر کروں گی۔‘‘ سالیسٹر جنرل تشار مہتا  کے اس سوال پر کہ کیا عدالت کیجریوال اور دیگر  کی پیروی کیلئے تقرری کر رہی ہے جج   نے اثبات میں جواب دیا اور کہاکہ’’ میں امیکس سے متعلق حکم جاری کروں گی اور پھر سماعت شروع ہوگی۔‘‘

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK