Inquilab Logo Happiest Places to Work

کانز ۲۰۲۶ء: ریڈ کارپٹ کے پیچھے اربوں کا فلم مارکیٹ

Updated: May 16, 2026, 10:02 PM IST | Cannes

فرانس میں جاری Cannes Film Festival صرف گلیمر اور ریڈ کارپٹ تک محدود نہیں بلکہ دنیا کی سب سے بڑی فلمی مارکیٹ Marché du Film کا مرکز بھی ہے، جہاں ۱۴۰؍ ممالک کے ۴۰؍ ہزار سے زائد فلمی پیشہ ور ۴؍ ہزار فلموں اور منصوبوں پر اربوں ڈالر کے سودے کرتے ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

فرانس میں جاری Cannes Film Festival کو دنیا بھر میں عموماً ریڈ کارپٹ، فیشن، سپر اسٹارز اور فوٹوگرافروں کی چمکتی فلیش لائٹس کے لیے جانا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں اس عالمی میلے کی سب سے بڑی طاقت اس کے پردے کے پیچھے ہونے والے اربوں ڈالر کے کاروبار میں چھپی ہوئی ہے۔ فیسٹیول کے ساتھ چلنے والی دنیا کی سب سے بڑی فلمی مارکیٹ Marché du Film اس وقت عالمی فلم انڈسٹری کا سب سے اہم تجارتی مرکز بن چکی ہے۔ یہاں صرف فلمیں نہیں دکھائی جاتیں بلکہ ان پر عالمی سطح کے حقوق، اسٹریمنگ سودے، شریک پروڈکشن معاہدے اور علاقائی تقسیم کے بڑے کاروباری فیصلے ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے : پاکستان: ’’دھرندھر ۲‘‘ کا جنون، نیٹ فلکس کا سرور کریش: رپورٹ

اس سال کانز کو ریکارڈ ۱۶؍ 6 ہزار فلمی اندراجات موصول ہوئے، لیکن ان میں سے صرف ۲۲؍ فلمیں ’’پام ڈور‘‘ کے مرکزی مقابلے تک پہنچ سکیں۔ تاہم، صنعت کے لیے اصل انعام صرف ٹرافی نہیں بلکہ وہ سرمایہ کاری اور عالمی معاہدے ہیں جو مارکیٹ ہالز میں طے پاتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اس سال ۱۴۰؍ ممالک کے تقریباً ۴۰؍  ہزار فلمی پیشہ ور افراد مارکیٹ میں شریک ہوئے، جہاں ۴؍ ہزار سے زائد فلمیں اور منصوبے سرمایہ کاروں اور خریداروں کے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں۔ ۱۷۰۰؍ سے زیادہ خریداروں، ۶۰۰؍ نمائشی کمپنیوں اور ۱۵۰۰؍ فلمی و مارکیٹ اسکریننگز نے اسے عالمی فلمی تجارت کا سب سے بڑا اجتماع بنا دیا۔ فلمی ماہرین کے مطابق کسی فلم کی ایک کامیاب اسکریننگ یا طویل اسٹینڈنگ اوویشن اس کی مارکیٹ ویلیو کو فوری طور پر کئی گنا بڑھا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معمولی بجٹ کی فلمیں بھی چند دنوں میں ملٹی ملین ڈالر سودوں تک پہنچ جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے : جان ٹراولٹا کو کانز ۲۰۲۶ء میں اعزازی ’’پام ڈور‘‘ تفویض کیا گیا

ہندوستانی اسٹوڈیوز اور پروڈیوسرز کے لیے بھی Marché du Film اب انتہائی اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کے دور میں یہاں حاصل ہونے والی کم از کم ضمانتیں، اسٹریمنگ ڈیلز اور عالمی تقسیم کے معاہدے فلموں کے بجٹ بحال کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ خاص طور پر نیٹ فلکس اور پرائم ویڈیو جیسے عالمی او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر ہندوستانی مواد کی بڑھتی مقبولیت نے اس اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس سال آرٹ ہاؤس ڈسٹری بیوٹر MUBI سب سے زیادہ زیر بحث کمپنیوں میں شامل رہی۔ کمپنی نے کئی پام ڈور فلموں کے عالمی حقوق حاصل کیے اور لوکاس دھونٹ کی فلم ’’Coward‘‘ سمیت متعدد بڑے پروجیکٹس خریدے۔ ۲۰۲۵ء میں موبی کی چھ فلموں کو کانز میں ایوارڈ ملنے کے بعد ناقدین نے اسے ’’کانز مارکیٹ ٹیک اوور‘‘ قرار دیا تھا۔ کانز کے گرد ہندوستانی انفلوئنسرز کی موجودگی بھی اس سال بحث کا موضوع بنی رہی۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ بعض سوشل میڈیا شخصیات نے ریڈ کارپٹ رسائی کے لیے ۲۵؍ سے ۴۰؍ لاکھ روپے تک خرچ کیے، اگرچہ متعدد افراد نے بعد میں واضح کیا کہ یہ میڈیا پارٹنرشپ معاہدوں کا حصہ تھا۔ ناقدین نے اسے ’’مہنگی تشہیر‘‘ قرار دیا جبکہ حامیوں کے مطابق یہ عالمی نیٹ ورکنگ اور برانڈ بلڈنگ کی حکمت عملی تھی۔ کانز فلم فیسٹیول ایک غیر منافع بخش ادارے کے طور پر چلایا جاتا ہے جسے فرانسیسی حکومت، نجی اسپانسرز اور کارپوریٹ شراکت داریوں سے مالی معاونت ملتی ہے۔ ایئر فرانس، بی ایم وی، شوپارڈ، لوریل پیرس اور میٹا جیسے عالمی برانڈز اس کے بڑے اسپانسرز میں شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق صرف ایکریڈیٹیشن فیس سے ہی اس سال تقریباً ۵؍ ملین ڈالر سے زیادہ آمدنی متوقع ہے، جبکہ برانڈ اسپانسرشپ اور ٹی وی حقوق کانز کو عالمی تفریحی صنعت کے سب سے منافع بخش ثقافتی ایونٹس میں شامل کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK