Inquilab Logo Happiest Places to Work

ورنداون اورمتھرا میں نان ویج ہوٹلوں کے خلاف کارروائی پرہائی کورٹ کا یوگی حکومت کو نوٹس

Updated: March 03, 2022, 7:57 AM IST | Jilani Khan | Lucknow

اتر پردیش بی جے پی حکومت کےایک اورآمرانہ فیصلے کے خلاف متاثرین کی عرضی پر ہائی کورٹ نے سرکار کو نوٹس دیتے ہوئے ایک ہفتہ کے اندر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔

State government orders non-veg hotel and restaurant owners to file bread issue
ریاستی حکومت کے فرمان سے نان ویج ہوٹل اور ریستوراں مالکان کے سامنے روزی روٹی کاسنگین مسئلہ،۱۰؍افراد نے عدالت میں عرضی داخل کی

اتر پردیش بی جے پی حکومت کےایک اورآمرانہ فیصلے کے خلاف متاثرین کی عرضی پر ہائی کورٹ نے سرکار کو نوٹس دیتے ہوئے ایک ہفتہ کے اندر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔یہ معاملہ متھرا اورورنداوان میں چل رہے نان ویج ہوٹل و ریستو ر ا نوں کے لائسنس کی منسوخی سے متعلق ہے جس میں ۱۰؍عرضی گزار ہیں۔معاملے کی ا گلی سماعت ۹؍مارچ کو ہوگی۔الٰہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایس ڈی سنگھ اور جسٹس شیکھر یادو پر مشتمل بینچ نے ہوٹل مالک مجاہد محمد اور ۹؍دیگرکی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے اور ہدایت دی ہے کہ وہ ایک ہفتہ میں اس کا جواب داخل کرے۔۲؍ رکنی بینچ نے اگلی سماعت کیلئے ۹؍مارچ کی تاریخ مقرر کی ہے۔مجاہد محمد اور دیگر عرضی گزار متھرا اور ورنداون علاقہ میں ہوٹل اور ریستوراں چلاتے ہیں۔ان کی شکایت ہے کہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری کے ایک نوٹیفیکیشن کے بعد فوڈ سیکوریٹی محکمہ نے ان کا لائسنس منسوخ کردیا۔تاہم، یہ فیصلہ یکطرفہ کیا گیا اور ہمیں نوٹس دیا گیا نہ ہمیں اپنی بات رکھنے کا کوئی موقع ملا۔عرضی گزاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی یہ کارروائی آئین کے آرٹیکل ۲۱؍کی سنگین خلاف ورزی ہے،ا س لئے عدالت اس میں مداخلت کرے۔دراصل، بی جے پی حکومت نےمتھرانگر پالیکا کے ۲۲؍ وارڈوںکو ’پوتر تیرتھ استھل‘ میں شامل کیا ہے۔حکومت نے ان علاقوںمیں شراب اور گوشت کی فروخت پر پابندی بھی عائد کردی تھی ۔اس فیصلے کے بعد آناًفاناًمحکمہ فوڈ سیکوریٹی کے افسران نے متھرا اورورنداون کے نان ویج ہوٹلوں اور ریسٹورینٹس کے لائسنس منسوخ کردیئے جس سے ان ہوٹلوں  اورریستوراں مالکان کے سامنے روزی روٹی کا مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے۔ہر طرف دوڑ بھاگ کے باوجود جب کوئی راستہ نہیں نکلا تو انہوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور انصاف کی فریاد کی۔   یوگی حکومت نے گوشت   اورشراب پر جو پابندی عائد کی ہے اس کا اطلاق شری کرشن جنم استھان سے ۱۰؍کلو میٹر کے دائرے تک ہے۔اس حکم نامے کے سبب متھرا ورنداون کے ۲۲؍نگر نگم وارڈ متاثرہورہے ہیں جہاں واقع ۱۲؍گوشت کی دکانیں اور ۶؍ریستوراں زد میں ہیں۔ اس فیصلے کا معاشی اثر یہ ہوا کہ جن ۲۲؍نگر نگم وارڈمیں یہ نافذ ہوا ان علاقوں میں ۱۲؍ نان ویج لا ئسنس یافتہ دکانیں اور ۶؍ریسٹورنٹ ،جہاں نان ویج کھانے بنتے تھے،ان سبھی کو بند کرنا پڑا۔ حالانکہ، اس وقت محکمہ فوڈ و ڈرگس کے افسران نے کہا تھا کہ حکومتی سطح سے جیسے ہی ہدایت ملے گی ہم متعلقہ ان دکانداروں و ریسٹورنٹ مالکان سے بات کرکے انہیں دوسرے کاروبار کا لائسنس کیلئے راضی کرنے کی کوشش کریں گے۔ویسےمحکمہ کے مطابق، متھرا ضلع میں کل ۳۴؍گوشت کی دکانیں  اور نان ویج ریسٹورنٹس ہیں جبکہ شراب کی دکانوں اور بیئربار کی تعداد ان سے بہت زیادہ ہے۔مذکورہ محکمہ کےا عدادوشمارکے مطابق، اس ضلع میں کل ۱۸۴؍دیسی شراب کی دکانیں جبکہ ۲۱۱؍غیر ملکی شراب کی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK