Inquilab Logo Happiest Places to Work

مدھیہ پردیش: لنچنگ فیصلے کے بعد جج کو دھمکی، ہائی کورٹ نے ازخود نوٹس لیا

Updated: July 03, 2026, 5:02 PM IST | Bhopal

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے لنچنگ کے مجرموں کو سزا کےبعد جج کو ملی دھمکی کا ازخود نوٹس لیا، ہائی کورٹ نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات عدالتی افسران کی عدالتی آزادی اور بے خوف کام کرنے میں براہ راست رکاوٹ ڈالتے ہیں۔

Madhya Pradesh High Court. Photo: X
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے بدھ کو نرمدا پورم ضلع میں ایک مسلمان جج ، جب انہوں نے۲۰۲۲ء کے ایک مقدمے میں سات افراد کو سزا سنائی تھی جس میں ایک ٹرک ڈرائیور پر ایک گروہ نے حملہ کیا تھا جس کا دعویٰ تھا کہ وہ مویشی اسمگلر ہے،کے خلاف موت کی دھمکیوں اور فرقہ وارانہ مغلظات کا خود از خود (سو موٹو) نوٹس لیا۔ یہ رپورٹ لائیو لاء نے جمعہ کو شائع کی۔ واضح رہے کہ ۱۲؍ جون کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تبسم خان نے سیونی مالوا تحصیل کے باراخار گاؤں میں ٹرک ڈرائیور شیخ لالہ نذیر احمد کو قتل کرنے والے سات افراد کو سزا سنائی۔اس کے فوری بعد سوشل میڈیا پر موت کی دھمکیوں اور فرقہ وارانہ گالیوں پر مشتمل ویڈیوز شیئر کی گئیں۔ ویڈیوز میں کچھ مظاہروں میں جج کے پُتلے جلتے ہوئے بھی دکھائی دیے۔

یہ بھی پڑھئے: حراستی موت کیس : ۹؍پولیس اہلکاروں کو عمر قید کی سزا

بعد ازاں بدھ کو ڈویژن بنچ نے مشاہدہ کیا کہ اس طرح کے اقدامات عدالتی آزادی کو مجروح کرتے ہیں۔ عدالت نے ہدایت دی کہ عبوری اقدام کے طور پر جج خان کو پولیس تحفظ فراہم کیا جاتا رہے۔ لائیو لاء نے جسٹس ویویک اگروال اور جسٹس اونند کمار سنگھ کے بنچ کے حوالے سے نقل کیا کہ ججوں  کے خلاف دھمکیاں ہمارے عدالتی افسران کی عدالتی آزادی اور بے خوف کام کرنے میں براہ راست رکاوٹ ڈالتی ہیں۔‘‘ دریں اثناء عدالت نے مدھیہ پردیش کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس اور ایڈیشنل چیف سکریٹری یا پرنسپل سکریٹری (ہوم) کو بھی ہدایت دی کہ وہ جج خان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور دھمکیوں کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی تفصیلات پر ذاتی حلف نامے جمع کروائیں۔ساتھ ہی بنچ نے مشاہدہ کیا کہ عدالتی احکام قانون کے تحت اپیل اور نظرثانی کے تابع ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہمارے عدالتی افسر کو صرف اس لیے دھمکی نہیں دی جا سکتی کہ اس نے کوئی خاص حکم دیا ہے اور معاشرے کے ایک خاص طبقے کو وہ حکم پسند نہیں آیا۔‘‘ جبکہ بدھ کو سپریم کورٹ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ ایسوسی ایشن نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ وہ ’’جج خان کے خلاف دھمکیوں اور ہدفی سوشل میڈیا مہم کی صریحاً مذمت کرتی ہے۔‘‘  تاہم ۲۳؍جون کو پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف بھارتیہ نیا ئےسنہتا کی دفعات کے تحت فوجداری مقدمہ درج کیا جن کا تعلق دشمنی کو فروغ دینے اور مذہبی جذبات کو جان بوجھ کر ٹھیس پہنچانے والے الفاظ استعمال کرنے سے ہے۔

یہ بھی پڑھئے: این آر سی، ووٹر آئی ڈی اور پین کارڈ سمیت ۱۵؍ دستاویز دئیے پھر بھی شہریت’’ ثابت‘‘ نہیں ہوئی

استغاثہ کے مطابق،۲؍ اگست۲۰۲۲ء کو نذیر احمد اور دو دیگر افراد نندرواڑہ گاؤں سے مویشیوں کو مہاراشٹر لے جا رہے تھے کہ باراخار کے قریب ایک ہجوم نے لاٹھیوں اور ڈنڈوںسے مسلح ہو کر ان کی گاڑی کو روک لیا۔احمد بعد میں اپنے زخموں کی وجہ سے دم توڑ گئے، جبکہ دو دیگر افراد زندہ بچ گئے۔ اپنے فیصلے میں جج خان نے کہا کہ استغاثہ نے الزامات کو معقول شک سے بالاتر ثابت کر دیا ہے۔ اگرچہ مقدمے کے دوران دو زندہ بچ جانے والے افراد نے مخالف موقف اختیار کیا (ہوسٹل وٹنس بن گئے)، تاہم عدالت نے طبی اور فورنسک شواہد کے علاوہ خون سے لتھڑے ہتھیاروں اور کپڑوں کی برآمدگی کی بنیاد پر ساتوں افراد کو سزا سنائی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK