اس کے ساتھ ہی شوبھندو سرکار نے سابقہ حکومت کے دوران سیاسی تشدد میں مارے گئے۳۲۱؍ بی جے پی کارکنوں کے اہل خانہ کی ذمہ داری لینے کابھی اعلان کیا، ساری اسکیموں پر عمل آج ہی سے ہوگا۔
پہلی کابینی میٹنگ کے بعد بنگال کے وزیراعلیٰ شوبھندو ادھیکاری-تصویر:آئی این این
مغربی بنگال کی نئی تشکیل شدہ حکومت نے پیر کو ریاستی سیکریٹریٹ نابنا میں اپنی پہلی کابینہ میٹنگ منعقد کی۔میٹنگ کے بعد حکومت نے انتظامی، سیکوریٹی اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق کئی اہم فیصلوں کا اعلان کیا۔ ان میں ہند،بنگلہ دیش سرحد پر باڑ لگانے کیلئے بارڈر سیکوریٹی فورس (بی ایس ایف) کو زمین منتقل کرنا اور ریاست میں آیوشمان بھارت صحت اسکیم سمیت مرکزی حکومت کی مختلف فلاحی اسکیموں کو نافذ کرنا شامل ہے۔وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے کابینہ میٹنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ نے بی ایس ایف کو زمین منتقل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زمین کی منتقلی کا عمل آج ہی سے شروع ہو رہا ہے اور آئندہ ۴۵؍ دنوں کے اندر یہ زمین مرکزی وزارت داخلہ کے حوالے کر دی جائے گی۔ ان کے مطابق اس عمل کے مکمل ہونے کے بعد بی ایس ایف سرحد پر باڑ لگانے کا کام تیزی سے مکمل کرے گی، جس سے غیر قانونی دراندازی کے مسئلے پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
واضح رہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوران سرحدی علاقوں میں دراندازی اور باڑ بندی کا مسئلہ بی جے پی کی انتخابی مہم کا ایک اہم موضوع رہا تھا۔ بی جے پی نے سابق ترنمول کانگریس حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے جان بوجھ کر بی ایس ایف کو زمین فراہم نہیں کی تاکہ سرحدی انفراسٹرکچر کی تعمیر نہ ہو سکے۔ پارٹی کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ سرحد پار سے آنے والے غیر قانونی درانداز بعض سرحدی اضلاع میں ترنمول کانگریس کے ووٹ بینک کا حصہ بن چکے ہیں۔مغربی بنگال کی بنگلہ دیش کے ساتھ تقریباً۲۲۱۶؍ کلومیٹر طویل سرحد ملتی ہے، جس کے ایک بڑے حصے پر اب تک باڑ نہیں لگائی جا سکی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے ریاست میں بے روزگاری کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے ایک اور اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمتوں کیلئے درخواست دینے کی زیادہ سے زیادہ عمر کی حد میں پانچ سال کی رعایت دی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ نئی حکومت اچھی حکمرانی، عوامی تحفظ اور ترقیاتی کاموں کو اولین ترجیح دے گی اور ریاست کو مرکزی حکومت کی اہم فلاحی اسکیموں سے مزید مؤثر طریقے سے جوڑا جائے گا۔وزیر اعلیٰ کے اہم اعلانات میں ریاست میں باضابطہ طور پر آیوشمان بھارت اسکیم نافذ کرنے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آیوشمان بھارت اسکیم کے علاوہ ریاست میں جن آروگیہ یوجنا، فصل بیمہ اسکیم اور اُجالا یوجنا سمیت مرکزی حکومت کی دیگر فلاحی اسکیمیں بھی نافذ کی جائیں گی۔
اسی کے ساتھ مغربی بنگال کی نئی حکومت نے اعلان کیا کہ سابقہ حکومت کے دوران سیاسی تشدد میں مارے گئے بی جے پی کارکنوں کے اہل خانہ کی بھی مدد کی جائے گی۔ بی جے پی کے اپنے ریکارڈ کے مطابق ترنمول کانگریس کی حکومت کے دوران ریاست بھر میں بی جے پی کے ۳۲۱؍ کارکنوں کی موت واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی قتل میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی بھی کی جائے گی۔قابلِ ذکر ہے کہ نتائج ظاہر ہونے کے تیسرے دن ۶؍ مئی کو ادھیکاری کے نجی معاون چندرناتھ کو اُس وقت گولی ماردی گئی تھی جب وہ شمالی۲۴؍ پرگنہ میں اپنے گھر واپس جا رہے تھے۔
وزیر اعلیٰ نے ریاستی انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آئی اے ایس افسران کو ایک مرکزی تربیتی نظام سے جوڑا جائے گا تاکہ انتظامیہ کو مزید مؤثر اور جواب دہ بنایا جا سکے۔انہوں نے سابق ترنمول کانگریس حکومت پر مردم شماری سے متعلق مرکزی وزارتِ داخلہ کی ہدایات کے نفاذ میں تاخیر کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے آج مردم شماری کے عمل کے آغاز سے متعلق ایک انتظامی ہدایت جاری کر دی ہے۔ یہ کام تقریباً۱۱؍ ماہ کی تاخیر کے بعد اب شروع ہو رہا ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ ۱۶؍ جون ۲۰۲۵ء کو وزارتِ داخلہ نے رجسٹرار جنرل آف انڈیا اور مردم شماری کمشنر کے دفتر کے ذریعے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، لیکن اس کے باوجود تقریباً ایک سال تک مردم شماری کے عمل کو جان بوجھ کر روکے رکھا گیا۔ ان کا مقصد حلقہ بندی کے عمل اور خواتین، خاص طور پر ہماری ماؤں اور بہنوں کیلئے ریزرویشن سے متعلق وزیر اعظم کی پہل میں رکاوٹ ڈالنا تھا۔ اس معاملے کی جانچ کیلئے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔‘‘