Updated: May 12, 2026, 11:02 AM IST
| Mumbai
مرکز نے بامبے ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ اگنی ویر اسکیم کے تحت بھرتی ہونے والے اہلکاروں کے اہل خانہ باقاعدہ فوجیوں جیسی فیملی پنشن کے حقدار نہیں ہو سکتے کیونکہ دونوں کی سروس شرائط مختلف ہیں۔ یہ موقف متوفی اگنی ویر مرلی نائیک کی والدہ کی درخواست پر سامنے آیا، جن کے بیٹے کی پونچھ سیکٹر میں پاکستانی گولہ باری کے دوران موت ہوئی تھی۔ حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ اگنی ویر صرف چار سالہ مدت کے لیے بھرتی کیے جاتے ہیں جبکہ پنشن طویل مدتی سروس سے وابستہ ہے۔
بامبئے ہائی کورٹ : تسویر آئی این این
مرکز نے بامبے ہائی کورٹ میں دائر ایک حلف نامے میں واضح کیا ہے کہ اگنی پتھ اسکیم کے تحت بھرتی ہونے والےاگنی ویروں کے اہل خانہ باقاعدہ فوجیوں کی طرح فیملی پنشن یا دیگر طویل مدتی پنشنری فوائد کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔ یہ مؤقف متوفی اگنی ویر مرلی نائیک کی والدہ جیوتی بائی نائیک کی درخواست کے جواب میں پیش کیا گیا، جنہوں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ اگنی ویروں کو بھی باقاعدہ فوجیوں جیسی مراعات دی جائیں کیونکہ وہ یکساں خطرات اور ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔ مرلی نائیک گزشتہ سال ۹؍ مئی کو جموں کشمیر کے پونچھ سیکٹر میں پاکستانی فوج کی شدید گولہ باری کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے : نیتی آیوگ نے اسکولوں میں اے آئی تعلیم کا ۱۳؍ نکاتی روڈ میپ پیش کیا
رپورٹس کے مطابق یہ حملے اس وقت شروع ہوئے جب بھارت نے پہلگام دہشت گرد حملے کے جواب میں ’’آپریشن سندور‘‘ شروع کیا تھا، جس میں ۲۶؍ افراد مارے گئے تھے۔ درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ اگنی ویر بھی سرحدوں پر وہی فرائض انجام دیتے ہیں جو ریگولر فوجی ادا کرتے ہیں، اس کے باوجود ان کے خاندانوں کو پنشن اور دیگر فلاحی مراعات سے محروم رکھا جا رہا ہے، جو ’’امتیازی سلوک‘‘ کے مترادف ہے۔ تاہم حکومت نے اپنے جواب میں کہا کہ اگنی ویر اور مستقل فوجیوں کے درمیان واضح قانونی اور سروس بنیادوں پر فرق موجود ہے، اس لیے دونوں کو ایک جیسا تصور نہیں کیا جا سکتا۔
حلف نامے میں کہا گیا کہ اگنی ویر صرف چار سال کی محدود مدت کے لیے بھرتی کیے جاتے ہیں جبکہ پنشنری فوائد طویل مدتی خدمات سے منسلک ہوتے ہیں۔ مرکز نے عدالت کو بتایا، ’’دو مختلف طبقات کے افراد کے درمیان برابری قائم نہیں کی جا سکتی۔ یہ درجہ بندی اگنی پتھ اسکیم کے مقاصد سے براہ راست جڑی ہوئی ہے اور آئین کے آرٹیکل ۱۴؍ کے تحت مکمل طور پر جائز ہے۔‘‘ حکومت نے مزید کہا کہ اگنی پتھ اسکیم قومی سلامتی کی موجودہ ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے متعارف کرائی گئی پالیسی ہے، جس کا مقصد ایک نوجوان، متحرک اور تکنیکی طور پر جدید فوج تشکیل دینا ہے۔
یہ بھی پڑھئے : دھولیہ کے سید افتخار قومی سطح کے پولیس بیڈمنٹن کلسٹر مقابلوں کیلئے لکھنؤ روانہ
حلف نامے میں کہا گیا کہ مرلی نائیک کے اہل خانہ کو اسکیم کے تحت تمام واجب الادا فوائد فراہم کیے جا چکے ہیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً ۳ء۲؍ کروڑ روپے بنتی ہے۔ اس رقم میں انشورنس کور، معاوضہ اور دیگر مالی فوائد شامل ہیں۔ حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ فوج میں ’’شہید‘‘ کی اصطلاح سرکاری طور پر استعمال نہیں کی جاتی بلکہ مرلی نائیک کو ’’کارروائی میں ہلاک‘‘ قرار دیا گیا۔ مرکز کے مطابق ان کی آخری رسومات مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ ادا کی گئیں اور خاندان کو رجمنٹ کے کمانڈنگ افسر کی جانب سے تعزیتی خط بھی موصول ہوا، جیسا کہ باقاعدہ فوجیوں کے اہل خانہ کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
حلف نامے میں یہ مؤقف بھی اپنایا گیا کہ اگنی پتھ اسکیم کی آئینی حیثیت کو پہلے ہی دہلی ہائی کورٹ اور بعد ازاں سپریم کورٹ برقرار رکھ چکی ہیں۔ مرکز نے عدالت سے درخواست مسترد کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی اور دفاعی پالیسی سے متعلق فیصلوں میں عدالتی مداخلت محدود ہونی چاہیے۔ بامبے ہائی کورٹ میں اس معاملے کی اگلی سماعت ۱۸؍ جون کو مقرر کی گئی ہے۔