ڈیری کے شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ بڑھی ہوئی قیمتوں سے نہ صرف ان کی آمدنی میں بہتری آئے گی بلکہ مویشی پالنے کی سرگرمیوں کو جاری رکھنا بھی آسان ہو جائے گا۔
EPAPER
Updated: April 03, 2026, 3:28 PM IST | Mumbai
ڈیری کے شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ بڑھی ہوئی قیمتوں سے نہ صرف ان کی آمدنی میں بہتری آئے گی بلکہ مویشی پالنے کی سرگرمیوں کو جاری رکھنا بھی آسان ہو جائے گا۔
ہماچل پردیش حکومت کی جانب سے دودھ کی کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) میں کیے گئے اضافے کو ریاست کے کسانوں اور مویشی پالنے والوں کے لیے ایک بڑی راحت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ڈیری کے شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ بڑھی ہوئی قیمتوں سے نہ صرف ان کی آمدنی میں بہتری آئے گی بلکہ مویشی پالنے کی سرگرمیوں کو جاری رکھنا بھی آسان ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے بیان کے بعد عالمی بازار میں ہلچل
ریاست کے بجٹ میں وزیر اعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو نے گائے کے دودھ کی امدادی قیمت۵۱؍ روپے سے بڑھا کر۶۱؍ روپے فی لیٹر اور بھینس کے دودھ کی قیمت۶۱؍ روپے سے بڑھا کر۷۱؍ روپے فی لیٹر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ فی لیٹر۱۰؍ روپے کا یہ اضافہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے مویشی پالنے والوں کے لیے انتہائی اہم مانا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں ان کی ماہانہ آمدنی کو بڑھانے کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔
ضلع اونا میں حکومت کے اس فیصلے پر مسلسل مثبت ردِعمل موصول ہو رہا ہے ۔ ٹھکراں گاؤں کے کسان جرنیل سنگھ نے کہا کہ دودھ کی قیمتوں میں اضافے سے مویشی پالنے والوں کو براہِ راست فائدہ ہوگا اور ان کی کمائی بڑھے گی ۔ انہوں نے حکومت کے اس اقدام کو قابلِ ستائش قرار دیا۔
اسی طرح امب تحصیل کے چرودو گاؤں کے وجے کمار کے مطابق، دودھ کے مناسب دام ملنے سے مزید نوجوان ڈیری کے شعبے کی طرف راغب ہوں گے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پروڈیوسرز کو ان کی مصنوعات کی صحیح قیمت ملے تو دیہی علاقوں میں مویشی پالنا روزگار کا ایک مضبوط اور پائیدار ذریعہ بن سکتا ہے۔واضح رہے کہ ضلع میں بڑی تعداد میں خاندان ڈیری کی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں۔ ایسے میں دودھ کی قیمتوں میں اضافے سے دیہاتوں میں نقد رقم کی گردش بڑھنے اور مقامی بازاروں میں مانگ تیز ہونے کی امید ہے، جس کا فائدہ دیگر چھوٹے ذیلی کاروباروں کو بھی پہنچ سکتا ہے۔