Updated: October 08, 2026, 10:57 AM IST
| Shimla
دھرم کوٹ کے رہائشیوں میں اسرائیل کے شہر یاونے (Yavne) سے تعلق رکھنے والی ۳۹ سالہ مایا بھی شامل ہیں جو پہلی بار ۲۰۰۸ء میں ۱۸ سال کی عمر میں یہاں آئی تھیں اور بعد میں انہوں نے چنئی کے گوپال سبرامنین سے شادی کرلی، جو ۲۰۰۰ کی دہائی کے اوائل میں دھرم کوٹ میں آباد ہوگئے تھے۔ یہ جوڑا اب قریبی بھاگسو ناگ میں ایک گیسٹ ہاؤس چلاتا ہے اور ان کے دو بچے ہیں۔ مایا نے کہا کہ ”میں اسرائیل کا دورہ کرتی رہتی ہوں اور میرے پاس اسرائیلی شہریت ہے۔ لیکن اب میں کسی ہندوستانی سے کم نہیں ہوں۔“
ہماچل پردیش کے ضلع کانگڑا میں میکلوڈ گنج کے قریب ایک چھوٹا سا گاؤں دھرم کوٹ، عبرانی زبان کے سائن بورڈز، گھریلو طرز کی بیکریوں اور تازہ پکی ہوئی چالہ بریڈ (challah bread) کی خوشبو سے سجی اپنی منفرد پہچان کے باعث سیاحوں میں طویل عرصے سے ”منی اسرائیل“ کے نام سے جانا جانے لگا ہے۔ شملہ سے تقریباً ۲۴۰ کلومیٹر دور واقع یہ گاؤں دہائیوں سے اسرائیلی سیاحوں کی پسندیدہ ترین منزل رہ ہے، حالانکہ کوئی بھی حتمی طور پر یہ واضح نہیں کر سکتا کہ اسے ابتدا میں مقبولیت کیسے حاصل ہوئی۔
مقامی حکام نے علاقے میں چوکسی بڑھا دی ہے۔ کانگڑا کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کلبھوشن ورما نے بتایا کہ گشتی ٹیمیں اب روزانہ دو مرتبہ گاؤں کی گلیوں کا چکر لگاتی ہیں اور وہاں مقیم اسرائیلیوں سمیت تمام غیر ملکی شہریوں کا ریکارڈ رکھتی ہیں، حالانکہ سیکوریٹی کی کوئی خاص درخواست موصول نہیں ہوئی۔ ورما نے دھرم کوٹ کے قریب پیش آنے والے وال چاکنگ کے ایک سابقہ الگ تھلگ واقعے کی نشان دہی کی جس میں اسرائیلی جذبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس واقعہ پر ایف آئی آر درج کی گئی تھی اور اسے ”شرپسند عناصر“ کی کارروائی قرار دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ نسل کشی کے ۳؍ سال: ۲۰؍ ہزار طلبہ، ۲۶۳؍ صحافی شہید: فلسطینی وزارت
گاؤں کے رہائشیوں میں اسرائیل کے شہر یاونے (Yavne) سے تعلق رکھنے والی ۳۹ سالہ مایا بھی شامل ہیں جو پہلی بار ۲۰۰۸ء میں ۱۸ سال کی عمر میں یہاں آئی تھیں اور بعد میں انہوں نے چنئی کے گوپال سبرامنین سے شادی کرلی، جو ۲۰۰۰ کی دہائی کے اوائل میں دھرم کوٹ میں آباد ہوگئے تھے۔ یہ جوڑا اب قریبی بھاگسو ناگ میں ایک گیسٹ ہاؤس چلاتا ہے اور ان کے دو بچے ہیں۔ مایا نے کہا کہ ”میں اسرائیل کا دورہ کرتی رہتی ہوں اور میرے پاس اسرائیلی شہریت ہے۔ لیکن اب میں کسی ہندوستانی سے کم نہیں ہوں۔“
مقامی لوگ اسرائیلی سیاحوں کے ساتھ دیرینہ لگاؤ کا ذکر کرتے ہیں، جن میں سے بیشتر گاؤں میں جیولری ورکشاپس، موسیقی کی کلاسیز اور یوگا کی تربیت دیتے ہیں۔ تاہم راجو دادا کے نام سے معروف آرٹسٹ ورنداون داس جیسے کاروباری افراد ایران کے ساتھ جنگ، مانسون کی شدید بارشوں اور ملکی سیاحت کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان کے درمیان اس سیزن میں اسرائیلیوں کی آمد میں واضح کمی کی اطلاع دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: زیک برائن کے کنسرٹ میں موسیقاروں کا فلسطین سے اظہارِ یکجہتی، ہند رجب کو خراج
مایا نے اسرائیلی سیاحوں کی تعداد میں کمی کی ایک بڑی وجہ براہِ راست پروازوں کی عدم دستیابی کو قرار دیا جس سے سفر مزید مہنگا ہوگیا ہے۔ گوپال کا کہنا تھا کہ اسرائیل میں لازمی فوجی سروس کی وجہ سے نوجوان مسافر گھروں پر ہی رکے ہوئے ہیں۔ اس سست روی کے باوجود، دھرم کوٹ میں اسرائیلی کمیونٹی کی گہری جڑیں اس کی دکانوں، ورکشاپس اور روزمرہ کے معمولات میں اب بھی واضح دکھائی دیتی ہیں۔