ریاستی حکومت نے سرکاری عملے کیلئے ۲۸؍جون ۲۰۲۶ء کو ہندی زبان کا امتحان منعقد کرنے کا اعلان کیا تھالیکن اس فیصلے کے خلاف شیوسینا (ادھو)، ایم این ایس اور متعدد سماجی اور تعلیمی تنظیموں کے اعتراض کے بعد اس امتحان کو منسوخ کر دیا
EPAPER
Updated: May 07, 2026, 5:28 AM IST | Saadat Khan | Mumbai
ریاستی حکومت نے سرکاری عملے کیلئے ۲۸؍جون ۲۰۲۶ء کو ہندی زبان کا امتحان منعقد کرنے کا اعلان کیا تھالیکن اس فیصلے کے خلاف شیوسینا (ادھو)، ایم این ایس اور متعدد سماجی اور تعلیمی تنظیموں کے اعتراض کے بعد اس امتحان کو منسوخ کر دیا
ریاستی حکومت نے سرکاری عملے کیلئے ۲۸؍جون ۲۰۲۶ء کو ہندی زبان کا امتحان منعقد کرنے کا اعلان کیا تھالیکن اس فیصلے کے خلاف شیوسینا (ادھو)، ایم این ایس اور متعدد سماجی اور تعلیمی تنظیموں کے اعتراض کے بعد اس امتحان کو منسوخ کر دیا ۔ حکومت کے اس فیصلے سے ریاست میں ایک مرتبہ پھر مراٹھی اور ہندی زبان کی بحث کے چھڑ جانے کا خدشہ تھا ۔
یاد رہے کہ ہر سال اپنے سرکاری ملازمین کیلئے ریاستی حکومت ہندی زبان کا امتحان منعقد کرتی ہےتاکہ یہ معلوم کیا جاسکے یہ ملازمین ہندی میں بھی عوام سے گفت وشنید کے اہل ہیں یا نہیں۔ نیز دیگر امور میں ہندی کا استعمال کرپاتے ہیں یا نہیں لیکن اس سال اس امتحان کو مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ امتحان کی مخالفت کرنے والی تنظیم ’ مراٹھی ابھیاس کیندر‘ کے صدر دیپک پوار کا کہنا ہےکہ ’’مراٹھی بولنے والی ریاست میں ،جہاں بیشتر مراٹھی بولنے ، سمجھنے اور پڑھنے لکھنے والے برسرروزگار ہیں، وہاں سرکاری سطح پر ہندی زبان کا امتحان لینے کی کیا ضرورت ہے ؟ کیا دیگر غیر ہندی ریاستوں میں سرکاری عملہ ہندی زبان کا امتحان دیتاہے؟ تو پھر مہاراشٹر کے سرکاری عملے کیلئے جو کہ مراٹھی میں کام کاج کرتا ہے ،ہندی زبان کا لازمی کرنے کا کیا مقصد ہے ؟‘‘ انہوں نے کہا’’ حکومت سے ہمارا مطالبہ ہےکہ وہ اپنے فیصلے کو فوری طور پر واپس لے ، ورنہ اس کے خلاف ریاست بھر احتجاج کیا جائے گا۔‘‘
مہاراشٹر نونرمان سینا کے ممبئی صدر سندیپ دیشپانڈے نے اس تعلق سے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’مہاراشٹر میں کام کرنے والے یا مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والے افسران سے ہندی سیکھنے کی اُمید نہیں کرنی چاہئے، لیکن مہاراشٹر میں کام کرنے کیلئے آنے والوں کو مراٹھی زبان ضرور سیکھنا چاہئے ۔ اس لئے ہم اس بارے میں حکومت کی سخت مذمت کرتے ہیں کہ بے وجہ ریاستی سرکاری عملے پر ہندی زبان کے امتحان کو لازمی کر رہی ہے۔‘‘ شیوسینا(ادھو)کے رکن پارلیمان سنجے رائوت نے بھی اس امتحان کی مخالفت کی تھی۔ اسی طرح انہی کی پارٹی کی سابق میئر کشوری پیڈنیکر نے اس سلسلے میں کہا کہ ’’ جب ریاست میں مراٹھی زبان ہے تو پھر ہندی زبان کا امتحان دینے کی ضرورت ہے کیا ؟ ہندی کی کوئی مخالفت نہیں ہے لیکن اس طرح ہندی کاامتحان دینے کیلئے مجبور کرنے کی کیا وجہ ہے ؟ ‘‘
امتحان منسوخ کرنے کا فیصلہ
بالآخر حکومت نے اس فیصلے کو واپس لے لیا۔ شام کو ریاستی وزیر برائے صنعت اُودے سامنت نے امتحان کو منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ’’ اس بارے میں اطلاع ملنے پر میں نے پرنسپل سیکریٹری کرن کلکرنی سے اس پر تبادلۂ خیال کیا ۔ بعدازیں اس امتحان کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔‘‘کیا مستقبل میں ہندی زبان کا امتحان منعقد کیا جائے گا؟ اس سوال پر انہوں کہاکہ ریاست کے مراٹھی زبان کے وزیر کی حیثیت سے، ذاتی طور پر اس کی تفصیلات حاصل کرنے کے بعد اگر یہ امتحان ضروری ہوا، تو ہم امتحان لیں گے ، بصورت دیگر، یہ امتحان نہیں لیا جائے گا۔‘‘ اُودے سامنت کے اعلان کے بعد ایم این ایس کے سندیپ دیشپانڈے نے کہا’’یہ تو اچھا ہےکہ حکومت نے خود ہی مذکورہ امتحان ملتوی کر دیا ورنہ امتحانی مراکز کے باہر جو بھی تماشہ ہوتا ہے اس کیلئے ریاستی حکومت ذمہ دار ہوتی ۔‘‘