Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ سے جڑے معاملات نے ازدواجی زندگی پر اثر ڈالا: اوبامہ کا اعتراف

Updated: May 06, 2026, 10:10 PM IST | Washington

سابق امریکی صدر بارک اوبامہ نے انکشاف کیا ہے کہ مسلسل سیاسی دباؤ اور خاص طور پر ڈونالڈ ٹرمپ سے جڑے حالات نے ان کی ازدواجی زندگی پر اثر ڈالا۔ ایک انٹرویو میں اوبامہ نے کہا کہ عوامی زندگی میں متحرک رہنے کے مطالبات نے ان کے اور مشیل کے درمیان ’’حقیقی تناؤ‘‘ پیدا کیا۔ ان کے مطابق مشیل چاہتی ہیں کہ وہ سیاست سے کچھ فاصلے پر رہیں اور خاندان کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں۔ اوبامہ نے یہ بھی کہا کہ وہائٹ ہاؤس کے بعد بدلتے سیاسی ماحول نے ان کی نجی زندگی کو متاثر کیا ہے۔

Former US President Barack Obama. Photo: X
سابق امریکی صدر باراک اوباما۔ تصویر: ایکس

بارک اوبامہ نے اعتراف کیا ہے کہ امریکی سیاست میں مسلسل موجودگی اور خاص طور پر ڈونالڈ ٹرمپ کے دور سے جڑے دباؤ نے ان کی ازدواجی زندگی میں ’’حقیقی تناؤ‘‘ پیدا کر دیا تھا۔ نیویارکر کے صحافی پیٹر سلیون کے ساتھ ایک انٹرویو میں سابق امریکی صدر نے کہا کہ وہائٹ ہاؤس چھوڑنے کے کئی برس بعد بھی ان سے مسلسل سیاسی مؤقف اختیار کرنے اور عوامی سطح پر ردعمل دینے کی توقع کی جاتی ہے، جس کا اثر ان کی ذاتی زندگی پر بھی پڑا۔ اوبامہ نے بتایا کہ ابتدا میں انہیں یقین تھا کہ امریکی آئین اور جمہوری ادارے ٹرمپ کی صدارت کے دوران پیدا ہونے والے تنازعات کو خود سنبھال لیں گے، لیکن جلد ہی انہیں محسوس ہوا کہ صورتحال اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ دور کی متعدد پالیسیوں، بشمول مسلم اکثریتی ممالک پر سفری پابندی اور امیگریشن حراستی پروگراموں کی توسیع، نے انہیں بار بار عوامی سطح پر بولنے پر مجبور کیا۔

یہ بھی پڑھئے: ۳۰ سے زائد ڈیموکریٹس نے ٹرمپ انتظامیہ سے اسرائیل کے جوہری پروگرام کی تفصیلات ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا

اوبامہ کے مطابق سیاست میں دوبارہ متحرک ہونے یا انتخابی مہمات میں حصہ لینے کے مطالبات نے ان کے گھر کے ماحول کو بھی متاثر کیا۔ انہوں نے کہا، ’’یہ ہمارے گھرانے میں ایک حقیقی تناؤ پیدا کرتا ہے، اور یہ مشیل کو مایوس کرتا ہے۔‘‘ مشیل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی اہلیہ چاہتی ہیں کہ وہ زیادہ وقت خاندان کے ساتھ گزاریں اور مسلسل سیاسی دباؤ سے دور رہیں۔ انہوں نے مزید کہا، ’’وہ چاہتی ہیں کہ میں آرام کروں، اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزاروں اور زندگی کے باقی حصے سے لطف اندوز ہوں۔‘‘ مشیل اور ان کی بیٹیاں ماضی میں بھی وہائٹ ہاؤس میں گزارے گئے برسوں کے دوران شدید عوامی جانچ اور دباؤ کا سامنا کر چکی ہیں۔ اوبامہ نے اس بات کا کئی بار ذکر کیا ہے کہ امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدارتی خاندان ہونے کی وجہ سے ان پر غیر معمولی توجہ مرکوز رہی۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ کا ایران سے تعلق رکھنے والی نجی کشتی پر حملہ، ۵؍ افراد جاں بحق

یہ انٹرویو ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈیموکریٹک حلقوں میں دوبارہ یہ قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ آیا مشیل مستقبل میں کوئی سیاسی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ تاہم پارٹی کے کئی لیڈروں نے اس امکان کو غیر حقیقی قرار دیا ہے۔ ڈیموکریٹ لیڈر ٹینا اسمتھ نے بھی کہا کہ لوگ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ اوبامہ دور جیسا سیاسی ماحول دوبارہ آسانی سے واپس آ سکتا ہے تو یہ ’’نادانی‘‘ ہوگی، کیونکہ امریکی سیاست بنیادی طور پر بدل چکی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اوبامہ کے یہ بیانات نہ صرف ان کی نجی زندگی کی جھلک پیش کرتے ہیں بلکہ اس بات کو بھی ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی سیاست میں مسلسل موجودگی سابق صدور اور ان کے خاندانوں پر کس حد تک ذہنی اور جذباتی دباؤ ڈالتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK