Inquilab Logo Happiest Places to Work

۳۱؍ مئی ۲۰۲۶ء: سال کا سب سے چھوٹا چاند ’’بلیو مون‘‘ طلوع ہوگا

Updated: May 06, 2026, 10:10 PM IST | Mumbai

۳۱؍ مئی ۲۰۲۶ء کو آسمان پر ایک نایاب Blue Moon دکھائی دے گا، جو سال کا سب سے چھوٹا اور سب سے دور ’’مائیکرو مون‘‘ بھی ہوگا۔ یہ ۳۰؍ اور ۳۱؍ مئی کی درمیانی رات مکمل چاند کی شکل میں نظر آئے گا۔ اگرچہ اسے بلیو مون کہا جاتا ہے، لیکن چاند حقیقت میں نیلا نہیں دکھائی دے گا۔ یہ اصطلاح ایک ہی کیلنڈر مہینے میں دوسرے پورے چاند کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس بار چاند زمین سے اپنے سب سے زیادہ فاصلے، یعنی ’’اپوجی‘‘ پر ہوگا، جس کے باعث یہ عام مکمل چاند کے مقابلے میں چھوٹا دکھائی دے گا۔

Photo: X
تصویر: آئی این این

مئی ۲۰۲۶ء فلکیات میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ماہ کے اختتام پر ایک نایاب Blue Moon دکھائی دے گا، جو بیک وقت ’’مائیکرو مون‘‘ بھی ہوگا۔ ماہرین کے مطابق یہ ۲۰۲۶ء کا ایسا مکمل چاند ہوگا، جو زمین سے سب سے زیادہ فاصلے پر ہوگا۔ واضح رہے کہ مئی کا مہینہ یکم مئی کو ’’فلاور مون‘‘ سے شروع ہوا تھا، جو سال کا پہلا مائیکرو مون تھا۔ اب ۳۰؍ اور ۳۱؍ مئی کی درمیانی رات ایک اور مکمل چاند نمودار ہوگا، جسے ’’بلیو مون‘‘ کہا جا رہا ہے۔ جدید فلکیاتی تعریف کے مطابق، جب ایک ہی کیلنڈر مہینے میں دو مرتبہ مکمل چاند دکھائی دیں تو دوسرے چاند کو بلیو مون کہا جاتا ہے۔ یہ واقعہ عام طور پر ہر دو سے تین سال بعد پیش آتا ہے۔

تصویر: ایکس

اگرچہ نام ’’بلیو مون‘‘ ہے، لیکن چاند حقیقت میں نیلا رنگ اختیار نہیں کرے گا۔ یہ صرف ایک اصطلاح ہے جس کی تاریخی جڑیں صدیوں پرانی ہیں۔ قدیم زمانے میں اسے کسی نایاب یا غیر معمولی واقعے کے استعارے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ ۱۹۴۶ء میں ٹیلی اسکوپ اسکائی میں شائع ہونے والے ایک مضمون نے غلطی سے بلیو مون کی تعریف کو آسان بنا دیا، جس کے بعد ’’ایک مہینے کا دوسرا مکمل چاند‘‘ والی تعریف مقبول ہو گئی۔ اصل میں بلیو مون اس مکمل چاند کو کہا جاتا تھا جو کسی ایک موسم میں آنے والے چار مکمل چاندوں میں تیسرا ہو۔ عام طور پر ہر موسم میں تین مکمل چاند ہوتے ہیں، لیکن تقریباً ہر ۱۹؍ سال کے چکر میں بعض اوقات ایک موسم میں چار مکمل چاند بھی آ جاتے ہیں۔ ایسے میں تیسرے چاند کو بلیو مون کہا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق، آنے والا بلیو مون صرف نایاب نہیں بلکہ ایک ’’مائیکرو مون‘‘ بھی ہوگا۔ مائیکرو مون اس وقت بنتا ہے جب چاند زمین کے گرد اپنے مدار میں سب سے دور مقام، یعنی ’’اپوجی‘‘ کے قریب ہو۔ اس وجہ سے مئی ۲۰۲۶ء کا بلیو مون ایک سپر مون کے مقابلے میں تقریباً ۱۲؍ سے ۱۴؍ فیصد چھوٹا جبکہ عام مکمل چاند کے مقابلے میں تقریباً ۷؍ فیصد جسامت کم ہوگی۔ یہ فلکیاتی منظر ایک اور وجہ سے بھی دلچسپ ہوگا کیونکہ مکمل چاند کے دوران یہ Antares کے قریب نظر آئے گا، جو برج عقرب کا سب سے روشن ستارہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’آئی لو محمدؐ‘‘ پوسٹ کیس: الہ آباد ہائی کورٹ نے ندیم کو ۷؍ ماہ بعد ضمانت دی

ہندوستان میں یہ بلیو مون ۳۱؍ مئی ۲۰۲۶ء کو دوپہر ۲؍ بجکر ۱۵؍ منٹ ہندوستانی وقت کے مطابق اپنے عروج پر پہنچے گا۔ چونکہ اس وقت دن ہوگا، اس لیے چاند اپنے عین عروج کے وقت نظر نہیں آئے گا، لیکن ۳۰؍ اور ۳۱؍ مئی کی راتوں میں یہ مکمل اور روشن دکھائی دے گا۔ فلکیات کے شوقین افراد کے لیے یہ ایک منفرد موقع ہوگا کیونکہ ایک ہی سال میں دو مائیکرو مونز کے ساتھ بلیو مون کا امتزاج کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلا ’’موسمی بلیو مون‘‘ ۲۰؍ مئی ۲۰۲۷ء کو ظاہر ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK