فاطمہ تحلیہ کا موازنہ ممتا بنرجی کے ابتدائی سیاسی سفر سے کیا جا رہا ہےکیونکہ دونوں نے سخت زمینی جدوجہدکے ذریعے اپنی شناخت قائم کی۔
EPAPER
Updated: May 15, 2026, 4:18 PM IST | Thiruvananthapuram
فاطمہ تحلیہ کا موازنہ ممتا بنرجی کے ابتدائی سیاسی سفر سے کیا جا رہا ہےکیونکہ دونوں نے سخت زمینی جدوجہدکے ذریعے اپنی شناخت قائم کی۔
کیرالا کی سیاست میں ایک نئی خاتون لیڈر کی زبردست جیت دیکھنے کو ملی ہے ۔ انڈین یونین مسلم لیگ کی نوجوان لیڈر فاطمہ تحلیہ نے پریمبرا حلقے میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے نہ صرف سی پی ایم کے قدآور لیڈر اور ایل ڈی ایف کنوینر ٹی پی رام کرشنن کو شکست دی بلکہ اپنی جماعت کی ۷۰؍ سالہ سیاسی تاریخ بھی بدل دی۔فاطمہ تحلیہ اب انڈین یونین مسلم لیگ کی تاریخ میں اسمبلی پہنچنے والی پہلی خاتون رکن بن گئی ہیں۔ ان کی اس تاریخی جیت کے بعد سیاسی حلقوں میں ان کا موازنہ مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے ابتدائی سیاسی سفر سے کیا جا رہا ہے کیونکہ دونوں خواتین نے سخت زمینی جدوجہد، طلبہ سیاست اور مسلسل مزاحمت کے ذریعے اپنی الگ شناخت قائم کی۔
یہ بھی پڑھئے: حکومت آئندہ ۶؍ ماہ تک کوئی بڑا پروگرام منعقد نہیں کرے گی
کیرالا کی سیاست میںانڈین مسلم لیگ کو طویل عرصے سے مردوں کے غلبے والی جماعت سمجھا جاتا ہے۔ پارٹی نے گزشتہ سات دہائیوں میں کبھی کسی خاتون کو اسمبلی کا ٹکٹ دے کر کامیاب نہیں بنایا تھا۔ تاہم اس مرتبہ کانگریس لیڈرراہل گاندھی کے خصوصی اصرار اور یو ڈی ایف کی نئی حکمت عملی کے تحت فاطمہ تحلیہ کو میدان میں اتارا گیا ۔فاطمہ نے نہ صرف پارٹی کی امیدوں پر پورا اتریں بلکہ سی پی ایم کے مضبوط قلعے میں نقب لگا کر پوری ریاست کی سیاست کو حیران کر دیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ کامیابی کچھ ویسی ہی ہے جیسی۱۹۸۴ء میں ممتا بنرجی نے جادھوپور لوک سبھا سیٹ پر سومناتھ چٹرجی کو شکست دے کر حاصل کی تھی۔فاطمہ تحلیہ کا تعلق ایک عام گھرانے سے ہے۔ انہوں نے کالج کے زمانے سے ہی طلبہ سیاست میں حصہ لینا شروع کردیا تھا ۔ وہ نہ صرف طلبہ کے مسائل بلکہ خواتین کے حقوق اور سماجی معاملات پر بھی سرگرم رہیں۔ حجاب تنازع ہو یا طلبہ کے حقوق کی تحریک، فاطمہ نے کئی احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا۔ لاٹھی چارج کا سامنا کیا اور متعدد مقدمات بھی جھیلے۔ جس طرح ممتا بنرجی نے برسوں تک مغربی بنگال میں بائیں بازو کی سیاست کے خلاف تنہا جدوجہد کی، اسی طرح فاطمہ تحلیہ نے بھی ایک طرف ایل ڈی ایف کی مضبوط سیاسی مشینری اور دوسری طرف اپنی جماعت کے اندر موجود قدامت پسند سوچ کے خلاف مسلسل مزاحمت کی۔اسی لئےکیرالہ کے کئی لوگ فاطمہ تحلیہ میں ایک نئی ’’جنگجو ممتا‘‘ کی جھلک دیکھ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: این سی پی (اجیت) میں اندرونی مخاصمت، آنند پرانجپے نے استعفیٰ دیا
فاطمہ تحلیہ کی کامیابی میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی کا کردار بھی کافی اہم مانا جا رہا ہے۔ وائناڈ اور اطراف کے علاقوں میں راہل گاندھی نے فاطمہ کے حق میں بھرپور انتخابی مہم چلائی، جس کا بڑا اثر خواتین ووٹروں پر پڑا۔اب سب کی نظریں اس بات پر ٹکی ہوئی ہیں کہ آیا فاطمہ تحلیہ مستقبل میں کیرالا کابینہ میں شامل ہو کر انڈین یونین مسلم لیگ کی پہلی خاتون وزیر بن پائیں گی یا نہیں۔