ہندوستان کے سابق کوچ روی شاستری کا ماننا ہے کہ شاندار فارم میں موجود بلے باز سنجو سیمسن ہندوستان کی ٹی۲۰؍ کپتانی کے مضبوط امیدوار کے طور پر ابھرے ہیں۔
EPAPER
Updated: May 15, 2026, 4:15 PM IST | Mumbai
ہندوستان کے سابق کوچ روی شاستری کا ماننا ہے کہ شاندار فارم میں موجود بلے باز سنجو سیمسن ہندوستان کی ٹی۲۰؍ کپتانی کے مضبوط امیدوار کے طور پر ابھرے ہیں۔
ہندوستان کے سابق کوچ روی شاستری کا ماننا ہے کہ شاندار فارم میں موجود بلے باز سنجو سیمسن ہندوستان کی ٹی۲۰؍ کپتانی کے مضبوط امیدوار کے طور پر ابھرے ہیں۔ سوریہ کمار یادو نے دو ماہ قبل ہندوستان کو گھریلو میدان پر آئی سی سی مینز ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ کا خطاب دلایا تھا، جہاں سنجو سیمسن کو پلیئر آف دی ٹورنامنٹ منتخب کیا گیا تھا۔
آئی سی سی ریویو میں شاستری نے کہاکہ ’’ہندوستان اگلے ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ (۲۰۲۸ء) میں ایک نئے کپتان کی تلاش کر سکتا ہے، یہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ سوریہ اگلے چند برسوں میں کیسا مظاہرہ کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہاکہ سنجو سیمسن نے خود کو قیادت کے کردار کے لیے تیار کر لیا ہے کیونکہ وہ پہلے راجستھان رائلز کی قیادت کر چکے ہیں۔ وہ ٹیم کے ٹاپ آرڈر میں ایک مستقل اور انتہائی خطرناک بلے باز ہیں۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ آئندہ دو یا تین برسوں میں سنجو سے مزید کچھ دیکھنے کو ملے گا۔‘‘
یہ بھی پڑئے : سہ رخی سیریز کے لیے ہندوستان اے ٹیم کا اعلان، تلک کو قیادت، ویبھو کو سنہرا موقع
سیمسن نے آئی پی ایل میں پانچ سیزن تک راجستھان رائلز کی قیادت کی، جس میں ۲۰۲۲ء کا سیزن بھی شامل ہے جب ٹیم رنر اپ رہی تھی۔ بین الاقوامی کرکٹ میں بھی سیمسن اس وقت اپنے کیریئر کی بہترین فارم میں ہیں۔۳۱؍ سالہ کھلاڑی نے ہندوستان کی ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ جیت کے دوران مسلسل تین نصف سنچریاں اسکور کی تھیں۔
ماضی میں سیمسن کی مستقل مزاجی پر سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں، لیکن شاستری کو اب یہ مسئلہ نظر نہیں آتا۔ شاستری نے کہاکہ ’’میرے خیال میں اس نے اپنے بارے میں تمام سوالات ختم کر دیے ہیں۔ اس میں ہمیشہ صلاحیت موجود تھی۔ دراصل لوگ اس بات سے مایوس ہوتے تھے کہ وہ اپنی صلاحیت کے ساتھ انصاف نہیں کر پا رہا تھا۔‘‘
انہوں نے مزید کہاکہ اس سیزن میں، خاص طور پر ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ میں اس کی کارکردگی کے بعد، جس طرح اس نے کھیل پیش کیا، جہاں اس نے تقریباً اکیلے ہی ہندوستان کو بڑے میچ جتائے کوارٹر فائنل (ویسٹ انڈیز، سپر ۸)، سیمی فائنل اور فائنل اور پھر آئی پی ایل میں ایک لیڈر کے طور پر جس پختگی کا مظاہرہ کیا، وہ مستقبل کے لیے بہت اہم ہے۔‘‘