ہوسابلے نے ہندوستانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ دلیل بھی دی کہ ”دونوں ممالک کے درمیان کھیلوں اور ثقافتی تبادلوں کو جاری رہنا چاہئے کیونکہ ہمارا ایک ثقافتی رشتہ ہے اور ہم ایک قوم رہے ہیں۔“
EPAPER
Updated: May 14, 2026, 8:02 PM IST | New Delhi
ہوسابلے نے ہندوستانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ دلیل بھی دی کہ ”دونوں ممالک کے درمیان کھیلوں اور ثقافتی تبادلوں کو جاری رہنا چاہئے کیونکہ ہمارا ایک ثقافتی رشتہ ہے اور ہم ایک قوم رہے ہیں۔“
آر ایس ایس کے جنرل سیکریٹری دتاتریہ ہوسابلے نے گزشتہ سال مئی میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہوئے چار روزہ فوجی تصادم کے بعد کشیدہ تعلقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان مسلسل مذاکرات پر زور دیا ہے۔ امریکہ کے دورے سے واپسی کے بعد گفتگو کرتے ہوئے ہوسابلے نے کہا کہ جوہری ہتھیار رکھنے والے دونوں پڑوسیوں کے درمیان سفارتی اور عوامی سطح کے رابطے کھلے رہنے چاہئیں۔
ہوسابلے نے ہندوستانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”ہمیں دروازے بند نہیں کرنے چاہئیں۔ ہمیں ہمیشہ مذاکرات میں شامل ہونے کیلئے تیار رہنا چاہئے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ سفارتی تعلقات، تجارت، کامرس اور ویزا سسٹم کو جاری رہنا چاہئے کیونکہ ”مذاکرات کیلئے ہمیشہ ایک کھڑکی کھلی ہونی چاہئے۔“ ہوسابلے نے یہ دلیل بھی دی کہ دونوں ممالک کے درمیان کھیلوں اور ثقافتی تبادلوں کو جاری رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ”کیونکہ ہمارا ایک ثقافتی رشتہ ہے اور ہم ایک قوم رہے ہیں۔“
یہ بھی پڑھئے: وزیر اعظم کی ’’کفایت شعاری‘‘، اپنا سرکاری قافلہ کم کردیا ، اب صرف ۲؍ گاڑیاں ہونگی
واضح رہے کہ ۱۹۲۵ء میں قائم ہونے والی آر ایس ایس، وزیرِ اعظم نریندر مودی کی پارٹی بی جے پی کی نظریاتی مربی کی حیثیت رکھتی ہے۔ تنظیم کو طویل عرصے سے انسانی حقوق کے گروپس اور اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے اقلیتوں کے خلاف تشدد اور ہندو بالادستی کے نظریے کے الزامات پر تنقید کا سامنا رہا ہے۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) نے اپنی ۲۰۲۶ء کی رپورٹ میں آر ایس ایس اور اس کے اراکین کے خلاف ٹارگیٹڈ پابندیوں کی سفارش کی تھی۔ رپورٹ میں آر ایس ایس پر ہندوستان میں مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔
ہوسابلے نے حال ہی میں سان فرانسسکو میں اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور واشنگٹن میں ہڈسن انسٹی ٹیوٹ میں تقاریب سے خطاب کیا۔ وہاں انہوں نے ان تاثرات کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی کہ آر ایس ایس ایک متشدد نیم فوجی تنظیم کے طور پر کام کرتی ہے جو اقلیتوں کو نشانہ بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آرایس ایس کا کردار سوالوں کی زد پر، جبکہ تنظیم اپنی شبیہہ بہتر بنانے میں مصروف
گزشتہ سال ۲۲ اپریل کو ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات شدید خراب ہوگئے تھے۔ ہندوستان نے عوامی سطح پر ثبوت پیش کئے بغیر اس حملے کی حمایت کا الزام پاکستان پر لگایا، جبکہ اسلام آباد نے اس میں ملوث ہونے سے انکار کیا اور بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اس کشیدگی کے نتیجے میں ۷ مئی کو دونوں ممالک کے درمیان چار روزہ جھڑپ ہوئی۔ ۱۰ مئی کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا۔ انہوں نے بعد میں دعویٰ کیا کہ یہ تنازع ایٹمی تصادم کی شکل اختیار کر سکتا تھا، حالانکہ مودی نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ٹرمپ نے جنگ بندی میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔
کانگریس کی تنقید، سابق فوجی سربراہ اور نیشنل کانفرنس نے حمایت کی
آر ایس ایس لیڈر کے بیان کے بعد کانگریس نے ان پر سخت تنقید کی۔ کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے کہا کہ ہوسابلے کے دورہ امریکہ نے آر ایس ایس کے موقف کو متاثر کیا ہے۔ منیش تیواری نے سوال اٹھایا کہ کیا واشنگٹن ہندوستان پر پاکستان کے ساتھ مذاکرات کیلئے دباؤ ڈال رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی بحران کے درمیان ہندوستان کا برکس اتحاد کا مطالبہ
ہندوستانی فوج کے سابق سربراہ منوج مکند نروانے نے ہوسابلے کے موقف کی حمایت کی اور دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم کرنے کے طریقوں کے طور پر ’ٹریک ٹو‘ سفارت کاری، ثقافتی تبادلوں اور کھیلوں کے تعلقات کی توثیق کی۔ کشمیر کی سیاسی پارٹی نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے بھی ہوسابلے کی حمایت کی اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات پر زور دیا اور کہا کہ مذاکرات کے ذریعے ہی مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔