مہاراشٹر میں خشک سالی سے متاثرہ کسانوں نے حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ۵؍ ہزار روپے کی پیشگی امداد کو ناکافی قرار دیتے ہوئے احتجاج شروع کردیا ہے۔ ہنگولی کے گورے گاؤں میں کسانوں نے ۵؍ ہزار روپے کے نوٹ نچھاور کرکے اپنے غصے کا اظہار کیا اور امدادی رقم میں اضافے کا مطالبہ کیا۔
کسانوں نے ۵؍ ہزار روپے کی رقم کو ناکافی بتایا اور احتجاجاً نوٹ پھینکے۔ تصویر: آئی این این
مہاراشٹر میں خشک سالی کے پیش نظر ریاستی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ۵؍ہزار روپے کی پیشگی امداد پر کسانوں میں ناراضگی بڑھتی جا رہی ہے۔ ہنگولی ضلع کے گورے گاؤں میں واقع اپر تحصیل دفتر کے سامنے کسانوں نے۵؍ ہزار روپے کے نوٹ نچھاور کرکے حکومت کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا۔خشک سالی کے سبب فصلوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے، جبکہ کھیتی باڑی کے اخراجات میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ ایسے مشکل حالات میں محض۵؍ ہزار روپے کی امداد سے ان کے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ اس موقع پر کسانوں نے حکومت کے خلاف جم کر نعرے بازی کی اورامدادی رقم میں اضافے کا مطالبہ کیا۔ ریاست میں خشک سالی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے اعلان کیا ہے کہ دیوالی سے قبل کسانوں کے بینک کھاتوں میں ۵؍ ہزار روپے کی پیشگی امدادی رقم جمع کرائی جائے گی۔ تاہم، اس اعلان کے بعد سے کسان تنظیموں اور اپوزیشن پارٹیوں کےلیڈروں نے حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ خشک سالی کے باعث کسانوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے، ایسے میں اعلان کردہ امدادی رقم کھیتی باڑی کے اخراجات پورے کرنے کیلئے بھی ناکافی ہے۔ گورے گاؤں میں کسانوں کی جانب سے عملی طور پر ناراضگی کا اظہار کیے جانے کے بعد یہ معاملہ مزید اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ خشک سالی کے باعث کسانوں کو فصلوں کی تباہی، پانی کی قلت اور زرعی پیداوار کے بڑھتے اخراجات جیسے کئی مسائل کا سامنا ہے۔ بیج، کھاد، زرعی ادویات، زمین کی تیاری اور مزدوری پر بھاری رقم خرچ کرنی پڑتی ہے۔ ایسے میں بارش کی کمی یا ناموافق موسمی حالات کے سبب پیداوار متاثر ہونے سے کسانوں کا پورا مالی حساب بگڑ جاتا ہے۔ ہونے والے نقصان کے مقابلے میں حکومت کی جانب سے دی جانے والی امداد انتہائی کم ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی ایس آئی آر میں ’منطقی تضاد‘ کی زد پرسب سے زیادہ مسلم ووٹرآئے
’’ریاستی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ رقم کسانوں کو پہنچنے والے نقصان کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ موجودہ حالات میں کھیت کی تیاری اور زرعی کاموں پر ہی فی ہیکٹر۳۰؍ ہزار سے۵۰؍ ہزار روپے تک خرچ ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں محض۵؍ ہزار روپے کی امداد سے کسانوں کی مشکلات کیسے دور ہوں گی؟‘‘
روہت پوار،
رکن اسمبلی ،این سی پی (شردپوار)