• Mon, 02 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہنگولی :گنیش واڑی ضلع پریشداسکول کی مثالی تبدیلی، طلبہ کی تعداد میں نمایاں اضافہ

Updated: February 02, 2026, 4:31 PM IST | ZA Khan | Hingoli

اساتذہ،سرپرستوں اور عوامی نمائندوں کی مشترکہ کوششوں نے خستہ حال اسکول کی کایا پلٹ دی،طلبہ کا اندراج بڑھا۔

The Zilla Parishad School building looks attractive after new construction, renovation and painting. Picture: INN
نئی تعمیرات ، مرمت اور رنگ و روغن کے بعد ضلع پریشد اسکول کی عمارت دلکش نظر آرہی ہے۔ تصویر: آئی این این
ہنگولی شہر کے گنیش واڑی علاقے میں واقع ضلع پریشد کاسرکاری اسکول کبھی خستہ حالی کی تصویر ہوا کرتاتھا۔ جماعت اول تا ہشتم تک چلنے والے اس اسکول کی ٹوٹی ہوئی کھڑکیاں، بوسیدہ کمروں کی دیواریں اور برسات کے موسم میں گھٹنوں تک جمع ہونے والا پانی ان حالات میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ شدید مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔ نتیجتاً والدین کا رجحان نجی اور انگریزی اسکولوں کی طرف بڑھتا جا رہا تھا اور اسکول کے بند ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔اسکول میں اس وقت محض۱۱۰؍ طلبہ زیر تعلیم تھے۔ تاہم اسکول کے اساتذہ، اسکول مینجمنٹ کمیٹی، مقامی شہریوں اور عوامی نمائندوں نے مشترکہ کوششوں سے اب اس اسکول کی تقدیر بدل دی ہے۔
اس تبدیلی کی قیادت اساتذہ نے کی، جن میں خاص طور پر کلدیپ ماسٹر اور دیگر اساتذہ شامل تھے۔ اس مقصد کے تحت اسکول مینجمنٹ کمیٹی اور ہیڈ ماسٹر اُوشا کوٹکر کی صدارت میں اجلاس منعقد ہوا، جس میں اساتذہ کلدیپ ماسٹر، ولاس بڑھوے، سیما گاؤلی، بھاسکر لانڈگے، لتا سالوے، سیما گائیکواڑ اور جوتسنا پتنگے نے شرکت کی۔ تمام افراد نے مل کر اسکول کی ہمہ جہت ترقی کا منصوبہ تیار کیا۔ اسکول کو عوامی نمائندوں کی بھرپور حمایت بھی حاصل ہوئی۔ رکن اسمبلی سنتوش بانگر کی سفارش پر اُس وقت کے سرپرست وزیر عبدالستار نے دو نئے کمروں کی منظوری دی۔ اسی طرح سابق نائب صدر ضلع پریشد منیش آکھرے نے اسکول کے میدان میں پیور بلاکس اور حفاظتی دیوار کیلئے  مالی امداد فراہم کی، جس سے نہ صرف میدان صاف ستھرا ہوا بلکہ آوارہ جانوروں کی آمد پر بھی روک لگی۔بعد ازاں ضلع کلکٹر راہل گپتا نے ضلع سالانہ منصوبے کے تحت مزید دو کمروں کی منظوری دی، جن کی تعمیر فوری طور پر مکمل کی گئی۔ اس کے علاوہ انسانی ترقی مشن، وزیر اعظم اسکیم اور ضلع سالانہ منصوبوں کے تحت اسکول کو اضافی کمرے حاصل ہوئے، جس سے ایک معیاری اور پائیدار عمارت وجود میں آئی۔ دلکش رنگ و روغن، شجرکاری اور بہتر انفراسٹرکچر نے اسکول کی خوبصورتی میں نمایاں اضافہ کیا۔ انہی کوششوں کے اعتراف میں اسکول کو پچھلے دنوں  ’’وزیر اعلیٰ میری اسکول، خوبصورت اسکول‘‘ مہم کے تحت تعلقہ سطح پر پہلا انعام بھی حاصل ہوا۔اسکول میں معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں۔ کمپیوٹر لیب میں طلبہ ڈیجیٹل مہارتیں سیکھ رہے ہیں۔ اسکے علاوہ ایک جدید اسٹڈی لائبریری بھی قائم کی گئی ۔جس کا افتتاح سرپرست وزیر نرہری جھِروال کے ہاتھوں اور رکن اسمبلی تاناجی مٹکُلے، ضلع کلکٹر راہل گپتاو دیگر کی موجودگی میں انجام پایا۔اسٹڈی سینٹر کو نہ صرف اسکول کے طلبہ بلکہ مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے امیدواروں کیلئے  بھی کھلا رکھا جائے گا۔ان تمام اقدامات کے نتیجے میں  ایک ہی سال میں طلبہ کی تعداد۱۱۰؍ سے بڑھ کر۱۷۸؍ تک پہنچ گئی، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اگر نیت اور اجتماعی کوشش ہو تو سرکاری اسکول بھی نجی اداروں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK