• Fri, 30 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مصنوعی ذہانت کے خدشات کے باعث گوگل کے شیئرز میں تاریخی گراوٹ

Updated: October 30, 2026, 4:14 PM IST | New York

دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کی سرپرست کمپنی الفابیٹ (Alphabet) کے حصص میں غیر معمولی گراوٹ نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ کمپنی کے شیئرز میں ایک ہی کاروباری دن کے دوران ۶۴ء۱۲؍ فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

Google.Photo:INN
گوگل۔ تصویر:آئی این این

دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کی سرپرست کمپنی الفابیٹ (Alphabet) کے حصص میں غیر معمولی گراوٹ نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ کمپنی کے شیئرز میں ایک ہی کاروباری دن کے دوران ۶۴ء۱۲؍ فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں اس کی مجموعی مارکیٹ ویلیو سے تقریباً  ۵۰۰؍ ارب ڈالر سے زائد کم ہوگئے۔ مصنوعی ذہانت ( اے آئی ) میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری، سرچ انجن کے کاروبار میں سست روی اور اشتہارات سے ہونے والی آمدنی توقعات سے کم رہنے کے باعث سرمایہ کاروں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
۲۹؍ اکتوبر کو امریکی اسٹاک مارکیٹ میں الفابیٹ کے حصص کو شدید فروخت کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ کمپنی کے شیئرز میں یہ گراوٹ اس کی تاریخ کی بدترین یومیہ کمیوں میں شمار کی جا رہی ہے۔ کاروباری سرگرمیوں کے دوران حصص کی قیمت تقریباً۳۷ء۲۸۱؍  ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں تقریباً ۵۱۱؍ ارب ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر حصص فروخت کیے جانے کے نتیجے میں امریکی ٹیکنالوجی اسٹاکس پر بھی دباؤ بڑھ گیا۔
 الفابیٹ کی جانب سے جاری کردہ تیسری سہ ماہی کے مالیاتی نتائج نے سرمایہ کاروں کی توقعات پوری نہیں کیں۔ کمپنی کی شراکت داروں کو دی جانے والی ادائیگیوں کو نکالنے کے بعد آمدنی۲ء۱۱۱؍ ارب ڈالر رہی، جو تجزیہ کاروں کے اندازوں سے کم تھی۔ گوگل کے سرچ انجن اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی اشتہارات کی آمدنی میں بھی توقع سے کم اضافہ ہوا۔ یہ کاروبار کمپنی کی مجموعی آمدنی کا ایک اہم حصہ ہے اور طویل عرصے سے گوگل کی مالی کامیابی کی بنیادی وجہ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:اسرائیل: حکومت بنانے کیلئے اپوزیشن لیڈر یائر گولان کی منصورعباس سے ملاقات

سرچ اشتہارات کی آمدنی میں اضافے کی رفتار گزشتہ پانچ سہ ماہیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی، جس سے یہ خدشہ پیدا ہوا ہے کہ صارفین روایتی سرچ انجن کے بجائے مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس اور دیگر متبادل ذرائع کا استعمال بڑھا رہے ہیں۔گوگل اس وقت مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ کمپنی اپنے سرچ انجن، یوٹیوب، جی میل اور دیگر خدمات میں اے آئی ٹیکنالوجی شامل کر رہی ہے۔ تاہم سرمایہ کاروں کو تشویش ہے کہ اس بھاری سرمایہ کاری کے باوجود کمپنی ابھی تک اس سے مطلوبہ آمدنی حاصل نہیں کر پا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:نادرہ ڈاکٹر بننا چاہتی تھیں، مگر گھر کے معاشی حالات نے انہیں اداکارہ بنا دیا

دلچسپ بات یہ ہے کہ گوگل کی اپنی مصنوعی ذہانت پر مبنی سرچ سہولت بھی روایتی اشتہاری کاروبار کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے۔ کمپنی کے چیف بزنس آفیسر فلپ شِنڈلر نے سرمایہ کاروں کو بتایا کہ سرچ کے نئے فیچر اے آئی موڈ کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، لیکن اس کے ذریعے ہونے والی تلاش سے آمدنی روایتی سرچ کے مقابلے میں کم حاصل ہو رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت صارفین کو براہ راست جوابات فراہم کرتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ روایتی سرچ نتائج میں موجود اشتہارات اور ویب سائٹس کے لنکس پر نسبتاً کم انحصار کرتے ہیں۔کمپنی اب اے آئی موڈ میں مزید اشتہارات متعارف کرانے اور اس کے ذریعے آمدنی بڑھانے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ الفابیٹ کے اخراجات میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ کمپنی نے مصنوعی ذہانت کے نظام کو چلانے کے لیے ڈیٹا سینٹرز، کمپیوٹنگ صلاحیت، توانائی اور جدید ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔رپورٹ کے مطابق رواں سال جولائی میں کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ  ۲۰۲۶ء کے دوران اس کے سرمایہ جاتی اخراجات  ۲۰۵؍ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہیں۔ تیسری سہ ماہی میں کمپنی کے سرمایہ جاتی اخراجات ۴ء۵۱؍ ارب ڈالر رہے۔ اس کے علاوہ مستقبل میں کمپیوٹنگ وسائل اور توانائی کی فراہمی کے لیے کمپنی کی مالی ذمہ داریاں  ۹۲۴؍ ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ ڈیٹا سینٹرز کے مستقبل کے لیز معاہدوں سمیت دیگر ذمہ داریوں کو شامل کیا جائے تو یہ رقم ایک ہزار ارب ڈالر سے تجاوز کر جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK