Updated: March 21, 2026, 9:07 PM IST
| Tehran
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے باعث توانائی اور ثقافتی ورثے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اصفہان میں ۲۱؍ تاریخی مقامات کو نشانہ بنائے جانے سے بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب نے خبردار کیا ہے کہ اگر توانائی کا بحران جاری رہا تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ۱۸۰؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، جس سے عالمی معیشت پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
(۱) اصفہان میں ۲۱؍ تاریخی مقامات کو ۵۰۰؍ ملین ڈالر کا نقصان
ایران کے صوبہ اصفہان کے گورنر نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں ۲۱؍ تاریخی مقامات کو تقریباً ۵۰۰؍ ملین ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔ گورنر نے کہا کہ ’’یہ حملے ہمارے ثقافتی ورثے پر براہ راست حملہ ہیں اور اس سے ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ متاثرہ مقامات میں قدیم عمارتیں اور تاریخی آثار شامل ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ’’ہم ان نقصانات کا مکمل جائزہ لے رہے ہیں اور بحالی کیلئے اقدامات کریں گے۔‘‘ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ کے دوران ثقافتی ورثے کے تحفظ پر عالمی سطح پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
(۲) سعودی عرب: تیل کی قیمت ۱۸۰؍ ڈالر تک پہنچ سکتی ہے
رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کو خدشہ ہے کہ اگر توانائی کا بحران اپریل سے آگے بڑھتا ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ۱۸۰؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ سعودی حکام نے کہا کہ ’’موجودہ صورتحال عالمی توانائی سپلائی کیلئے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اگر کشیدگی برقرار رہی تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔‘‘ بیان میں کہا گیا کہ عالمی منڈی اس صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ یہ خدشہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز اور دیگر توانائی مراکز کشیدگی کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔