Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران پرجلدگفتگو کی اُمید مگر زمینی حملے کا اندیشہ شدید تر

Updated: March 31, 2026, 8:32 AM IST | Tehran

مصالحت کی کوششوں  کےباوجود امریکی تیاریاں عروج پر ، خلیج میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ، تہران نمٹنے کیلئےتیارکہا:کوئی بچ کر نہیں جائیگا، خلیج فارس میں شارک کی غذا بنیں گے

An Iranian Red Crescent worker at the affected site after a US airstrike
امریکہ کے فضائی حملے کے بعد ایرانی ہلال احمر کا ایک کارکن متاثرہ مقام پر

  ایران  پر تھوپی گئی  امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کو ختم کرنے کیلئے ایک طرف جہاں پاکستان، ترکی،مصراور سعودی عرب کی ثالثی سے مصالحت کی کوششیں  ہو رہی وہیں  ہر گزرتے لمحے اسلامیہ جمہوریہ پر امریکہ کی جانب سے زمینی حملے اور خارک جزیرہ پر قبضہ  کے اندیشے بھی بڑھ رہے ہیں۔پیر کو پھر ٹرمپ نے ایران کے تیل پر قبضہ کی خواہش کا اظہار کیا اور دھمکی دی کہ اگر گفتگو ناکام ہوئی تو ایران کا نام ونشان مٹا دیا جائےگا۔دوسری طرف  ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے پیر کو اپنے اس الزام کو پھر دہرایا کہ امریکہ بات چیت کی کوششوں میں الجھا کر زمینی حملے کی سازش رچ رہا ہے۔  انہوں  نے واشنگٹن کو للکارتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنی سرزمین پر امریکی فوجوں کا شدت سے انتظار کررہاہے۔ ایرانی فوج نے بھی دھمکی دی ہے کہ ایران کی سرزمین پر قدم رکھنے والے فوجی لوٹ کر نہیں جاسکیں گے ، وہ خلیج فارس میں شارک مچھلیوں کی غذا بن جائیں گے۔ 
مصالحت کیلئے اسلام آباد میں میٹنگ جلد
 اتوار کو اسلام آباد میں مصر، ترکی اور سعودی عرب کے وزرائے خاجہ سے ملاقات کے بعد پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد بہت جلد ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت کی میزبانی کرےگا۔ ذرائع کے مطابق  ایران  سے جو امریکہ کیلئے دلدل ثابت ہورہاہے اور جہاں ٹرمپ کوکامیابی ملنے کے بجائے مسلسل ناکامیوں کا سامنا ہے،واشنگٹن عزت وآبرو کے ساتھ نکل جانا چاہتا ہے تاہم   یہاں  سے  بچ نکلنے کا راستہ نہ ملا تو وہ اپنی ساکھ کو بچانے کیلئے حملوں کو شدید تر کرسکتاہے۔  پیر کو ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی اعلان کیا ہے کہ اگر تہران  کے ساتھ جلد معاہدہ نہ ہوا تو ’’ایران میں الیکٹرک پیدا کرنےوالے پلانٹس کو تباہ کردیںگے۔‘‘
بات چیت میں پیش رفت کا دعویٰ
  ایران مسلسل اس بات کی تردید کررہا ہے کہ وہ امریکہ سے  براہ راست مذاکرات کررہا ہے مگر پیر کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ  نے اعلان کیا کہ ’’امریکہ ایران  میں فوجی آپریشن کے خاتمہ کیلئے  نئےاور زیادہ سمجھدار حکمرانوں   سے بہت سنجیدہ گفتگو کررہاہے۔ اس میں بہترین پیش رفت بھی  ہوئی ہے مگر کسی وجہ سے جلد معاہدہ نہ ہوئی ، حالانکہ اس  کے ہوجانے کا پورا امکان ہے،  اور اگر آبنائے  ہرمز کاروبار کیلئے نہ کھلا تو ہم وہاں  بجلی پیدا کرنےوالے پلانٹس، تیل کے ذخائر اور خارک جزیرہ کو  دھماکوں سے اڑا کر  وہاں  اپنے پیارے سے قیام کو ختم کردیںگے۔(ہوسکتا ہے کہ کھارا  پانی صاف کرنے کے تمام پلانٹس کو بھی ختم کردیں ) جو ہم نے اب تک دانستہ نہیں کیا ہے۔‘‘
خلیجی ملکوں میں امریکی فوج میں اضافہ
 امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ کررہا ہے جو اس وقت  ۵۰؍ ہزار ہوگئی ہے۔

iran israel Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK