ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو شدید بحران میں دھکیل دیا ہے۔
EPAPER
Updated: May 22, 2026, 4:11 PM IST | Tehran
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو شدید بحران میں دھکیل دیا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو شدید بحران میں دھکیل دیا ہے۔ الجزیرہ کی ایک خصوصی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اس اہم سمندری گزرگاہ پر کنٹرول مضبوط کرلیا ہے جبکہ ایرانی اجازت کے بغیر بحری جہازوں کی آمد و رفت تقریباً رُک چکی ہے۔ جنگ سے پہلے جہاں روزانہ ۱۲۰؍ سے ۱۴۰؍ جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے تھے، جن میں تقریباً ۲۰؍ ملین بیرل تیل لے جانے والے ٹینکرز بھی شامل تھے، اب وہاں صرف وہی جہاز گزر سکتے ہیں جنہوں نے ایران سے خصوصی اجازت حاصل کی ہو۔
یہ بھی پڑھئے : ’بارش‘ بھی ’کموڈیٹی‘ بن گئی! این سی ڈی ای کا ’ویدر ڈیریویٹیو‘ لانچ
رپورٹ کے مطابق ایران نے حال ہی میں خلیجِ فارس آبنائے اتھاریٹی قائم کی ہے جو جہازوں کی نقل و حرکت اور ٹرانزٹ فیس کی نگرانی کر رہی ہے۔
الجزیرہ نے رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران بعض جہازوں سے گزرنے کے لیے۲؍ ملین ڈالرس تک بھی وصول کر رہا ہے۔ رپورٹ میں شامل کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش عالمی معیشت کو روزانہ تقریباً ۱۲۲؍ ارب ڈالرس کا نقصان پہنچا رہی ہے جس میں تیل اور ایل این جی کی تجارت متاثر ہو رہی ہے، اسی وجہ سے کئی شپنگ کمپنیاں ایران کو فیس ادا کرنا معاشی طور پر بہتر سمجھ رہی ہیں۔
ایرانی نژاد ماہرِ معاشیات نادر حبیبی کے مطابق بندرگاہ پر کھڑا ایک آئل ٹینکر روزانہ بھاری مالی نقصان اٹھاتا ہے، اس لیے ایران کو ادائیگی نسبتاً سستا حل بن سکتا ہے تاہم اُنہوں نے کہا ہے کہ یہ معاملہ صرف معیشت کا نہیں بلکہ سیاست اور امریکی پابندیوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے : صرف پانچ ریاستیں ہندوستان کی جی ڈی پی میں تقریباً۵۰؍ فیصد حصہ ڈالتی ہیں
بین الاقوامی قانون کے تحت قدرتی سمندری گزرگاہوں پر براہِ راست ٹول ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا لیکن سیکوریٹی، نگرانی اور بحری خدمات کے نام پر فیس لی جا سکتی ہے، ایران اسی قانونی پہلو کو بنیاد بنا کر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک خصوصاً ایران، عمان، قطر اور متحدہ عرب امارات، مستقبل میں مشترکہ بحری نظام بنا سکتے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز میں محفوظ اور مستقل تجارتی راستہ برقرار رکھا جا سکے۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی سپلائی کے لیے سب سے اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے جہاں سے عالمی تیل اور گیس تجارت کی تقریباً ۲۰؍ فیصد ترسیل گزرتی ہے۔