بین الاقوامی بحری کونسل اور بالٹک بحری کونسل کا کہنا ہے کہ ایران ڈرون سے نگرانی کر رہا ہے جو جہازوں کی آمدورفت کیلئے خطرہ ہے۔
EPAPER
Updated: May 22, 2026, 11:48 AM IST | Tehran
بین الاقوامی بحری کونسل اور بالٹک بحری کونسل کا کہنا ہے کہ ایران ڈرون سے نگرانی کر رہا ہے جو جہازوں کی آمدورفت کیلئے خطرہ ہے۔
ایرانی دھمکیوں کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی بندش برقرار رہنے کے ساتھ ہی، بین الاقوامی بحری کونسل اور بالٹک بحری کونسل نے تصدیق کی ہے کہ آبنائے سے بارودی سرنگیں ہٹانے کا عمل کئی ہفتوں میں پورا ہو گا۔امریکی اخبار’نیویارک پوسٹ‘ کی جمعرات کی رپورٹ کے مطابق دونوں تنظیموں کا خیال ہے کہ ایرانی ڈرون بھی اس تزویراتی گزرگاہ میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت کیلئے ایک خطرہ بن چکے ہیں۔ دونوں تنظیموں کے انتباہات میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی بحالی کیلئے ضمانتوں کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ بین الاقوامی بحری کونسل اقوام متحدہ سے وابستہ ہے، جبکہ بالٹک اینڈ انٹرنیشنل میری ٹائم کونسل دنیا میں جہازوں کے مالکان کی نمائندگی کرنے والی سب سے بڑی بین الاقوامی شِپنگ ایسوسی ایشنز میں سے ایک ہے۔ایران نے اعلان کیا تھا کہ اس نے گزشتہ مدت کے دوران ایک نیا طریقہ کار، تفتیشی چوکیوں، عبوری معاہدوں اور فیسوں کو نافذ کر کے’ہرمز‘ پر اپنا کنٹرول مضبوط کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی ایوانِ نمائندگان کی سان ڈیاگو اسلامی مرکزفائرنگ متاثرین کی یاد میں خاموشی
روئٹرز نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق با خبر ذرائع نے بتایاکہ نئے ایرانی طریقہ کار میں ایک درجہ وار نظام شامل ہے جو اس کے اتحادیوں روس اور چین سے وابستہ جہازوں کو ترجیح دیتا ہے، جس کے بعد ہندوستان اور پاکستان جیسے ممالک آتے ہیں جن کے تہران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور پھر حکومتوں کے درمیان ایسے معاہدے ہیں جو مال بردار جہازوں کو گزرنے کی اجازت دیتے ہیں۔تہران نے واضح کیا کہ امریکہ یا اسرائیل سے وابستہ بحری جہاز، جنہوں نے فروری کے آخر میں ایران پر فضائی حملے کیے تھے، انہیں اس آبنائے سے گزرنے کی اجازت نہیں ہے۔تاہم ابھی تک آزادانہ طور پر ان جہازوں کی تعداد کا تعین نہیں کیا جا سکا جنہوں نے اس طریقہ کار سے فائدہ اٹھایا ہے۔بحری جہاز رانی کے شعبے سے وابستہ دو یورپی ذرائع نے بتایا کہ تہران حکومت کے ساتھ معاہدوں میں شامل نہ ہونے والے کچھ جہازوں نے ہرمز کے ذریعے محفوظ سفر کو یقینی بنانے کے لیے ایرانی حکام کو ایک لاکھ ۵۰؍ ہزار ہزار ڈالر سے زائد کی رقم ادا کی ہے۔
دوسری طرف دو اعلیٰ ایرانی عہدے داروں نے روئٹرز پر انکشاف کیا کہ جہازوں پر بعض اوقات سکیورٹی اور نیویگیشن فیس عائد کی جاتی ہے، جو وزن کے حساب سے مختلف ہوتی ہے۔ لیکن انہوں نے مخصوص اعداد و شمار فراہم نہیں کیے۔ تاہم ان میں سے ایک نے کہا کہ’ ’تمام ممالک ان فیسوں کے دائرے میں نہیں آتے۔‘‘یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بین الاقوامی بحری قانون حکومتوں کو کسی بھی آبنائے سے محفوظ گزرگاہ پر فیس عائد کرنے سے روکتا ہے۔ تاہم سیکوریٹی یا خدمات سے متعلق فیس اس شرط پر عائد کی جا سکتی ہے کہ تمام ممالک کے جہازوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے۔امریکی فوج نے اس سے پہلے اعلان کیا تھا کہ ساحل کے ساتھ ساتھ آبنائے میں جہازوں کو نشانہ بنانے کی ایرانی دھمکیوں کے باعث، مئی کے اوائل تک خلیج میں تقریباً ۲۲؍ ہزار ۵۰۰؍ ملاحوں کے ساتھ لگ بھگ ۱۵۰۰؍ جہاز پھنسے ہوئے تھے۔
یہ بھی پھڑھئے: عراق کا اپنی سرزمین سے خلیجی ممالک پرحملوں میں ملوث افرادکے خلاف کارروائی کا عزم
یاد رہے کہ ایک طرف ایران اور دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے، ایرانی دھمکیوں کی وجہ سے اس اہم گزرگاہ میں نقل و حرکت معطل ہو کر رہ گئی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔اس کے برعکس امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کا سخت بحری محاصرہ کر رکھا ہے اور کسی بھی جہاز کو وہاں سے نکلنے یا داخل ہونے سے روک دیا ہے۔یاد رہے کہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملے کے بعد ہی سے آبنائے ہرمز کو بلاک کر دیا ہے۔