• Mon, 14 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

برکس اجلاس سے عالمی سطح پر مثبت تبدیلیوں کی اُمیدیں

Updated: September 14, 2026, 9:05 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi

ایران اور متحدہ عرب امارات نے ماضی کو پس پشت ڈال کر نئی شروعات کا عزم کیا۔ مشترکہ اعلامیہ نے ۱۹۶۷ء کے نقشہ کی بنیاد پر مسئلہ فلسطین کے ۲؍ ریاستی حل کی وکالت کی اسرائیل پر تنقید کی اور لبنان سے صہیونی فوجوں کے انخلاء کا مطالبہ کیا۔ یکطرفہ پابندیوں کی مذمت اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش۔

Iranian President Masoud Pezeshkian meeting with Abu Dhabi Crown Prince Sheikh Khaled bin Mohamed bin Zayed Al Nahyan in New Delhi. Photo: INN
نئی دہلی میں ایرانی صدر مسعود پیزشکیان ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
نئی دہلی (آئی این این ): اتوار کو نئی دہلی میں ختم ہونے والے برکس سربراہی اجلاس  کے اعلامیہ اورا س اجلاس  کے دوران ہونےوالی پیش رفتوں  سے عالمی سطح پر مثبت تبدیلیوں کی امیدیں  بندھ گئی ہیں۔سب سے اہم  مثبت پیش رفت ایران کے صدر مسعود پیزشکیان اور متحدہ عرب امارات کے ولی عہد خالد بن محمد بن زايد آل نَہيَان کی ملاقات میں ہوئی ۔ 
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے اتوارکو بتایا کہ ایران اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ’’ماضی کو پیچھے چھوڑ کر مستقبل کی طرف دیکھنے‘‘ پر اتفاق کیا ہے۔ سنیچر کو  ان کی ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات  ہوئی تھی۔
ایران -امریکہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے  ایران اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ اگست میں امارات نے ایران کے ساتھ تجارتی اور مالیاتی لین دین معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اتوار کو ایرانی صدرنےبتایاکہ ’’جنگ اور خلیج فارس میں پیش آنے والے واقعات کے بعد پہلی مرتبہ ابوظہبی کے ولی عہد کے ساتھ ہماری تعمیری بات چیت ہوئی ہے۔‘‘ انہوں نےکہاکہ ’’اس بات پر اتفاق ہوا کہ ہم ماضی کو پیچھے چھوڑیں گے، مستقبل کی طرف دیکھیں گے اور اسے مل کر تعمیر کریں گے۔‘‘
ابوظہبی میڈیا آفس نے بھی ملاقات کے حوالے سے ایکس پر بیان جاری کیا اور  بتایا کہ دونوں لیڈروں نے علاقائی اور بین الاقوامی معاملات، کشیدگی میں کمی، استحکام اور خطے میں امن و ترقی کی حمایت کے لیے کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔
اجلاس میں عالمی امور میں برکس کے متحرک رول ادا کرنے پر بھی زور دیاگیا اور مشترکہ اعلامیہ  جسے ’’نئی دہلی اعلامیہ ۲۶ء ‘‘ کا نام دیاگیاہے، میں ۱۱؍رکنی گروپ نے غزہ میں جنگ بندی کی حمایت کی نیز فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی مذمت کی۔اعلامیہ میں اسرائیل فلسطین تنازع کے ۲؍ریاستی حل کی حمایت اہمیت کی حامل ہے کیوں کہ یہ گروپ   دنیا کے بڑےحصے کی نمائندگی کرتا ہے ۔ اس کے قائدین  نےاشارہ دیا ہے کہ وہ عالمی نظام پر امریکی ا ور یورپی اجارہ داری  کا خاتمہ چاہتے ہیں۔  اعلامیہ میں کہا گیا ہے ’’ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اسرائیل فلسطین تنازع کا منصفانہ اور پائیدار حل صرف پرامن ذرائع سے حاصل کیا جاسکتا ہے اور اس کا انحصار فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی تکمیل پر ہے، جن میں حق خود ارادیت اور واپسی کا حق بھی شامل ہے۔‘‘گروپ نے ۱۹۶۷ء کے نقشہ کی بنیا د پر ۲؍ ملکوں کے قیام کی وکالت کرتےہوئے اقوام متحدہ میں فلسطین کی مکمل رکنیت کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔
برکس نے لبنان کی خودمختاری کی خلاف ورزیوں کی  بھی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ لبنانی سرزمین کے زیر قبضہ علاقوں سے اپنی فوجیں واپس بلائے۔ 
نئی دہلی میں سنیچر کو جاری کئے گئے برکس کا مشترکہ اعلامیہ   عالمی امور میں اس گروپ  کے زیادہ متحرک رول ادا کرنے  اور متبادل عالمی نظام کی خواہش کا بھی مظہر ہے۔ اعلامیہ میں  مغربی ایشیا میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ  پر ’’گہری تشویش‘‘ کا اظہار کیا گیا۔ گروپ نے تمام فریقوں سے اپیل کی کہ وہ صورتحال پر اپنے اپنے قومی موقف برقرار رکھتے ہوئے ’’زیادہ سے زیادہ تحمل‘‘ کا مظاہرہ کریں۔ گروپ نے خطے میں شہریوں اور شہری تنصیبات کے تحفظ اور تمام فریقوں کی خودمختاری کے احترام پر بھی زور دیا۔مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے ’’ہم مشرق وسطیٰ/مغربی ایشیا میں مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ اپنے اپنے قومی موقف کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور ایسے اقدامات سے گریز کی اپیل کرتے ہیں جو صورت حال کو مزید خراب کرسکتے ہیں۔‘‘
اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہےکہ ’’ہم تمام فریقوں سے یہ بھی اپیل کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے منشور کے مکمل مقاصد اور اصولوں کے مطابق شہریوں اور شہری تنصیبات کا تحفظ یقینی بنایا جائے، جس میں ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام بھی شامل ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK