ملک میں ۵؍ سال سے کم عمر کے بچے اوسطاً دن میں ڈھائی گھنٹہ اسکرین کے سامنے گزارتے ہیں، بولنے کی صلاحیت، یکسوئی اور نشونما متاثر ہوسکتی ہے۔
EPAPER
Updated: September 14, 2026, 11:05 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai
ملک میں ۵؍ سال سے کم عمر کے بچے اوسطاً دن میں ڈھائی گھنٹہ اسکرین کے سامنے گزارتے ہیں، بولنے کی صلاحیت، یکسوئی اور نشونما متاثر ہوسکتی ہے۔
اگر آپ کا دو یا تین سال کا بچہ آپ کا اسمارٹ فون کھول لیتا ہے، یوٹیوب پر ویڈیوز تلاش کر لیتا ہے اور اپنی پسند کے پروگرام چلا لیتا ہے تو اسےاس کی ذہانت کی علامت سمجھنے سے پہلے محتاط ہوجائیں۔ ماہرین اطفال کے مطابق کم عمر بچوں کا گھنٹوں موبائل فون استعمال کرنا ان کی بول چال اور سماجی میل جول پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جیا بچن سے موازنہ میرے لیے اعزاز ہے: تاپسی پنو
ایک رپورٹ کے مطابق اسکرین ٹائم میں اضافہ بولنے کی صلاحیت کومتاثر اوراس کی رفتار کو کم کرسکتا ہے۔ یہ بچے کی ذہنی صلاحیتوں میں کمی اور سماجی مہارتوں کی نشوونماکو بھی متاثر کرنے کا ذمہ دار پایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ موبائل فون ، ٹیب یا لیپ ٹاپ کے زیادہ استعمال سے بچوں میں موٹاپا ، نیند کے معمولات میں خلل اور یکسوئی میں مشکلات کااندیشہ بھی ظاہر کیاگیاہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہندوستان میں ۵؍ سال سے کم عمر بچے دن میں اوسطاً ڈھائی گھنٹہ اسکرین کے سامنے گزارتے ہیں جو عالمی سطح پر طے کئے گئے محفوظ پیمانہ سے کہیں زیادہ ہے۔
ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ممبئی کے ایک کلینک میں ایک ۳؍ سالہ بچے کی ماں نے فخر سے ڈاکٹر کو بتایا کہ اس کا بیٹا بغیر کسی مدد کے یوٹیوب چلا لیتا ہے۔ وہ موبائل کی تقریباً ہر کی پہچانتا ہے، خود ویڈیوز تلاش کرتا ہے اور انہیں چلا بھی لیتا ہے تاہم ماہرین کے مطابق موبائل چلانے کی یہ صلاحیت بچے کی مجموعی ذہنی یا سماجی نشوونما کا ثبوت نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: برکس اجلاس سے عالمی سطح پر مثبت تبدیلیوں کی اُمیدیں
بچوں کا حافظہ متاثر ہوسکتاہے
ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بہت کم عمری میں بچوں کو اسکرین تک رسائی دینے کے منفی اثرات طویل عرصے تک برقرار رہ سکتے ہیں اور اس سے ان کے سیکھنے اور چیزوں کو یاد رکھنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔’اِنسرم‘ اور نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کی تحقیق میں معلوم ہوا کہ جو بچے ایک سال کی عمر میں، زیادہ وقت اسکرین دیکھنے میں گزارتے تھے، ان کی بعد کی تعلیمی کارکردگی اور یادداشت متاثر ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ تقریباً۶؍سال کی عمر میں اسکرین کا استعمال بھی خراب نتائج سے منسلک پایا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شیر خوارگی اور ابتدائی اسکولی سال اسکرین ٹائم کے معاملے میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔