Inquilab Logo Happiest Places to Work

پاکستان قطر نہیں، سفارتکاروں کو نقصان ہوا تو اسرائیل کو سخت جواب دیں گے: پاکستان

Updated: March 27, 2026, 7:01 PM IST | Islamabad

تہران میں پاکستانی سفارت خانے کے قریب مبینہ اسرائیل-امریکہ حملے کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے جس پر پاکستان نے سخت ردعمل کی وارننگ دی ہے۔ پاکستان نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کو یاد رکھنا چاہئے کہ پاکستان قطر نہیں ہے۔ اگر ہمارے سفارتکاروں کو دنیا میں کہیں بھی نقصان پہنچا تو ہم انہیں سخت جواب دیں گے۔

Netanyahu and Shehbaz Sharif. Photo: INN
نیتن یاہو اور شہباز شریف۔ تصویر: آئی این این

جمعرات (۲۶؍مارچ) کو ایرانی دارالحکومت تہران میں پاکستان کے سفارت خانے کے قریب اسرائیل اور امریکہ کے حملے کی خبروں کے بعد، پاکستان اسٹریٹیجک فورم، جو حکومت سے منسلک ہے، نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ایران یا دنیا کے کسی بھی حصے میں اس کے سفارتکاروں کو نقصان پہنچانے کی صورت میں سخت ردعمل دیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا:’’اسرائیل کو یاد رکھنا چاہئے کہ پاکستان قطر نہیں ہے۔ اگر ہمارے سفارتکاروں کو دنیا میں کہیں بھی نقصان پہنچا تو ہم انہیں سخت جواب دیں گے۔ ‘‘ 
یہ دھمکی اس وقت سامنے آئی ہے جب اطلاعات کے مطابق اسرائیل اور امریکہ نے جمعرات کو تہران کے مرکزی علاقے میں تازہ فضائی حملےکئے۔ رپورٹس کے مطابق یہ حملے پاکستان کے سفیر کی رہائش گاہ اور پاکستانی سفارت خانے کے قریب ہوئے۔ اگرچہ پاکستانی سفیر محفوظ رہے، تاہم، دھماکے سے سفارت خانے کا احاطہ اور اردگرد کی کئی عمارتیں بری طرح لرز اٹھیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: نیپال: بالیندر شاہ نے بطور وزیر اعظم حلف لیا

پاکستان کی امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی پیشکش
تہران میں اپنے سفارت خانے کے قریب حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستانی حکومت کے کئی اعلیٰ حکام نے کھل کر کہا ہے کہ: ’’اگر دونوں فریق چاہیں تو اسلام آباد مذاکرات کی میزبانی کیلئے تیار ہے۔ ‘‘پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے منگل کو کہا کہ اسلام آباد ’بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات‘ میں سہولت فراہم کرنے کیلئے’تیار اور باعزت محسوس کرتا ہے۔ ‘یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ امریکہ ماضی میں بھی ایران کے ساتھ رابطے کیلئے پاکستان کو ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK