Updated: March 21, 2026, 8:05 PM IST
| Tehran
آبنائے ہرمز کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش بڑھ گئی ہے۔ نیٹو کے سربراہ نے اس اہم سمندری راستے کی بندش کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ اسی دوران رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ ایران کی ہرمز پر گرفت کمزور کرنے کیلئے جزیرہ خرج پر قبضے پر غور کر رہا ہے۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ امریکہ ہرمز کی حفاظت کی ذمہ داری خود لینے کے بجائے دیگر ممالک کو یہ کردار سونپ سکتا ہے۔
(۱) نیٹو سربراہ، ہرمز کی بندش ناقابل قبول
نیٹو کے سربراہ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش ’’ناقابل قبول‘‘ ہے اور اسے فوری طور پر کھولا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کیلئے ایک اہم راستہ ہے، اسے بند نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ بیان میں کہا گیا کہ اتحادی ممالک اس بات کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں کہ جہازوں کی آمدورفت جاری رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے اور توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
(۲) رپورٹ: ٹرمپ خرج جزیرہ پر قبضے پر غور کر رہے ہیں
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران کی آبنائے ہرمز پر گرفت کمزور کرنے کیلئے جزیرہ خرج پر قبضے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کیلئے اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ ’’تمام آپشنز زیر غور ہیں اور ہرمز میں استحکام یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے جا سکتے ہیں۔‘‘ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس منصوبے پر ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور توانائی کے مراکز کو خاص اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔
(۳) ٹرمپ، امریکہ ہرمز کی حفاظت کی ذمہ داری نہیں لے گا
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز کی حفاظت کی ذمہ داری خود لینے کے بجائے دیگر ممالک کو یہ کردار ادا کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم اسے استعمال نہیں کرتے، اس لئے دوسرے ممالک کو اس کی حفاظت کرنی چاہئے۔‘‘ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ ایران میں اپنی فوجی سرگرمیوں کو ’’سمیٹنے‘‘ پر غور کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم اپنے مفادات کا جائزہ لے رہے ہیں اور ضروری فیصلے کریں گے۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہرمز کے حوالے سے عالمی سطح پر کشیدگی بڑھ رہی ہے اور مختلف ممالک اس میں کردار ادا کرنے پر غور کر رہے ہیں۔