ریاست بھر میں خون کی قلت کے سبب اسپتال انتظامیہ کوپریشانی کا سامنا

Updated: September 14, 2021, 9:42 AM IST | Sadaat Khan | Mumbai

کو روناوائرس اور ٹیکہ کے خوف نیزکارپوریٹ آفس اورکالجوںمیں بلڈ ڈونیشن کیمپ منعقد نہ کئے جانے سے مسئلہ سنگین، اسٹیٹ بلڈ ٹرانسفیوژن کونسل کےمطابق عام دنوں کے مقابلے ۴۰؍تا ۵۰؍فیصد کم خو ن جمع ہورہاہے ۔ ٹاٹا اسپتال نے خون کے عطیہ کی اپیل کی

View of the blood donation camp held at Tata Memorial Hospital. Picture:Inquilab
ٹاٹا میموریل اسپتال میں منعقدہ بلڈڈونیشن کیمپ کا منظر۔ (تصویر: انقلاب)

ممبئی اور ریاست کے دیگر اضلاع کے اسپتالوں کو خون کی شدید  قلت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جس کی وجہ کو روناوائرس  اور ٹیکہ کے خوف نیز کارپوریٹ آفس اورکالجوںمیں بلڈ کیمپ منعقد نہ کیا جانا ہے۔ اس کے سبب  مریض بھی پریشان ہیں۔ اسی لئے بلڈبینکوں اور اسپتال انتظامیہ نے عوام سے خون کا عطیہ دینے کی اپیل  کی ہے۔ پریل میں واقع ٹاٹامیموریل اسپتال نے سوشل میڈیا پر خون کاعطیہ دینےکی اپیل کی ہے تاکہ مریضوںکا علاج کیاجاسکے۔واضح رہےکہ ممبئی میں سب سے زیادہ روزانہ ۸۰؍تا۱۰۰؍یونٹ خون کی ضرورت ٹاٹا اسپتال کو ہوتی ہے لیکن فی الحال ۳۵؍ تا۴۰؍یونٹ کے حساب سے ۴؍تا۵؍ دن کا ہی اسٹاک موجود ہونے سے اسپتال انتظامیہ تشویش میں مبتلاہے۔ سوشل میڈیا پر اس تعلق سے  اپیل دیکھنے کے  بعد مدنپورہ اور اطراف کے علاقوں کی مساجد کے ذمہ داران نے خون کے عطیہ کیلئے مساجد سے اعلان کروانےکا فیصلہ کیا ہے ۔
  ٹاٹااسپتال کےڈپارٹمنٹ آف ٹرانسفیوژن میڈیسن کے ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ ڈاکٹر سنیل راج ادھیاکشا نے انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہمیںمریضوںکے علاج کیلئے ہر روز بڑی تعداد میں خون کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ بلڈ کینسر کے مریضوںکے علاج کیلئے زیادہ مقدار میں خون درکارہوتاہے۔ ان مریضوں کے آپریشن اور کیموتھیراپی کیلئے خون زیادہ لگتا ہے ۔ چونکہ بیشتر مریضوںکا تعلق بیرون ِ ممبئی سے ہوتاہے،  ان میں سے زیادہ تر مریض خون کا انتظام نہیں کرپاتے ہیں۔  ان کےعلاج کیلئے خون کاانتظام اسپتال کو کرنا ہوتاہے  اور  بلڈبینک ممبئی کے ان رضاکاروں پر منحصر  ہے جو وقتاً فوقتاً خون کا عطیہ کرتے ہیںجس  سے ان مریضوںکا علاج کیاجاتاہےلیکن کووڈ ۱۹؍  سے خون کا عطیہ کرنےوالوںکی تعدادمیں بھاری کمی آئی ہے ۔ سماجی اداروں ،کارپوریٹ ہائوس اور کالجوںکی طرف سے بلڈ کیمپ منعقدنہ کئے جانے سے خون کا ذخیرہ نہیںہوپارہاہے۔بہت ہی کم تعداد میں لوگ خون کا عطیہ دینےآرہے ہیں جس سے خون کے اسٹاک میں روزانہ کمی آرہی ہے ۔ ہمیں روزانہ ۱۰۰؍یونٹ خون کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ ہمارے پاس ۳۵؍تا۴۰؍یونٹ کا انتظام ہوتا ہے۔   یہ اسٹاک بھی ۵، ۶؍دن کا ہی موجود ہے۔اس لئے ہم متعدد سرکاری اور سماجی اداروں کےعلاوہ کارپوریٹ ہائوس ، مذہبی اداروں اور نوجوانوں کے گروپوں سے رابطہ کرکے خون کاعطیہ دینےکی اپیل کررہےہیں ۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیاپر بھی اس کیلئے اپیل کی گئی ہے جس کانتیجہ ہےکہ اتو ار کو ۳۹؍افراد نے ٹاٹا اسپتال آکر خون کا عطیہ دیا ۔ ہمارے اسپتال میں ـخون کا ذخیرہ ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ بلڈ کینسر کے مریضوں کی کیمو تھیراپی روکی نہیں جاسکتی ہے ۔ ‘‘ انہوںنے یہ بھی کہاکہ ’’ متعدد افراد کوروناویکسین لگانےکے خو ف سے خون کاعطیہ نہیں دے رہےہیں۔ ایسے لوگو ں کیلئے مشورہ ہے کہ ٹیکہ لگانےکے۱۴؍دن بعد وہ خون کاعطیہ دے سکتے ہیں ۔ انہیں گھبرانےکی ضرورت نہیں ہے ۔ کچھ لوگ  اس وبا سے خوفزدہ ہوکر بھی خون کا عطیہ دینے  سے کترا رہےہیں ان کے کیلئے ہم یہ کہیں گے کہ خون نکالتےوقت تما م احتیاطی تدابیر کا خیال رکھا جا رہا ہے لہٰذا وہ بے خوف ہوکر خون کا عطیہ دے سکتے ہیں۔خون کا عطیہ دینےکیلئے ٹاٹا اسپتال نے  رابطہ نمبر ۰۲۲۔۲۴۱۷۷۰۰۰ بھی جاری کیاہے۔‘‘
  ٹاٹااسپتال کی اپیل کو دیکھ کر شہر و مضافات کے متعدد علاقوںکے افراد میں خون کا عطیہ دینے سے متعلق بیداری آئی ہے۔ مدنپورہ میں واقع عرب مسجد کے ٹرسٹی رفیق انصاری اور امام امیر عالم نے کہاکہ ’’ہم اپنی مسجد کے ذریعے اپیل کریں گےکہ لوگ بڑی تعدادمیں خون کا عطیہ دیں۔‘‘  بیلاسس روڈ کے سماجی کارکن محمد رضوان خان اور مجگائوں کے ثاقب خان نے بھی اس اپیل کو دیکھنے کےبعد سوشل میڈیاپر اس ضمن میں عوام سے خون کا عطیہ دینےکی درخواست کی ہے اور جلد ہی اپنے علاقو ں میں بلڈکیمپ منعقد کروانےکی یقین دہانی کروائی ہے۔‘‘
  اسٹیٹ بلڈ ٹرانسفیوژن کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ارون تھورات نے انقلا ب کوبتایاکہ ’’ کووڈ۱۹؍  کی وجہ سے ممبئی سمیت پورے مہاراشٹرکے بلڈ بینکوںمیں خون کی شدید قلت ہے۔ عام دنوں کے مقابلے ۴۰؍تا ۵۰؍فیصد کم خو ن جمع ہورہاہے ۔ عموماً ممبئی میں روزانہ ۵۰۰؍تا۸۰۰؍ اور مہاراشٹرمیں ۳؍ تا ۵؍ہزار یونٹ خون جمع ہوتاتھالیکن ان دنوں ۵۰؍ فیصد کم یونٹ جمع ہورہاہے۔ پیر کوممبئی کے تمام بلڈ بینک کااسٹاک ۵؍ہزار ۵۵۰؍ اور مہاراشٹر کا ۲۵؍ ہزار ۵۰۰؍ یونٹ تھا۔ ‘‘ ایک سوال کے جواب میں انہوںنےکہاکہ ’’ کوروناوائر س کے خوف سے خون کا عطیہ دینے والوںکی تعداد کافی کم ہوگئی ہے۔ علاوہ ازیں لاک ڈائون کی پابندیوں کے سبب بھی بلڈ کیمپ منعقدنہیں کئے جارہےہیں جس سے خون کی قلت ہورہی ہے ۔ حکومت نے گنپتی اور نوراتری کے موقع پر تمام احتیاطی تدابیر کے ساتھ بلڈکیمپ منعقد کرنےکی اپیل کی ہے ساتھ ہی عام لوگوں سے بھی استدعا ہےکہ وہ خون کا عطیہ دے کر مریضو ںکی ضرورت پور ی کرنےمیں تعاون کریں۔‘‘ 

blood bank Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK