Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہوٹل آتشزدگی : متاثرین کو بچانےکیلئے ارمان نے اپنی دکان کے تمام کمبل اور گدّے دیدئیے

Updated: June 05, 2026, 12:40 AM IST | New Delhi

چوتھی منزل سےکودنے والوں کیلئے گدّے لگائے گئے تھے،عامر ، وسیم ، شعیب اور محمد افضل نے کئی متاثرین کو آگ سے باہر نکالنے اور ’’سی پی آر‘‘ دینے کا کام کیا

Mattress vendor Muhammad Arman talking to the media.
گدّے والا محمدارمان میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ۔

دہلی کے ہوٹل میں گزشتہ روز ہونے والی بھیانک آتشزدگی میں ۲۱؍ افراد فوت ہو گئے جن میں ۱۱؍ غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر افریقی ملک کانگو کے شہری تھے جو یہاں ٹھہرے ہوئے تھے۔ عینی شاہدین بتاتے ہیں کہ اگر مقامی لوگ نہیں ہوتے تو اموات کی تعداد کہیں زیادہ ہوتی کیوں کہ مقامی افراد نےبہت برق رفتاری سے ہوٹل میں پھنسے افراد کو نہ صرف باہر نکالا بلکہ انہیں طبی مدد بھی پہنچائی ۔ پی ٹی آئی کی خبر کے مطابق ہوٹل کے قریب ہی کمبل اور گدّے فروخت کرنے والے ارمان نے اپنے نقصان کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنی دکان کے ۲۰؍ سے ۲۵؍ کمبل   متاثرین کو لگی آگ بجھانےکے لئےدے دئیے اورساتھ ہی کئی گدّے جائے وقوع پر بچھادئیے تاکہ جو لوگ چوتھے منزلے سےکود رہے تھے انہیں کوئی مار نہ لگے۔ ارمان کی اس حاضر دماغی اور بروقت کارروائی کی وجہ سے اتنی اونچائی سے کودنے والوں میں چند ایک ہی معمولی زخمی ہوئے، باقی لوگ نہ صرف بچ گئے بلکہ انہوں نے ارمان کے اس جذبے کی بھرپور ستائش بھی کی۔ ارمان کی اس کوشش کے کئی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں۔ ارمان نے پی ٹی آئی سے گفتگو میں کہاکہ ’’ میں نے جب لوگوں کی چیخیں سنیں اور دیکھا کہ وہ اونچائی سےکودنے کی کوشش کررہے ہیں تو مجھے فوراً گدّے وہاں رکھ دینے کا خیال آیا اور میں نے ایسا ہی کیا۔ مجھے خوشی ہے کہ میں کچھ لوگوں کی جان بچانے میں کامیاب رہا ۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کمبلوں کا استعمال ان لوگوں کیلئے کیا گیا جو ہوٹل سے باہر تو آرہے تھےلیکن ان کے کپڑوں میں آگ لگی ہوئی تھی ۔ ان کمبلوں کی مدد سے فوراً آگ کو بجھایا گیا ۔ واضح رہے کہ ارمان نے ۲۰؍ سے ۲۵؍ کمبل اس کام کے لئے دے دئیے تھے۔ 
 اس بھیڑ میں۴؍ ایسے ہیروز بھی تھے جودھوئیں کی وجہ سے دم گھٹنے کی شکایت کرنے والے متاثرین کو سی پی آر دے رہے تھے۔ ان چاروں نے کم از کم ۸؍ افراد کو فوری طور پر سی پی آر دے کر ان کی جان بچائی ۔ یہ چاروں نوجوان عامر خان ،وسیم راجہ ،محمد شعیب اور محمد افضل تھے جو جائے وقوع کے قریب ہی رہتے ہیں اور حادثے کا شور سنتے ہی فوری طور پر وہاں پہنچے۔ چاروں نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ جب تک ایمبولنس پہنچتی تب تک بہت دیر سکتی تھی اسی لئے ہم نے کچھ متاثرین کو سی پی آر دیا کیوں کہ ہمیں محسوس ہوا کہ ان کا دم گھٹ چکا ہے اور سانس نہیں آرہی ہے۔ سی پی آر کی وجہ سے وہ دوبارہ سانس لینے لگے ۔پھر انہیں اسپتال پہنچایا گیا۔ 

new delhi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK