Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کے ساتھ اختلافات کو نیتن یاہو نے ’’ خاندانی جھگڑا‘‘ قرار دیا

Updated: June 04, 2026, 8:03 PM IST | Tel Aviv

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ حالیہ اختلافات کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے خاندانی جھگڑا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم ہمیشہ اسے حل کرنے کا راستہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

بی بی سی اردو کے مطابق، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ کشیدگی کی رپورٹوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں لیڈروں کے درمیان حکمت عملی کے معاملات پر اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن وہ قریبی اتحادی ہیں اور ہمیشہ اختلافات کو حل کرنے کا راستہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔ سی این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے معاملے پر وہ اور ٹرمپ بڑی حد تک ایک صفحہپر ہیں، چاہے وہ بعض تکنیکی مسائل پر متفق نہ ہوں۔ واضح رہے کہ یہ انٹرویو ایسی رپورٹوں کے بعد سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائیوں پرنیتن یاہو سے ٹیلی فونک گفتگو میں سخت زبان استعمال کی۔ بعد ازاں ٹرمپ نے خود اعتراف کیا کہ وہ ناراض تھے، لیکن انہوں نے کہا، ’’میں زیادہ ناراض نہیں کہوں گا، میں تھوڑا پریشان تھا کہ وہ لبنان کے ساتھ مسلسل لڑ رہے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: امریکی تاریخ میں اس سے زیادہ بدعنوان صدر نہیں دیکھا: الہان عمرکا ٹرمپ پرسخت حملہ

دوسری جانب نئی دہلی میں اسرائیلی سفیر ریوین آزر نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ فوجی کارروائیوں پر مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل اپنے دفاع کا حق استعمال کر رہا ہے اور ایران یا کسی اور ملک کی منظوری پر منحصر نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’بعض اوقات اختلافات ہوتے ہیں، لیکن ہم انہیں حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘‘ آزر نے ہندوستانی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہندوستان کا خطے میں بہت بڑا کردار ہے کیونکہ یہ تیزی سے ترقی کرتی معیشت ہے۔مزید یہ کہ اگر استحکام برقرار رہا اور انتہا پسند عناصر کو بے اثر کر دیا گیا تو مغربی ایشیاء ہندوستان سے آنے والی خوشحالی سے لطف اندوز ہو سکے گا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی ہاؤس نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرارداد منظور کرلی

بعد ازاں سفیر نے پاکستان کو امریکہ-ایران مذاکرات میں ثالث بنانے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ’’ پاکستان قابلِ اعتماد ثالث نہیں ہو سکتا۔‘‘اس کے علاوہ آزرنے کہا کہ اسرائیل کا ایران پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں ہے، لیکن وہ ایران کو فوجی ذرائع سے قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایرانی حکومت اب کمزور مقام پر ہے، چاہے وہ فتح کے بیانات دے رہی ہو۔تاہم ماہرین کے مطابق لیڈران کے بابین یہ تلخی بڑھتی ہوئی مایوسی کا اظہار ہے۔ سابق سفارت کار بریٹ بروئن کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کی اپنی چال چلنے کی طویل تاریخ ہے، اور ٹرمپ اب یہ سبق سیکھ رہے ہیں کہ ایک غیرمستقل مزاج لیڈر کے ساتھ جنگ میں جانا کتنا مشکل ہو سکتا ہے، جس کی ترجیحات ہمیشہ امریکی مفادات سے متصادم  ہوتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK