Inquilab Logo Happiest Places to Work

لندن، پارلیمنٹ اسکوائر: فلسطینی لیڈر مروان برغوثی کا مجسمہ نصب، پولیس نے ہٹادیا

Updated: June 04, 2026, 7:03 PM IST | London

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں فلسطین نواز کارکنوں نے پارلیمنٹ اسکوائر میں قید فلسطینی لیڈر مروان برغوثی کا مجسمہ نصب کرکے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا، تاہم پولیس نے مختصر وقت بعد اسے ہٹا دیا۔ کارکنوں نے برغوثی کو فلسطینی عوام کی جدوجہد کی علامت قرار دیتے ہوئے ان کا موازنہ جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن منڈیلا سے کیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب غزہ جنگ کے بعد فلسطینی قیادت کے مستقبل اور برغوثی کے ممکنہ سیاسی کردار پر بحث تیز ہو گئی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

لندن میں فلسطین کے حامی کارکنوں نے ایک غیرمعمولی احتجاجی اقدام کے تحت پارلیمنٹ اسکوائر میں فلسطینی لیڈر مروان برغوثی کا مجسمہ نصب کر دیا، جسے بعد ازاں پولیس نے ہٹا دیا۔ اس اقدام کا مقصد اسرائیلی جیل میں گزشتہ چوبیس برس سے قید برغوثی کی رہائی کے مطالبے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا اور فلسطینی سیاسی منظرنامے میں ان کی اہمیت کو نمایاں کرنا تھا۔ سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز اور احتجاجی مہم سے وابستہ گروپوں کے بیانات کے مطابق مجسمہ پارلیمنٹ اسکوائر میں نیلسن منڈیلا کے مجسمے کے قریب نصب کیا گیا تھا۔ منتظمین کا کہنا تھا کہ وہ مروان برغوثی کو بھی ایک ایسے سیاسی قیدی کے طور پر دیکھتے ہیں جس نے اپنی قوم کی آزادی اور خودمختاری کے لیے جدوجہد کی۔ ان کے مطابق جیسے منڈیلا نے جنوبی افریقہ میں نسل پرستانہ نظام کے خلاف طویل قید برداشت کی، اسی طرح برغوثی فلسطینی عوام کے حقوق کی جدوجہد کی علامت بن چکے ہیں۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Middle East Eye (@middleeasteye)

تاہم پولیس نے اس تنصیب کو برقرار رکھنے کی اجازت نہیں دی اور چند گھنٹوں کے اندر مجسمہ ہٹا دیا گیا۔ برطانوی حکام کی جانب سے فوری طور پر اس حوالے سے کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ اسکوائر جیسے حساس اور تاریخی مقام پر کسی بھی غیرمجاز تنصیب کے خلاف کارروائی معمول کی بات سمجھی جاتی ہے۔ یہ احتجاج ایسے وقت سامنے آیا ہے جب برطانیہ میں فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں، ریلیوں اور احتجاجی سرگرمیوں پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ انسانی حقوق کی بعض تنظیموں اور شہری آزادیوں کے حامی گروپوں نے حالیہ مہینوں میں فلسطین نواز سرگرمیوں پر بڑھتی ہوئی قانونی پابندیوں اور پولیس کارروائیوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ دوسری جانب حکام کا مؤقف ہے کہ عوامی نظم و ضبط اور سیکوریٹی کو برقرار رکھنا ان کی ذمہ داری ہے۔
مروان برغوثی فلسطینی جماعت فتح کے سینئر لیڈر اور فلسطینی سیاست کی اہم ترین شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ اسرائیل نے انہیں ۲۰۰۲ء میں دوسری انتفاضہ کے دوران گرفتار کیا تھا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عدالت نے انہیں متعدد حملوں میں ملوث قرار دیتے ہوئے پانچ عمر قید کی سزائیں سنائیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق ان حملوں میں پانچ اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے تھے اور برغوثی نے ایسی سرگرمیوں میں کردار ادا کیا تھا جن کے نتیجے میں جانیں ضائع ہوئیں۔ برغوثی نے مقدمے کے آغاز سے ہی اسرائیلی عدالت کے اختیار کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایک مقبوضہ قوم کے نمائندے کو قابض طاقت کی عدالت میں منصفانہ انصاف نہیں مل سکتا۔ ان کے حامیوں اور بعض بین الاقوامی حلقوں نے بھی مقدمے کے مختلف پہلوؤں پر سوالات اٹھائے۔ آئی پی یو کی ایک رپورٹ میں عدالتی کارروائی اور شواہد کے معیار سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، جس کے بعد برغوثی کے حامی انہیں سیاسی قیدی قرار دیتے رہے ہیں۔
دو دہائیوں سے زائد عرصے سے جیل میں ہونے کے باوجود برغوثی فلسطینی عوام میں غیرمعمولی مقبولیت رکھتے ہیں۔ مختلف سرویز اور سیاسی تجزیوں میں انہیں فلسطینی علاقوں کے مقبول ترین لیڈروں میں شمار کیا گیا ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ ان چند شخصیات میں شامل ہیں جو فلسطینی سیاسی دھڑوں کے درمیان موجود خلیج کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ غزہ جنگ کے بعد فلسطینی سیاسی قیادت کے مستقبل پر ہونے والی بحث میں بھی برغوثی کا نام بار بار سامنے آیا ہے۔ کئی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر وہ کبھی رہا ہوتے ہیں تو فلسطینی سیاست میں ایک اہم اور فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی رہائی کا مطالبہ نہ صرف فلسطینی حلقوں بلکہ بین الاقوامی شخصیات اور انسانی حقوق کے بعض گروپوں کی جانب سے بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتا رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فلسطینی کھیلوں پر وار: اسرائیل نے اسٹار فٹبالر رند حلوانی کی حراست بڑھائی

گزشتہ برس دنیا بھر کے دو سو سے زائد ادیبوں، فنکاروں، دانشوروں اور سماجی شخصیات نے ایک مشترکہ اپیل میں مروان برغوثی کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن اور سیاسی استحکام کے لیے فلسطینی قیادت کو نئی سمت دینے کی ضرورت ہے اور برغوثی اس عمل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لندن کے پارلیمنٹ اسکوائر میں نصب کیا گیا مجسمہ اگرچہ چند گھنٹوں سے زیادہ برقرار نہ رہ سکا، تاہم اس نے ایک بار پھر مروان برغوثی کے گرد جاری عالمی بحث کو زندہ کر دیا ہے۔ ایک جانب اسرائیل انہیں دہشت گرد حملوں کا ذمہ دار قرار دیتا ہے جبکہ دوسری جانب فلسطینی عوام کے ایک بڑے طبقے اور ان کے بین الاقوامی حامیوں کی نظر میں وہ قومی مزاحمت، سیاسی جدوجہد اور فلسطینی وحدت کی علامت ہیں۔ حالیہ احتجاج اسی متنازع مگر بااثر سیاسی شخصیت کے بارے میں جاری عالمی اختلافِ رائے کی ایک تازہ مثال سمجھا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK