Inquilab Logo Happiest Places to Work

فیرو جزائر: ۷۰۰؍ سے زائد وہیل اور ڈولفن ذبح، خون آلود شکار، عالمی سطح پر تنقید

Updated: June 04, 2026, 10:00 PM IST | Faroe Islands

شمالی بحرِ اوقیانوس میں واقع فیرو جزائر میں سالانہ روایتی شکار ’’گرائنڈ‘‘ کے دوران ۷۰۰؍ سے زائد پائلٹ وہیل اور ڈولفنوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ خون سے سرخ سمندر اور ساحل پر پڑی لاشوں کی تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ناقدین اس روایت کو ظالمانہ اور فرسودہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ مقامی حکام اسے ثقافتی ورثے اور خوراک کے اہم ذریعہ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ڈنمارک کے خودمختار علاقے Faroe Islands میں سالانہ روایتی شکار ’’گرائنڈ‘‘ کے دوران سیکڑوں وہیل اور ڈولفنوں کو ہلاک کیے جانے کے بعد ایک بار پھر عالمی سطح پر بحث چھڑ گئی ہے۔ اس شکار کے دوران سمندر کے پانی کے سرخ ہونے اور ساحلوں پر جانوروں کی لاشوں کے ڈھیر لگنے کی تصاویر نے جانوروں کے حقوق کے کارکنوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ مقامی طور پر ’’گرائنڈ‘‘ کہلانے والی اس روایت کی جڑیں تقریباً ایک ہزار سال پرانی وائکنگ ثقافت میں پیوست ہیں۔ اس عمل کے دوران پائلٹ وہیل اور ڈولفنوں کے جھنڈ کو کشتیوں کی مدد سے گہرے سمندر سے ساحل کی جانب ہانکا جاتا ہے، جہاں انہیں ہلاک کر کے گوشت حاصل کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی تاریخ میں اس سے زیادہ بدعنوان صدر نہیں دیکھا: الہان عمرکا ٹرمپ پرسخت حملہ

عالمی سمندری تحفظ کی تنظیم Sea Shepherd کے مطابق ۲۷؍ مئی کو مختلف مقامات پر مجموعی طور پر ۷۰۶؍ جانور مارے گئے۔ ان میں ۴۰۲؍ پائلٹ وہیل، چار بوتل نوز ڈولفن اور ۳۰۰؍ سے زائد سفید رخی ڈولفن شامل تھیں۔ تنظیم کی فیرو جزائر مہم کی ڈائریکٹر ویلنٹینا کرسٹ نے اس دن کے مناظر کو ’’خالص افراتفری‘‘ قرار دیتے ہوئے یورپی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس روایت کے خاتمے کے لیے اقدامات کریں۔ جانوروں کے حقوق کی تنظیم PETA کی نائب صدر ایلیسا ایلن نے کہا کہ ’’جانور درد سے چیختے ہیں، پورے خاندانوں کو ایک ساتھ ذبح کر دیا جاتا ہے اور بعض جانور گھنٹوں تک اپنے ہی خاندان کے خون میں تیرتے رہتے ہیں۔ وہیل اور ڈولفن انتہائی ذہین مخلوق ہیں اور انسانوں کی طرح درد اور خوف محسوس کرتی ہیں۔‘‘

جانوروں کے حقوق کے کارکنوں کا مؤقف ہے کہ جدید دور میں اس طرح کی روایت کی کوئی ضرورت نہیں رہی اور یہ عمل غیر ضروری طور پر ظالمانہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہیل اور ڈولفن سماجی اور حساس جانور ہیں، جنہیں اس طریقے سے شکار کرنا اخلاقی طور پر ناقابل قبول ہے۔ دوسری جانب فیرو جزائر کے حکام اور شکار کے حامی اس روایت کا دفاع کرتے ہیں۔ ان کے مطابق وہیلنگ مقامی ثقافت اور شناخت کا ایک اہم حصہ ہے اور جزائر کی آبادی کے لیے مفت خوراک فراہم کرتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ شکار کے عمل کو سخت ضوابط کے تحت انجام دیا جاتا ہے اور جانوروں کو کم سے کم تکلیف پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ شمالی بحرِ اوقیانوس میں پائلٹ وہیل کی آبادی مستحکم اور صحت مند ہے، اس لیے اس شکار سے ان کی مجموعی تعداد کو خطرہ لاحق نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: جنوبی کوریا: بلدیاتی انتخابات میں حکمراں ڈیموکریٹک پارٹی کو اکثریت

تنازعے کے درمیان فیرو جزائر کی پارلیمنٹ نے حال ہی میں متفقہ طور پر ایک قانون منظور کیا ہے جس کے تحت شکار میں شامل افراد کو جانوروں کی فلاح و بہبود سے متعلق بعض قانونی کارروائیوں سے تحفظ حاصل ہوگا۔ اس اقدام کو ناقدین نے جانوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک دھچکا قرار دیا ہے۔ یہ روایت ہر سال عالمی سطح پر شدید تنقید کا باعث بنتی ہے، لیکن مقامی آبادی کا ایک بڑا طبقہ اب بھی اسے اپنے ثقافتی ورثے اور طرزِ زندگی کا لازمی حصہ سمجھتا ہے، جس کے باعث اس تنازعے کے جلد ختم ہونے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK