مہلوکین میں مراکش اور الجزائر سے تعلق رکھنے والی ۲؍ خواتین شامل ،حوثیوں نے شاہ خالد اورابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا، شام کا سعودی عرب کی مدد کرنے پر غور۔
EPAPER
Updated: October 09, 2026, 2:45 PM IST | Agency | Riyadh
مہلوکین میں مراکش اور الجزائر سے تعلق رکھنے والی ۲؍ خواتین شامل ،حوثیوں نے شاہ خالد اورابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا، شام کا سعودی عرب کی مدد کرنے پر غور۔
سعودی عرب اور یمن کے حوثی باغیوں کے مابین لڑائی شدید ہوتی جارہی ہے۔یمن میںجہاںحوثیوں کے ٹھکانوںپر یمنی کی سرکاری فوج اورسعودی عرب کی قیادت میں اتحادی افواج کےحملے جاری ہیںوہیںحوثیوں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئےسعودی عرب کے ۲؍ ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا جس میں۳؍ شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔اس دوران ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ شام سعودی عرب کی مدد کیلئے اپنے فوجی تعینات کرنے پر غورکر رہا ہے۔
سعودی حکام کے مطابق رواں ہفتے ریاض اور ابہا کے ہوائی اڈوں پر حملوں میں ۳؍ افراد جاں بحق ہوئے۔سعودی عرب کی جنرل اتھاریٹی آف سول ایوی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ منگل اور بدھ کو ابہا اور کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹس کو دو حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جن میں دونوں ہوائی اڈوں کی تنصیبات کو ہدف بنایا گیا۔اتھاریٹی کے بیان کے مطابق ہنگامی ٹیموں اور متعلقہ اداروں نے حملوں کے فوراً بعد منظور شدہ طریقہ کار اور ہنگامی منصوبوں کے تحت کارروائی شروع کردی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں مراکش اور الجزائر سے تعلق رکھنے والی دو خواتین جاں بحق جبکہ۲۸؍ شہری اور مقامی افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں بنگلہ دیش اور فلپائن سے تعلق رکھنے والے دو افراد بھی شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں کچھ کی حالت خطرے سے باہر ہے تو کچھ کی نازک ہے۔ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں سوڈانی شہری جاں بحق جبکہ۸؍ افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں ۵؍ سعودی شہری، مصر سے تعلق رکھنے والے ۲؍افراد اور ایک پاکستانی شہری شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کشمیری فلم ساز عرفات شیخ امریکی امیگریشن حراست سے ضمانت پر رہا
جنرل اتھاریٹی آف سول ایوی ایشن کے بیان کے مطابق تمام زخمیوں کو ضروری طبی امداد کیلئے اسپتال منتقل کردیا گیا جبکہ دونوں حملوں کے نتیجے میں بعض مالی نقصانات بھی ہوئے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ سول ایوی ایشن اتھاریٹی متعلقہ سیکوریٹی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور مکمل تعاون کے ذریعے نقصانات کا جائزہ لے رہی ہے اور مسافروں و عملے کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ مملکت میں شہری ہوا بازی کے نظام کی سلامتی اور تحفظ برقرار رکھا جاسکے۔
امریکی اور شامی حکام کے مطابق شام سعودی عرب کو فوجی مدد فراہم کرنے کے امکان پر محتاط انداز میں غور کر رہا ہے۔ اس میں سعودی عرب کو حملوں سے بچانے کے لیے دفاعی تعاون فراہم کرنا یا جارحانہ کارروائیوں کیلئے شامی فوج کو تعینات کرنا شامل ہے، تاکہ سعودی حمایت یافتہ یمن کی سرکاری فوج کو حوثیوں کے خلاف لڑائی میں مدد دی جا سکے۔جمعرات کی صبح ریاض میں کئی زور دار دھماکے بھی سنے گئے۔ حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا۔ سعودی حکام نے فوری طور پر اس دعوے پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
امریکی اور شامی حکام کے مطابق شام مختلف فوجی آپشنز پر غور کر رہا ہے۔ سعودی عرب نے ترکی اور پاکستان سمیت اپنے اتحادی ممالک سے بھی مدد طلب کی ہے، چاہے یہ تعاون صرف لاجسٹک یا دفاعی نوعیت کا ہی کیوں نہ ہو۔
۱۸۶۰؍حوثی غیر فعال کئے گئے
یمنی حکومت کی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ باغی حوثی گروپ کے زیر قبضہ علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر شروع کیے گئے جوابی حملوں کے بعد سے۱۸۶۰؍حوثی جنگجوؤں کو غیر مؤثر کیا جاچکا ہے ۔ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی فوج کے ترجمان نے جمعرات کی صبح سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا کہ جاری ’ڈان آف یمن ‘آپریشن کے تحت مختلف محاذوں پر حوثیوں کے فوجی ٹھکانوں کے خلاف۲۱۰۳؍ درست نشانہ بنانے کی کارروائیاں کی گئیں۔