گیانیش کمار سے استعفےٰ لے لینا حکومت کیلئے آسان نہیں رہ گیا ہے۔ اس استعفے کیلئے پورے ملک میں احتجاج کا جو ماحول پیدا ہوا اور اس کی وجہ سے سرکار پر جتنا دباؤ پڑا، اس کے پیش نظر ہم سوچ سکتے ہیں کہ حکومت کیلئے کیا اور کتنی مشکل ہے ورنہ دھرمیندر پردھان کے ساتھ گیانیش کمار کو بھی کھڑا کیا جاسکتا تھا مگر حکومت کیلئے مشکل یہ آن پڑی ہے کہ گیانیش کمار کا استعفےٰ لینے کا معنی ہوگا الیکشن میں ہونے والی بے ضابطگی، جانبداری اور مستحق شہریوں سے ووٹوں کا حق چھین لینے کو قبول کر لینا۔
راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی۔ تصویر: آئی این این
گیانیش کمار سے استعفےٰ لے لینا حکومت کیلئے آسان نہیں رہ گیا ہے۔ اس استعفے کیلئے پورے ملک میں احتجاج کا جو ماحول پیدا ہوا اور اس کی وجہ سے سرکار پر جتنا دباؤ پڑا، اس کے پیش نظر ہم سوچ سکتے ہیں کہ حکومت کیلئے کیا اور کتنی مشکل ہے ورنہ دھرمیندر پردھان کے ساتھ گیانیش کمار کو بھی کھڑا کیا جاسکتا تھا مگر حکومت کیلئے مشکل یہ آن پڑی ہے کہ گیانیش کمار کا استعفےٰ لینے کا معنی ہوگا الیکشن میں ہونے والی بے ضابطگی، جانبداری اور مستحق شہریوں سے ووٹوں کا حق چھین لینے کو قبول کر لینا۔ حکومت کبھی نہیں چاہے گی کہ ان چیزوں کا اعتراف کرے کیونکہ اس کی وجہ سے کئی انتخابات، جو بی جے پی نے جیتے، ان پر حرف آئے گا اور اس مطالبہ کے ساتھ از سر نو احتجاج شروع ہوسکتا ہے کہ ان انتخابات کو منسوخ کیا جائے اور ان کی بنیاد پر قائم ہونے والی حکومتوں کو برخاست کیا جائے۔
اس کی زد مغربی بنگال کے انتخابات اور بعد ازاں قائم ہونے والی حکومت پر بھی پڑے گی اور مہاراشٹر نیز دیگر ریاستیں بھی ایسے کسی فیصلے سے متاثر ہوں گی یہی وجہ ہے کہ حکومت اتنے احتجاج کا سامنا کر رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکمراں طبقہ بڑی بے بسی کے ساتھ دیکھ رہا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اپوزیشن کو زیادہ موقع مل رہا ہے۔ وہ سرخیوں میں بھی ہے اور عوام کی توجہ اپنی جانب مرکوز رکھنے میں کامیاب بھی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایس آئی آر، احتجاج اور پریشانیاں
حد تو یہ ہوئی ہے کہ وہ تمام ٹی وی چینل جو اپوزیشن کو کبھی اہمیت نہیں دیتے تھے کھڑ کے، راہل پرینکا، اکھلیش اور دیگر لیڈروں کو روزانہ جگہ دے رہے ہیں۔ کل تک کہا جاتا تھا کہ اپوزیشن اپنی موجودگی کا ثبوت نہیں دیتا۔ یہ بھی کہا جاتا تھا کہ اپوزیشن کے پاس کوئی موضوع نہیں ہے مگر ایس آئی آر کی شکل میں اپوزیشن کے ہاتھ اتنا بڑا موضوع لگ گیا ہے اور اپوزیشن اسے اتنی شدومد کے ساتھ اٹھا رہا اور بھنانے کی کوشش کررہا ہے کہ اس کی آواز ملک کے کونے کونے تک پہنچ رہی ہے۔ چونکہ عوام ایس آئی آر کی وجہ سے خود بھی پریشان ہوئے ہیں اس لئے وہ اس موضوع کے ساتھ بلاواسطہ جڑ رہے ہیں۔ اپوزیشن کی آواز انہیں اپنی ترجمانی محسوس ہو رہی ہے۔
انڈیا اتحاد کے اراکین پارلیمان نے پہلے دن الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ کی کوشش کی مگر انہیں روک دیا گیا، دوسرے دن جنتر منتر تک جانا چاہا مگر اس کی بھی اجازت نہیں دی گئی، راہل اور پرینکا آکاش وانی بھون پہنچ گئے اور کئی گھنٹے دھرنا دیا۔ تیسرے دن اپوزیشن کے اراکین نے راج گھاٹ جانے کا اعلان کیا۔ تب تک حکومت کو احساس ہوگیا تھا کہ روکنے سے اپوزیشن کو زیادہ موقع ملتا ہے اسلئے تیسرے دن پولیس نے روک ٹوک نہیں کی۔ ویسے بھی راج گھاٹ جانے سے روکنا درست نہ ہوتا۔ آج، چوتھے دن اپوزیشن کے اراکین صدر جمہوریہ سے ملاقات کیلئے جائینگے۔ مختصر یہ کہ اپوز یشن کی بن آئی ہے، اسے خوب موقع مل رہا ہے اور حکمراں طبقہ اصل موضوع سے چشم پوشی کررہا ہے۔