Updated: October 09, 2026, 1:58 PM IST
| Washington
ایوارڈ یافتہ کشمیری فلم ساز عرفات شیخ کو امریکہ میں امیگریشن حکام نے ضمانت پر رہا کردیا ہے، تاہم ان کے خلاف ملک بدری کا مقدمہ جاری ہے۔ شیخ کو ۲۴؍ ستمبر کو واشنگٹن ڈلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کی فلم ’سیفران کنگڈم‘ میں کشمیر کے تنازع اور کشمیری خاندان کی کہانی کو پیش کیا گیا ہے۔
ایوارڈ یافتہ کشمیری فلم ساز عرفات شیخ کو امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کی حراست سے ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے۔ ان کے دوستوں اور رشتہ داروں کی جانب سے رہائی کے لیے چلائی جانے والی مہم کے ایک بیان کے مطابق، انہیں ۲۴؍ ستمبر کو حراست میں لیا گیا تھا۔ عرفات شیخ کی فلموں میں ان کے آبائی علاقے ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری تنازعات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ مہم کے مطابق، انہیں کیلیفورنیا سے آنے والی ایک پرواز سے اترنے کے بعد واشنگٹن ڈلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امیگریشن حکام نے حراست میں لے لیا تھا۔ آئی سی ای، امریکی محکمۂ داخلی سلامتی کے ماتحت کام کرتا ہے۔ مہم نے بتایا کہ منگل کو شیخ کی ضمانت منظور ہوئی اور جمعرات کو انہیں رہا کردیا گیا۔ تاہم، ان کے خلاف ملک بدری کا مقدمہ بدستور جاری ہے۔ مہم کے مطابق، ورجینیا کے شہر الیگزینڈریا میں رہنے والے شیخ ۲۰۱۹ء میں طلبہ ویزا پر امریکہ آئے تھے، جہاں انہوں نے جارجیا اسٹیٹ یونیورسٹی میں فلم کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ انہوں نے ۲۰۲۰ء میں سیاسی پناہ کی درخواست دائر کی تھی۔ مہم کا کہنا ہے کہ شیخ کی امیگریشن سے متعلق درخواست زیرِ التوا تھی اور انہیں امریکہ میں رہنے اور کام کرنے کی اجازت حاصل تھی۔
یہ بھی پڑھئے: فرانس: عدالت نے مسلم طلبہ کے زیر تعلیم اسکول پر ۶؍ ماہ کی پابندی برقرار رکھی
امریکی محکمۂ داخلی سلامتی نے بدھ کو بتایا کہ شیخ کو ۲۴؍ ستمبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ محکمہ نے کہا کہ شیخ ’’عارضی طور پر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہوئے تھے، لیکن اجازت کی مدت ختم ہونے کے بعد غیر قانونی طور پر وہیں مقیم رہے۔‘‘ محکمۂ داخلی سلامتی کے مطابق، کسی درخواست کا زیرِ التوا ہونا امریکہ میں قانونی حیثیت فراہم نہیں کرتا، تاہم شیخ کو قانونی کارروائی میں اپنا مؤقف پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے گا۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اگست میں کہا تھا کہ وہ ایسے غیر ملکیوں کے غیر تارکینِ وطن ویزے منسوخ کرنے کی نشاندہی اور کارروائی کر رہی ہے، جو مختصر مدت کے لیے امریکہ آنے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن بعد میں مستقل طور پر قیام کرنے کے لیے سیاسی پناہ کی درخواست دائر کردیتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے امیگریشن کے خلاف سخت کارروائیوں اور ملک بدری کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ملک کی داخلی سلامتی کو بہتر بنانا ہے۔ تاہم، حقوقِ انسانی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں سے قانونی عمل اور آزادیٔ اظہار کے حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور ایک غیر محفوظ ماحول پیدا ہوا ہے۔ ان کے مطابق، خاص طور پر نسلی اقلیتوں کو تشویش ہے کہ انہیں نسلی بنیادوں پر نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
فلم ’’سیفران کنگڈم‘‘
عرفات شیخ کی پہلی فیچر فلم ’’سیفران کنگڈم‘‘ ۲۰۲۴ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم نے شکاگو فلم میکرز ایوارڈز، لاس اینجلس فلم اینڈ ڈاکیومنٹری ایوارڈز، میلبورن انڈیپنڈنٹ فلم فیسٹیول اور ویک فاریسٹ فلم فیسٹیول میں بہترین فیچر فلم کا ایوارڈ حاصل کیا۔ شیخ کو ٹینیک انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں ’ایمرجنگ فلم میکر ایکٹوسٹ ایوارڈ‘ سے بھی نوازا گیا۔ ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے شیخ کی فلم میں ۱۹۹۰ء کی دہائی میں سری نگر سے ۲۰۱۹ء میں اٹلانٹا تک ایک خاندان کے سفر کے ذریعے کشمیر کے تنازع کو پیش کیا گیا ہے۔ مسلم اکثریتی خطۂ کشمیر پر مکمل دعویٰ ہندوستان اور پاکستان دونوں کرتے ہیں، لیکن دونوں ممالک اس کے مختلف حصوں پر کنٹرول رکھتے ہیں اور اس علاقے پر جنگیں بھی لڑ چکے ہیں۔ ہندوستان نے اگست ۲۰۱۹ء میں کشمیر کی آئینی خودمختاری ختم کرکے اسے اپنے ساتھ ضم کرلیا تھا۔ واضح ہو کہ کشمیر کے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد حقِ خودارادیت کی حامی ہے، جس کا وعدہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں میں کیا گیا تھا۔ ان میں سے بعض مکمل آزادی، جبکہ بعض پاکستان کے ساتھ الحاق کے خواہش مند ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ، ۳؍ سال: ۱۰؍ اکتوبر کو ۶۰؍ ممالک میں احتجاج، ۲۰۰؍ سے زائد تنظیمیں متحرک
مئی ۲۰۲۵ء میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان میزائلوں، لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور دیگر ہتھیاروں کے استعمال کے ساتھ مختصر جنگ ہوئی، جس کے بعد امریکہ نے مداخلت کی۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس فوجی کشیدگی کے دوران جنگ بندی کرانے میں مدد دینے کا دعویٰ کیا تھا۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بعد میں عوامی طور پر ان کی کوششوں کی تعریف کی، جبکہ ہندوستان کا مؤقف تھا کہ جنگ بندی براہِ راست دوطرفہ فوجی رابطوں کے ذریعے ہوئی اور اس میں ٹرمپ کا کوئی کردار نہیں تھا۔
۱۹۹۰ء کی دہائی میں ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں پرورش پانے والے عرفات شیخ نے ۲۰۲۴ء میں ’ٹی آر ٹی ورلڈ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ان کی فلم ’سیفرن کنگڈم‘ اس خواہش سے وجود میں آئی کہ وہ اپنی قوم کی کہانی کو دوبارہ اپنے نقطۂ نظر سے پیش کریں، کیونکہ ہندوستانی سنیما میں اکثر کشمیریوں کو منفی انداز میں دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ فلم ہماری کہانی پر بالی ووڈ کی بالادستی کو ختم کرنے کی میری کوشش ہے۔ اس کا مقصد ان جھوٹ کو بے نقاب کرنا ہے جو برسوں سے پھیلائے جاتے رہے ہیں۔‘‘ انٹرویو میں شیخ نے اپنے بچپن کی ایک تکلیف دہ یاد بھی بیان کی۔ ان کے مطابق، ایک مرتبہ ہندوستانی فوج کی جانب سے ان کے چچا پر تشدد کیے جانے کے دوران انہیں اپنے خاندان کے ساتھ ایک کمرے میں بند رہنا پڑا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد، جو کشمیری موسیقی کی ایک معروف شخصیت تھے، ہندوستان کی شمالی ریاست پنجاب کا سفر کرتے ہوئے قتل کردیے گئے تھے۔ شیخ نے کہا، ’’ان کی موت کی خبر اخبارات میں شائع ہوئی، لیکن ہر اخبار میں واقعے کی الگ کہانی تھی۔ ہمیں ان کی لاش تک نہیں دی گئی۔‘‘